Saturday, September 26, 2026
FB
تازہ ترین

شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں دوٹوک مؤقف، پاکستان کے پانی میں رکاوٹ کو جنگی اقدام قرار دے دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو بدستور مؤثر، پابند اور قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے پانی کو سیاسی یا جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی۔

شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں دوٹوک مؤقف، پاکستان کے پانی میں رکاوٹ کو جنگی اقدام قرار دے دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے پانی کے معاملے پر واضح اور سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس کے پانی اور معاہدے کی حیثیت سے متعلق شدید اختلافات موجود ہیں۔ شہباز شریف نے عالمی فورم پر پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے اور دریاؤں کو قوموں کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں، انہیں تقسیم یا تنازع کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

اقوام متحدہ میں پانی کے معاملے پر واضح پیغام

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ طاس کا مشترکہ نظامِ آب پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کو پاکستان جنگی اقدام کے طور پر دیکھے گا۔

انہوں نے بھارت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعظم کے مطابق پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے کیونکہ دریاؤں کا مقصد قوموں کو زندگی اور وسائل فراہم کرنا ہے۔

سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف

شہباز شریف نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور مکمل طور پر قابلِ عمل ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے کو قانونی بنیاد سے محروم قرار دیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین اور حالیہ ثالثی عدالت کی کارروائی سے پاکستان کے اس مؤقف کی تائید ہوئی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی حیثیت برقرار ہے۔ یہ مؤقف پاکستان کی جانب سے پہلے بھی مختلف عالمی فورمز پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

پانی کو ہتھیار بنانے کی مخالفت

وزیراعظم نے عالمی برادری کے سامنے پانی کو سیاسی دباؤ یا تنازع کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی۔ ان کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ دریائی پانی خطے کے عوام کی زندگی، زراعت اور معاشی سرگرمیوں سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

پاکستان دریائے سندھ کے نظام پر اپنی زرعی، معاشی اور روزمرہ ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے انحصار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے پانی کی دستیابی اور سندھ طاس معاہدے کی حیثیت پاکستان کے لیے ایک اہم قومی معاملہ ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازع

پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس کے پانی سے متعلق معاملات کئی دہائیوں سے علاقائی سفارت کاری کا اہم موضوع رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 1960 میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دریاؤں کے پانی کے استعمال سے متعلق ایک نظام قائم کیا گیا۔

حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کے باعث اس معاہدے سے متعلق اختلافات بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں اسی پس منظر میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا اور عالمی برادری کو پانی کے معاملے کی حساسیت سے آگاہ کیا۔

عالمی برادری کے لیے وزیراعظم کا پیغام

شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ پانی کو جنگی یا سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے انسانی ضرورت اور علاقائی تعاون کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان کی جانب سے پانی کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا بھی ہے کہ دریائی پانی سے متعلق فیصلوں کے اثرات صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کی زراعت، خوراک، معیشت اور انسانی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں کشیدگی کا پس منظر

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کو خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ جنگ کے دہانے تک نہیں پہنچنا چاہیے۔

انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے دفاعی مؤقف کو بھی بیان کیا اور کہا کہ خطے میں مستقبل کی کشیدگی سے بچنے کے لیے سفارت کاری اور مسئلے کے حل کی کوششیں ضروری ہیں۔

پانی، زراعت اور پاکستان کی معیشت

پاکستان کی معیشت میں زرعی شعبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور ملک کا وسیع زرعی نظام دریاؤں اور آبپاشی کے نیٹ ورک سے منسلک ہے۔ اس تناظر میں پانی کی دستیابی پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور غذائی تحفظ سے بھی متعلق ہے۔

پانی کے بہاؤ میں بڑی رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال زرعی منصوبہ بندی، فصلوں کی پیداوار اور دیہی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے پاکستان نے عالمی سطح پر سندھ طاس کے نظام اور اپنے حصے کے پانی کے تحفظ کو اہم معاملہ قرار دیا ہے۔

وزیراعظم کا وسیع تر اقوام متحدہ خطاب

وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب صرف پانی کے معاملے تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے کشمیر، دہشت گردی، افغانستان، فلسطین، مشرق وسطیٰ، عالمی معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ میں اصلاحات سمیت مختلف عالمی اور علاقائی معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے عالمی امن اور سفارت کاری پر بھی زور دیا اور کہا کہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

پانی کے معاملے پر آئندہ کی اہمیت

وزیراعظم کے تازہ بیان کے بعد سندھ طاس کے پانی کا معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات میں مزید اہم موضوع کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار ہے اور اس کے تحت پاکستان کے پانی کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔

دوسری جانب پانی سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے کے علاقائی اثرات کو دیکھتے ہوئے اس معاملے پر عالمی اداروں اور متعلقہ فریقوں کی توجہ بھی اہم رہے گی۔ موجودہ صورتحال میں قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورمز پر ہونے والی پیش رفت اس تنازع کی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے پانی کے حق سے متعلق واضح مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو مؤثر اور قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔

وزیراعظم کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان پانی کے مسئلے کو قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں ایک اہم معاملہ سمجھتا ہے۔ آنے والے عرصے میں سندھ طاس معاہدے اور پاکستان و بھارت کے درمیان پانی سے متعلق سفارتی و قانونی پیش رفت اس معاملے کی اہمیت برقرار رکھے گی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!