Sunday, September 27, 2026
FB
تازہ ترین

سعودی عرب کی حوثی حملوں کی مذمت، خلیجی امن اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ پر زور

سعودی عرب نے حوثی حملوں اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خلیج، بحیرہ احمر اور باب المندب سمیت اہم بحری راستوں میں آزادانہ آمدورفت اور عالمی تجارت کا تحفظ یقینی بنائے۔

سعودی عرب کی حوثی حملوں کی مذمت، خلیجی امن اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ پر زور

سعودی عرب کا حوثی حملوں پر سخت مؤقف

سعودی عرب نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی سرزمین اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ بحری آمدورفت کا تحفظ عالمی ذمہ داری ہے۔ سعودی عرب نے آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تجارتی جہازوں اور بحری راستوں کا تحفظ

سعودی مؤقف کے مطابق بحیرہ احمر اور باب المندب میں حوثی حملے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تجارت اور سپلائی چینز کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری راستوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

حالیہ مہینوں میں بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے اطراف تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک تازہ تجزیے کے مطابق جولائی 2026 سے حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شدت اختیار کر چکا ہے، جس سے باب المندب کے ذریعے عالمی جہاز رانی کو مزید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔

سعودی عرب پر بھی حملوں میں اضافہ

حوثی حملوں کا ایک اہم پہلو سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں بھی ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے 8 ستمبر کو کہا تھا کہ حوثیوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے، جبکہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

26 ستمبر کو سعودی قیادت والے اتحاد نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب آنے والے دو بیلسٹک میزائلوں اور دو ڈرونز کو روکا۔ سعودی حکام کے مطابق میزائل خمیس مشیط جبکہ ڈرونز ریاض کی سمت بھیجے گئے تھے۔

عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی بحری تجارت کے لیے اہم راستے ہیں۔ ان علاقوں میں مسلسل کشیدگی سے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے، سفر کے راستوں میں تبدیلی اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

افریقہ سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق بحیرہ احمر کا بحری راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی نقل و حرکت کے لیے اہمیت رکھتا ہے، جبکہ حالیہ حوثی حملوں نے بحری سکیورٹی کے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔

سعودی عرب کا عالمی برادری سے مطالبہ

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو سیاسی یا عسکری دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ریاض کا کہنا ہے کہ بحری راستوں کی سلامتی اور آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

سعودی عرب نے حوثی حملوں کے ساتھ ساتھ یمن کے بحران کے سیاسی حل کی حمایت بھی دہرائی ہے اور جامع و پائیدار سیاسی عمل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی بحری کشیدگی

بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب مشرق وسطیٰ کے دیگر اہم بحری راستے بھی سکیورٹی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں عالمی توانائی اور تجارتی راستوں کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر حوثی حملوں کے حوالے سے بھی تشویش سامنے آئی ہے۔ 21 ستمبر کو جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ نے حوثیوں کی کارروائیوں اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے حملے روکنے اور سیاسی عمل کی طرف واپس آنے کا مطالبہ کیا تھا۔

نتیجہ

سعودی عرب نے حوثی حملوں کے خلاف اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے خلیجی امن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کو اہم قرار دیا ہے۔ ریاض کے مطابق بحیرہ احمر، باب المندب، خلیج عدن اور دیگر اہم آبی گزرگاہوں میں آزادانہ جہاز رانی کا تحفظ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!