Thursday, September 24, 2026
FB
تازہ ترین

شہباز شریف کی یورپی یونین قیادت سے ملاقات، جی ایس پی پلس اور تجارتی روابط پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی معیشت، روزگار اور یورپی منڈیوں تک رسائی کے لیے جی ایس پی پلس کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے یورپی یونین کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

شہباز شریف کی یورپی یونین قیادت سے ملاقات، جی ایس پی پلس اور تجارتی روابط پر زور

شہباز شریف کی یورپی یونین قیادت سے اہم ملاقات

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس دا کوستا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا گیرٹروڈ وان ڈیر لیین سے ملاقات کے دوران پاکستان کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ وسیع البنیاد شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات پر گفتگو

ملاقات میں دونوں جانب سے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری معلومات کے مطابق رہنماؤں نے اعلیٰ سطحی رابطوں میں حالیہ پیش رفت اور دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید سمت اور رفتار دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

جی ایس پی پلس کی اہمیت اجاگر

وزیراعظم نے ملاقات میں یورپی یونین کے جی ایس پی پلس تجارتی فریم ورک کو خصوصی اہمیت دی۔

ان کے مطابق جی ایس پی پلس پاکستان کی اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور یورپی یونین کے ساتھ تجارت کے لیے اہم ہے۔ وزیراعظم نے اس فریم ورک کے تحت یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان 2014 سے جی ایس پی پلس کے تحت تجارتی ترجیحات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس انتظام کے تحت بیشتر مصنوعات کے لیے ٹیرف میں نمایاں رعایتیں فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو انسانی و مزدور حقوق، ماحولیات اور اچھی حکمرانی سے متعلق 27 بنیادی بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق اور مؤثر عمل درآمد برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

یورپی منڈی پاکستانی تجارت کے لیے کیوں اہم ہے؟

یورپی یونین پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق 2025 میں یورپی یونین پاکستان کی مجموعی تجارت کا 14.1 فیصد حصہ رکھتی تھی، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان اشیا کی باہمی تجارت کا حجم 12.2 ارب یورو رہا۔

پاکستانی برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا اہم حصہ ہے اور جی ایس پی پلس کے تحت ان سمیت متعدد پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈی میں ترجیحی ٹیرف حاصل ہوتا ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق 2024 میں جی ایس پی پلس کے تحت ٹیرف میں رعایت کے اہل پاکستانی برآمدات میں سے 88 فیصد سے زیادہ نے ترجیحی شرحوں پر یورپی منڈی میں داخلہ حاصل کیا۔

جی ایس پی پلس کے مستقبل کا معاملہ

موجودہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یورپی یونین اپنے تجارتی ترجیحات کے نئے نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

یورپی کمیشن نے اپریل 2026 میں نئے جی ایس پی نظام کی منظوری سے متعلق بتایا تھا کہ نیا فریم ورک یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے کی سمت میں ہے۔ نئے نظام میں تجارتی ترجیحات کے ساتھ انسانی و مزدور حقوق، ماحولیات، موسمیاتی امور اور اچھی حکمرانی سے متعلق تقاضوں کی نگرانی کو مزید اہمیت دی گئی ہے۔

پاکستان اور یورپی یونین نے جون 2026 میں ہونے والے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران بھی جی ایس پی پلس کے تحت تعاون جاری رکھنے کی اہمیت تسلیم کی تھی۔ یورپی فریق نے نئے جی ایس پی ضابطے کے بارے میں بریفنگ دی جبکہ پاکستان نے نئے نظام میں شامل ہونے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ دونوں جانب سے متعلقہ شرائط پوری کرنے کے لیے رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات صرف جی ایس پی پلس تک محدود نہیں ہیں۔ دونوں فریق تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، سلامتی، ہجرت، پائیدار ترقی اور رابطہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی بات کرتے رہے ہیں۔

جون 2026 میں اسلام آباد میں پہلا یورپی یونین پاکستان بزنس فورم منعقد ہوا تھا، جس میں دونوں جانب کے کاروباری حلقوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ اسی موقع پر یورپی یونین پاکستان بزنس نیٹ ورک بھی شروع کیا گیا تھا تاکہ اقتصادی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق تجارتی تعلقات کو صرف موجودہ ترجیحات تک محدود رکھنے کے بجائے کاروباری اور سرمایہ کاری روابط کو بھی وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عالمی اور علاقائی امور بھی زیر بحث

ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق دونوں جانب سے مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

وزیراعظم نے یورپی کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دہرائی اور یورپی قیادت کے ساتھ قریبی رابطہ جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کی اہمیت

پاکستان کے لیے یورپی منڈی میں ترجیحی تجارتی رسائی برآمدات کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔ خصوصاً ٹیکسٹائل اور ملبوسات سمیت متعدد شعبوں کے لیے یورپی منڈی پاکستانی کاروبار اور برآمد کنندگان کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے۔

تاہم جی ایس پی پلس کے فوائد کے ساتھ متعلقہ بین الاقوامی معیارات اور شرائط پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ یورپی یونین کے مطابق پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت انسانی و مزدور حقوق، ماحولیات اور اچھی حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کے مؤثر نفاذ کی نگرانی سے منسلک ہے۔

اسی لیے پاکستان کے لیے یورپی یونین کے ساتھ مسلسل سفارتی اور اقتصادی رابطہ تجارت کے ساتھ ساتھ متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے تناظر میں بھی اہم ہے۔

آئندہ تعاون کے امکانات

وزیراعظم شہباز شریف کی تازہ ملاقات اور جون میں ہونے والے اسٹریٹجک ڈائیلاگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے جاری ہیں۔

آنے والے عرصے میں جی ایس پی کے نئے نظام کے تحت پاکستان کی پوزیشن، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط دونوں فریقوں کے اقتصادی ایجنڈے میں اہم موضوعات رہ سکتے ہیں۔ تاہم ان معاملات کی حتمی پیش رفت متعلقہ مذاکرات، شرائط اور یورپی یونین کے آئندہ تجارتی فریم ورک کے تحت ہونے والے فیصلوں سے وابستہ ہوگی۔

نتیجہ

وزیراعظم شہباز شریف کی یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تجارت بڑھانے اور جی ایس پی پلس کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔ پاکستان نے یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر عمل درآمد اور تجارتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جی ایس پی پلس کے موجودہ اور آئندہ فریم ورک کے تناظر میں پاکستان کے لیے یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی اور متعلقہ شرائط پر عمل درآمد دونوں اہم معاملات ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!