ریاض کی جانب دو ڈرونز، سعودی دفاعی نظام نے روک لیے
ریاض: سعودی قیادت میں یمن میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کی سمت بھیجے گئے دو ڈرونز کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی روک کر تباہ کردیا۔
رائٹرز کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ہفتہ 26 ستمبر کو بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے مملکت کی طرف متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن میں دو ڈرون ریاض کی سمت بھیجے گئے تھے۔ اتحاد کے مطابق دونوں ڈرونز کو روک دیا گیا۔
ریاض کی طرف آنے والے ڈرونز کا راستہ روکا گیا
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی فضائی دفاع نے ریاض کی سمت آنے والے دونوں ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔ سعودی حکام کی جانب سے واقعے میں کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
رپورٹس کے مطابق سعودی حکام نے مملکت کی جانب آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات کی نگرانی جاری رکھنے کا بھی کہا ہے۔
دو بیلسٹک میزائل بھی روکنے کا دعویٰ
اسی دوران سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی طرف بھیجے گئے دو بیلسٹک میزائل بھی روکے گئے۔ اتحاد کے مطابق ان میزائلوں کا رخ خمیس مشیط کی جانب تھا، جبکہ دو ڈرون ریاض کی طرف بڑھ رہے تھے۔
سعودی عرب میں حالیہ دنوں کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 19 ستمبر کو بھی سعودی حکام نے ریاض کی طرف آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کی تصدیق کی تھی۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس میزائل کو سعودی فضائی دفاع نے تباہ کردیا تھا۔
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
یمن میں حوثی گروپ اور سعودی حمایت یافتہ قوتوں کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں سعودی عرب کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ نمایاں ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے جارہے ہیں، جبکہ حملوں کا سلسلہ خطے میں جاری وسیع تر کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل 24 ستمبر کو بھی سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔ حوثیوں نے اس دوران سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ان کے بعض دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون کا واقعہ بھی سامنے آچکا
رواں ماہ سعودی عرب نے مکہ مکرمہ کی جانب آنے والے ایک ڈرون کو بھی روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا گیا۔
تاہم حوثی سیاسی بیورو کے رکن حازم الاسد نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے سعودی دعوے کی تردید کی تھی۔ اس لیے مکہ کے واقعے سے متعلق دونوں فریقوں کے مؤقف کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
سعودی عرب میں فضائی دفاع پر دباؤ
مسلسل میزائل اور ڈرون خطرات کے باعث سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام پر بھی توجہ بڑھ گئی ہے۔ حالیہ واقعات میں سعودی دفاعی نظام نے مختلف سمتوں سے آنے والے میزائل اور ڈرونز کو روکنے کے دعوے کیے ہیں۔
19 ستمبر کو ریاض کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل کے واقعے میں سعودی حکام نے کہا تھا کہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور ریاض میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔
خطے کی صورتحال پر اثرات
ریاض جیسے اہم سیاسی اور اقتصادی مرکز کی جانب ڈرون یا میزائل بھیجے جانے کے واقعات خطے میں جاری کشیدگی کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ سعودی عرب خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے اپنے فضائی دفاع کو مسلسل فعال رکھے ہوئے ہے۔
رائٹرز کے مطابق موجودہ کشیدگی کا تعلق یمن کے تنازع کے ساتھ ساتھ خطے میں وسیع تر عسکری صورتحال اور بحیرہ احمر میں تجارتی سرگرمیوں سے بھی ہے۔
حوثیوں کے دعوے اور آزادانہ تصدیق
موجودہ واقعے میں دو ڈرونز کے ریاض کی جانب بھیجے جانے اور انہیں تباہ کرنے کی معلومات سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔ رائٹرز نے بھی اسی سرکاری بیان کی بنیاد پر واقعے کی رپورٹ دی ہے۔
اس رپورٹ کی تیاری تک حوثی گروپ کی جانب سے اس مخصوص واقعے کے بارے میں ایسا تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا جس سے سعودی اتحاد کے دعوے کی مکمل آزادانہ تصدیق یا تردید ہوسکے۔ اس لیے ڈرونز کے ہدف اور ان کے راستے سے متعلق معلومات کو سعودی اتحاد کے بیان کے طور پر بیان کرنا زیادہ مناسب ہے۔
نتیجہ
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف بھیجے گئے دو ڈرونز کو سعودی فضائی دفاع نے فضا میں روک کر تباہ کردیا۔ اسی کارروائی کے دوران دو بیلسٹک میزائلوں کو بھی روکنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کے واقعات دوبارہ نمایاں ہوگئے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سعودی حکام کی جانب سے فضائی خطرات کی نگرانی جاری رکھنے کی بات کی گئی ہے، جبکہ خطے میں وسیع تر کشیدگی کے اثرات بھی برقرار ہیں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!