بلاول بھٹو کا افغانستان سے ڈرون حملوں پر ردعمل
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی ڈرون دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
26 ستمبر 2026 کو جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے سکیورٹی حکام کی جانب سے ڈرون حملے ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کے مطابق پاکستان میں داخل ہونے والے تمام 8 ڈرونز کو اپنے ممکنہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ناکام بنا دیا گیا۔
افغان حکام سے وضاحت اور کارروائی کا مطالبہ
بلاول بھٹو زرداری نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ وضاحت کریں کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملے کیسے ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی ذمہ داری صرف ان حملوں سے لاتعلقی ظاہر کرنا نہیں بلکہ ایسے حملوں کو روکنا اور ان کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کرنا بھی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، کیونکہ پائیدار امن کے لیے سرحد پار حملوں کی روک تھام ضروری ہے۔
پاکستان کی جوابی کارروائی کا حوالہ
بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے جوابی کارروائی کے دوران افغانستان میں ڈرون لانچ اور ذخیرہ کرنے والے 10 مقامات کو نشانہ بنایا۔
پاکستانی حکام نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ افغانستان سے آنے والے ڈرونز کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے شناخت، ٹریک اور ناکام بنایا، جس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی۔
یہ معاملہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کی سرزمین کے حوالے سے الزامات اور جوابی مؤقف سامنے آتے رہے ہیں۔
خطے کی سکیورٹی صورتحال
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سکیورٹی صورتحال حالیہ دنوں میں مزید حساس ہوئی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کو روکا جانا چاہیے، جبکہ افغان حکام پاکستان کی بعض فوجی کارروائیوں پر اعتراضات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 21 ستمبر 2026 کو پاکستان نے مشرقی افغانستان میں مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی کی تھی۔ پاکستان نے 28 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جبکہ افغان حکام نے شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی۔
اس پس منظر میں ڈرون حملوں کا معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
پائیدار امن کے لیے مطالبہ
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق افغان حکومت کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
ان کے بیان میں یہ مؤقف بھی نمایاں تھا کہ صرف حملوں سے لاتعلقی کافی نہیں بلکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام بھی ضروری ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر اثرات
ڈرون حملوں اور سرحد پار عسکری کارروائیوں کے الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سکیورٹی مسائل پہلے ہی نمایاں ہیں۔
ایسی صورتحال میں سرحدی واقعات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور علاقائی امن کے لیے اضافی چیلنج پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم مستقبل کی صورتحال کا انحصار دونوں حکومتوں کے اقدامات، سکیورٹی معاملات پر رابطوں اور سرحد پار کارروائیوں کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر ہوگا۔
نتیجہ
بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان سے پاکستان میں ڈرون دراندازی کو ملکی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے افغان حکام سے حملوں کی روک تھام اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ان ڈرون حملوں کو ناکام بنانے اور افغانستان میں 10 مقامات کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی تصدیق کر چکا ہے۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی کشیدگی ایک اہم علاقائی مسئلہ بنی ہوئی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی روک تھام اور سفارتی رابطے آئندہ پیش رفت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!