جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں اضافہ
جنوبی لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں حالیہ دنوں کے دوران دوبارہ تیزی دیکھی گئی ہے۔ 28 ستمبر 2026 کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ توپ خانے سے فائرنگ اور بعض مقامات پر بڑے پیمانے پر دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
متعدد علاقوں میں فضائی حملے اور دھماکے
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں حاریص، حداثا، برعشیت، بیت یاحون، المنصوری، الطیری، عیناتا، مجدل زون، زوطر الشرقیہ، الخیام اور میس الجبل سمیت متعدد علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں ہوئیں۔
لبنانی ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر اسرائیلی حملوں کے ساتھ گھروں اور عمارتوں کو دھماکوں سے نقصان پہنچانے کی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں شہریوں میں مزید تشویش پائی جا رہی ہے۔
اسرائیل کا مؤقف
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ سے منسلک تنصیبات اور عسکری بنیادی ڈھانچہ ہے۔ 27 ستمبر کو اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے بفر زون میں موجود اس کی فوج پر حزب اللہ کی جانب سے دھماکا خیز ڈرون بھیجا گیا، جس کے جواب میں حزب اللہ کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس واقعے میں اس کے اہلکار زخمی نہیں ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں لبنان سے ہونے والے کسی بھی حملے کے جواب میں مزید طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی دی ہے۔ تاہم مستقبل کی کارروائی کا حجم، دورانیہ اور ممکنہ زمینی آپریشن کے بارے میں حتمی تفصیلات عوامی طور پر واضح نہیں کی گئیں۔
نئی فوجی کارروائی کی رپورٹس
جنوبی لبنان میں جاری حملوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک نئے مرحلے کی تیاری کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوج جنوبی لبنان میں آئندہ دنوں کے دوران لڑائی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔
تاہم ان رپورٹس میں اس ممکنہ مرحلے کی درست نوعیت، اس کے جغرافیائی دائرہ کار اور آیا اس میں وسیع زمینی کارروائی شامل ہوگی یا نہیں، اس بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس لیے اسے فی الحال ایک رپورٹ شدہ امکان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، حتمی اعلان کے طور پر نہیں۔
حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی برقرار
جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور حزب اللہ کی سرگرمیوں کے باعث سرحدی علاقے مسلسل کشیدگی کی زد میں ہیں۔ حالیہ واقعے میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے ڈرون حملے کو کارروائی کی وجہ قرار دیا، جبکہ اس کے بعد جنوبی لبنان میں متعدد مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ستمبر کے دوران بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ستمبر کے پہلے عشرے میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 28 افراد ہلاک اور 79 زخمی ہوئے تھے، تاہم لبنانی وزارت صحت کے اعداد و شمار میں شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان تفریق نہیں کی گئی تھی۔
لبنان کی سفارتی کوششیں
جنوبی لبنان میں فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ لبنان کی جانب سے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ لبنانی وزیراعظم نواف سلام کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقاتوں میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے راستے کو آگے بڑھانے اور لبنانی فوج کی حمایت سمیت دیگر امور زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
لبنانی حکام پہلے بھی اسرائیلی کارروائیوں کو ملک کے استحکام اور لبنانی فوج کی جنوبی علاقوں میں ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے رکاوٹ قرار دیتے رہے ہیں۔ لبنانی فوج کے مطابق جنوبی علاقوں میں اس نے سکیورٹی اور اسلحے کی نگرانی سے متعلق مختلف اقدامات کیے ہیں، جبکہ اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی خلاف ورزیاں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو متاثر کرتی ہیں۔
مذاکرات پر ممکنہ اثرات
جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں فریقین کے درمیان زمینی کشیدگی اور سفارتی رابطوں کا بیک وقت جاری رہنا آئندہ پیش رفت کے لیے اہم ہوگا۔
تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ حملوں کے نتیجے میں مذاکرات مکمل طور پر رک جائیں گے یا کسی بڑے فوجی آپریشن کا آغاز لازماً ہوگا۔ دستیاب رپورٹس میں صرف ممکنہ نئے فوجی مرحلے کی بات کی گئی ہے اور اس کی حتمی نوعیت ابھی واضح نہیں۔
جنوبی لبنان کے شہریوں کے لیے تشویش
جنوبی لبنان میں مسلسل حملوں کے باعث پہلے سے متاثرہ علاقوں میں شہری آبادی کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ ستمبر کے دوران بھی اسرائیلی کارروائیوں کے باعث بعض علاقوں سے لوگوں کے دوبارہ نقل مکانی کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ لبنانی فوج نے بھی کہا تھا کہ مسلسل اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں کے باعث ان علاقوں میں معمول کی زندگی اور محفوظ واپسی کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔
خطے کی مجموعی صورتحال
جنوبی لبنان میں کشیدگی مشرق وسطیٰ کی وسیع تر سکیورٹی صورتحال سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ خطے کے مختلف محاذوں پر جاری تنازعات کے باعث لبنان میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے علاقائی اثرات کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر کسی وسیع تر علاقائی توسیع کے بارے میں حتمی پیش گوئی کرنا مناسب نہیں۔
اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں محدود حملوں تک رہتی ہیں یا اسرائیلی فوج واقعی جنوبی لبنان میں کسی نئے اور وسیع فوجی مرحلے کا آغاز کرتی ہے۔
نتیجہ
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں، توپ خانے کی کارروائیوں اور دھماکوں میں حالیہ اضافہ خطے میں کشیدگی کی نئی سطح کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اسرائیل ان کارروائیوں کو حزب اللہ کے خلاف سکیورٹی اقدامات قرار دے رہا ہے، جبکہ لبنان مسلسل اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں پر اعتراض کر رہا ہے۔ نئی فوجی کارروائی کے امکان سے متعلق رپورٹس سامنے آئی ہیں، لیکن اس کے حجم اور نوعیت کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ آنے والے دنوں میں زمینی صورتحال اور جاری سفارتی رابطے اس بحران کی سمت متعین کرنے میں اہم ہوں گے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!