اسلام آباد میں ایس سی او اجلاس کا آخری روز
اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم کے قومی رابطہ کاروں کی تین روزہ میٹنگ آج 30 ستمبر کو اسلام آباد میں اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ یہ اجلاس پاکستان کی جانب سے تنظیم کی 2026-27 کی صدارت سنبھالنے کے بعد ہونے والی ابتدائی اہم سرگرمیوں میں شامل ہے۔
پاکستان کے قومی رابطہ کار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے قومی رابطہ کار اور تنظیم کے سیکریٹریٹ کے نمائندے شریک ہیں۔ اجلاس کا مقصد پاکستان کی صدارت کے دوران تنظیم کی سرگرمیوں کے پروگرام کو آگے بڑھانا اور آئندہ اہم اجلاسوں کی تیاری کرنا ہے۔
اجلاس میں کن امور پر بات ہوئی؟
شنگھائی تعاون تنظیم کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان کی صدارت کے دوران تنظیم کے پروگرام، آئندہ اجلاسوں کی تیاری اور سیاسی، تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور انسانی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور شامل ہیں۔
پاکستان نے اپنی صدارت کے لیے "Turning Vision into Action: Connectivity, Innovation and Shared Prosperity" کا موضوع مقرر کیا ہے، جس کے تحت علاقائی رابطہ کاری، جدت، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
پاکستان کی ایس سی او صدارت کی ترجیحات
پاکستان نے یکم ستمبر 2026 سے شنگھائی تعاون تنظیم کے کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی 2026-27 کی صدارت سنبھالی ہے۔ موجودہ قومی رابطہ کاروں کا اجلاس اسی صدارت کے تحت ہونے والی ابتدائی سرگرمیوں میں شامل ہے۔
پاکستان کی جانب سے علاقائی رابطوں میں اضافے، اقتصادی تعاون، جدت اور عوامی روابط کے فروغ کو نمایاں ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تنظیم کے مشترکہ مقاصد کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی پاکستان کی صدارت کے حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، توانائی، غربت میں کمی، آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دے چکے ہیں۔
بھارتی وفد کی شرکت بھی نمایاں رہی
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں بھارت سمیت ایس سی او کے تمام رکن ممالک کے نمائندوں کی شرکت بھی توجہ کا مرکز رہی ہے۔
بھارتی وفد کی قیادت ایس سی او کے لیے بھارت کے قومی رابطہ کار الوک دمری کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک ایس سی او کے کثیر ملکی فورم میں شریک ہیں۔
موجودہ اجلاس میں توجہ تنظیم کے ایجنڈے، آئندہ سرگرمیوں اور رکن ممالک کے درمیان تعاون سے متعلق امور پر مرکوز ہے۔ اجلاس کو پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایس سی او کے باقاعدہ کثیر ملکی نظام کے تحت جاری سرگرمی ہے۔
آئندہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی تیاری
اسلام آباد میں جاری قومی رابطہ کاروں کا اجلاس مستقبل میں ہونے والی ایس سی او سرگرمیوں کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے مطابق اجلاس میں تنظیم کے سربراہانِ حکومت کے آئندہ اجلاس کی تیاریوں سمیت مختلف اعلیٰ سطحی سرگرمیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اگست 2027 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی اسلام آباد میں کرے گا۔ موجودہ اجلاس کو اس بڑے سربراہی اجلاس کی تیاری کے ابتدائی مراحل میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں اگلے سربراہی اجلاس کی تیاریاں
اگلے سال ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کے لیے اسلام آباد میں انتظامی اور بنیادی ڈھانچے کی تیاری بھی جاری ہے۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے جناح کنونشن سینٹر کی اپ گریڈیشن اور سربراہی اجلاس کے لیے نئے بلاک کی تعمیر سے متعلق اقدامات شروع کیے ہیں۔ اس کے علاوہ دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کے ہوٹل کمروں کی دستیابی بڑھانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
پاکستان کے لیے اجلاس کی اہمیت
ایس سی او کی صدارت پاکستان کو تنظیم کے ایجنڈے اور سرگرمیوں کی میزبانی و رابطہ کاری میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
پاکستان اپنی صدارت کے دوران علاقائی رابطہ کاری، اقتصادی تعاون اور جدت کے شعبوں میں رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔ خطے میں چین، روس، وسطی ایشیائی ریاستوں، بھارت اور دیگر رکن ممالک کی موجودگی کے باعث ایس سی او پاکستان کے لیے ایک اہم کثیر ملکی پلیٹ فارم ہے۔
تنظیم کے پلیٹ فارم پر تجارت، معیشت، سکیورٹی، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات چیت ہوتی ہے۔ موجودہ اجلاس میں بھی باہمی تعاون اور آئندہ سرگرمیوں کے پروگرام کو منظم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
پاکستان کی صدارت کے دوران آئندہ کا لائحہ عمل
اسلام آباد میں جاری اجلاس کے اختتام کے بعد پاکستان کی ایس سی او صدارت کے تحت مختلف سطحوں پر مزید اجلاس اور سرگرمیاں منعقد ہوں گی۔
قومی رابطہ کاروں کی موجودہ نشست میں طے کیے جانے والے پروگرام اور ترجیحات آئندہ وزارتی اور اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی تیاری میں مدد دیں گے۔ پاکستان نے اس عرصے کے دوران تنظیم کے مشترکہ اہداف کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر زور دیا ہے۔
نتیجہ
اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے قومی رابطہ کاروں کا تین روزہ اجلاس آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اجلاس میں پاکستان کی صدارت کے تحت ایس سی او کی آئندہ سرگرمیوں، علاقائی رابطہ کاری، اقتصادی تعاون، جدت اور اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی تیاری سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ موجودہ نشست کے بعد پاکستان کی 2026-27 کی ایس سی او صدارت کے تحت مزید سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ اگست 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والا سربراہی اجلاس اس دور کی اہم سرگرمیوں میں شامل ہوگا۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!