Sunday, September 27, 2026
FB
تازہ ترین

اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت پر دہشت گردی کے الزامات کا جواب، بھارتی پالیسیوں پر سخت مؤقف

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات کے جواب میں بھارت پر بھی دہشت گردی کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے۔ پاکستانی نمائندہ سائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت نے پروپیگنڈے اور مبینہ طور پر گمراہ کن اطلاعات کو سفارت کاری کا حصہ بنا لیا ہے۔ بھارت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کے الزامات دہرائے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت پر دہشت گردی کے الزامات کا جواب، بھارتی پالیسیوں پر سخت مؤقف

اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت لفظی تبادلہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے نمائندوں کے درمیان دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے معاملے پر سخت مؤقف سامنے آیا۔ بھارتی نمائندے کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی اور حمایت کے الزامات کے بعد پاکستان نے اپنے حقِ جواب کا استعمال کرتے ہوئے بھارت پر بھی دہشت گردی اور تشدد سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے۔

پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں کونسلر سائمہ سلیم نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پروپیگنڈے کو ریاستی پالیسی اور مبینہ طور پر گمراہ کن اطلاعات کو سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بھارتی پالیسیوں کے اثرات خطے سے باہر تک پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان کا بھارتی الزامات پر ردعمل

پاکستانی نمائندہ نے بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت اور تشدد کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے۔

سائمہ سلیم نے اپنے جواب میں بھارت پر دہشت گردی برآمد کرنے اور خطے میں بالادستی کی حکمت عملی اختیار کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف دی جانے والی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس چیلنج کا طویل عرصے سے سامنا کیا ہے۔

پاکستان نے اپنے مؤقف میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا اور خطے میں انسانی حقوق اور سیاسی مسائل کو عالمی برادری کے سامنے اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بھارت کا پاکستان کے خلاف مؤقف

اس سے قبل بھارتی نمائندے نے جنرل اسمبلی میں پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت اور سرحد پار دہشت گردی سے وابستگی کے الزامات عائد کیے تھے۔

بھارت نے پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے معاملے پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرے گا۔ بھارتی حکام نے پاکستان میں موجود یا پاکستان سے وابستہ گروہوں پر بھارت میں حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی دہرائے۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی جنرل اسمبلی سے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ دہشت گردی کو معمول کی سرگرمی کے طور پر قبول کرنے کی کوششیں قابل قبول نہیں ہوں گی۔ انہوں نے بھارت کے اپنے دفاع کے حق پر بھی زور دیا۔

پاکستان نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کا حوالہ دیا

پاکستانی مؤقف میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی سمیت مسلح گروہوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔ پاکستانی نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ ان گروہوں کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں بھارتی حمایت حاصل رہی ہے۔

یہ الزامات پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سفارتی اختلافات کا حصہ ہیں اور دونوں ممالک دہشت گردی کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ موجودہ اجلاس میں بھی دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف کو عالمی فورم پر پیش کیا گیا۔

ان الزامات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے انہیں فریقین کے مؤقف اور دعووں کے طور پر رپورٹ کرنا ضروری ہے؛ اس خبر میں کسی فریق کے الزام کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

اقوام متحدہ میں کشمیر اور علاقائی کشیدگی بھی زیر بحث

پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود بنیادی سیاسی اختلافات میں جموں و کشمیر کا معاملہ بھی شامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کشمیر اور خطے میں امن کے معاملے کو اٹھایا، جبکہ بھارتی نمائندے نے پاکستان کے مؤقف کو مسترد کیا۔

دونوں ممالک نے 2025 میں ہونے والی شدید کشیدگی کے تناظر میں بھی ایک دوسرے کے مؤقف پر اعتراضات کیے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ بھارت نے دہشت گردی کے معاملے کو اپنی سلامتی پالیسی کا اہم مسئلہ قرار دیا۔

پاکستان کا اقوام متحدہ میں سفارتی مؤقف

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں پاکستان نے دہشت گردی کے معاملے کے ساتھ ساتھ عالمی امن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی زور دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستانی وزیراعظم نے علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو اہم قرار دیا جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان الزامات کا سلسلہ

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی سے متعلق الزامات اور جوابی الزامات کوئی نیا معاملہ نہیں۔ تاہم موجودہ اجلاس میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے اپنے مؤقف کو نسبتاً سخت الفاظ میں پیش کیا۔

پاکستان نے بھارت پر مبینہ ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور تشدد کا الزام عائد کیا، جبکہ بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کے الزامات دہرائے۔ دونوں جانب سے پیش کیے گئے یہ مؤقف سیاسی اور سفارتی تنازع کا حصہ ہیں اور فریقین ان کی اپنی اپنی تشریحات پیش کرتے ہیں۔

عالمی فورم پر سفارتی اثرات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پاکستان اور بھارت سمیت رکن ممالک کے لیے اپنے خارجہ پالیسی مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھنے کا اہم فورم ہے۔ موجودہ اجلاس میں دہشت گردی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بحث نے ایک مرتبہ پھر جنوبی ایشیا کی سلامتی اور باہمی تعلقات کو عالمی سفارتی بحث کا حصہ بنایا ہے۔

پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف اپنی قربانیوں اور بھارت سے متعلق اپنے الزامات کو عالمی سطح پر پیش کرنا اہم سفارتی پہلو ہے، جبکہ بھارت دہشت گردی کو اپنی قومی سلامتی کے تناظر میں عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے مؤقف کے درمیان واضح اختلاف موجود ہے۔

آگے کی صورتحال

جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی سطح پر کشمیر، دہشت گردی، پانی اور علاقائی سلامتی جیسے معاملات پر اختلاف برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال میں دونوں ممالک کے سرکاری بیانات اور اقوام متحدہ کے فورم پر ہونے والی آئندہ کارروائی اہم ہوگی۔

حالیہ اجلاس میں پاکستان نے بھارت کے الزامات کا براہ راست جواب دیا، جبکہ بھارت نے بھی اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے پاکستان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کیے۔ اس لیے آئندہ پیش رفت کو دونوں فریقوں کے سرکاری بیانات اور قابل اعتماد بین الاقوامی ذرائع کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہوگا۔

نتیجہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے بھارت پر بھی دہشت گردی اور تشدد کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے۔ بھارت نے پاکستانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات دہرائے۔ یوں اقوام متحدہ کے موجودہ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی، کشمیر اور علاقائی سلامتی سے متعلق اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!