Thursday, October 01, 2026
FB
تازہ ترین

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ، پائلٹ پر حملے کی تحقیقات جاری

فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 دبئی سے تل ابیب جاتے ہوئے طیارے کے کاک پٹ میں پائلٹس کے درمیان پرتشدد واقعے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتار لی گئی۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم اس دعوے کی مکمل وجوہات اور محرکات ابھی تحقیقات کا حصہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے واقعے کی وجوہات اور حالات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ، پائلٹ پر حملے کی تحقیقات جاری

دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں ہنگامی صورتحال

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کو دورانِ پرواز پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

رائٹرز کے مطابق طیارہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہونے کے بعد اردن کی فضائی حدود سے گزر رہا تھا کہ اس نے ہنگامی سگنلز جاری کیے۔ پرواز کو سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا اور بعد ازاں تبوک ایئرپورٹ پر محفوظ لینڈنگ کرائی گئی۔

سعودی حکام کے مطابق طیارے کے کپتان اور فرسٹ آفیسر کو واقعے کے دوران چوٹیں آئیں اور انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ تمام مسافروں کو بعد میں متبادل طیارے کے ذریعے تل ابیب روانہ کر دیا گیا۔

کاک پٹ میں پائلٹس کے درمیان کیا ہوا؟

اس واقعے کی اصل وجوہات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔

فلائی دبئی نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ پرواز کے دوران فلائٹ ڈیک میں ایک واقعہ پیش آیا، جس کے بعد طیارے کو تبوک کی طرف موڑ دیا گیا۔ ایئرلائن کے مطابق طیارے میں موجود عملے کے ارکان نے صورتحال پر قابو پانے اور طیارے کو بحفاظت اتارنے میں مدد کی۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ کو چاقو مارا اور بظاہر طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق طیارہ اچانک تیزی سے نیچے گیا، جس کے بعد مسافروں اور عملے کے ارکان نے کاک پٹ میں داخل ہو کر حملہ آور پائلٹ کو قابو کرنے میں مدد کی۔

تاہم واقعے کے محرکات اور مکمل پس منظر کی آزادانہ طور پر حتمی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔ الجزیرہ کے مطابق حملے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی اور مبینہ ہائی جیکنگ کی بھی سرکاری طور پر حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔

طیارہ اچانک ہزاروں فٹ نیچے آگیا

فلائٹ ٹریکنگ کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق طیارے نے ایک مرحلے پر انتہائی تیزی سے بلندی کم کی۔

رائٹرز کے مطابق طیارہ تقریباً 14 ہزار فٹ کی بلندی سے چند ہی لمحوں میں نیچے آیا، جس کے بعد ہنگامی سگنلز جاری ہوئے۔ طیارے نے بعد میں سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں واقع تبوک ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی۔

دی نیشنل کے مطابق طیارہ تقریباً 33 ہزار فٹ سے 17 ہزار فٹ تک ایک منٹ کے اندر نیچے آیا تھا۔ طیارے کے پچھلے حصے کے رڈر کو بھی نقصان پہنچا، تاہم مسافروں میں کوئی سنگین جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

مسافروں نے کاک پٹ میں مداخلت کی

واقعے کے دوران طیارے میں موجود بعض مسافروں اور عملے کے ارکان نے کاک پٹ تک رسائی حاصل کرکے صورتحال پر قابو پانے میں مدد کی۔

اے پی کے مطابق مسافروں نے حملہ آور پائلٹ کو قابو کیا، جبکہ دیگر عملے کے ارکان نے طیارے کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا۔ طیارے میں تقریباً 170 سے زائد افراد سوار تھے۔

اس واقعے کے بعد طیارے کو سعودی عرب میں اتارا گیا، جہاں کپتان اور دوسرے پائلٹ کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ

تبوک ایئرپورٹ کے حکام کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرول کو پرواز کی جانب سے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست موصول ہوئی تھی۔ ایئرپورٹ پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے گئے اور طیارے نے بحفاظت لینڈ کیا۔

بعد ازاں فلائی دبئی نے متبادل طیارے کے ذریعے مسافروں کو سعودی عرب سے تل ابیب پہنچانے کا انتظام کیا۔ تمام مسافروں کو محفوظ قرار دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات نے تحقیقات شروع کر دیں

متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ اس کے اسباب اور حالات کا تعین کیا جا سکے۔

فلائی دبئی نے بھی کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات اور محرکات معلوم نہیں اور یہ معاملہ باضابطہ تحقیقات کے تحت ہے۔ ایئرلائن نے اسرائیل سے آنے اور جانے والی اپنی پروازیں تحقیقات جاری رہنے تک عارضی طور پر معطل کرنے کا بھی اعلان کیا۔

تحقیقات میں طیارے کے بلیک باکس اور دیگر دستیاب شواہد اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فلائی دبئی کے ایک عہدیدار کے مطابق مکمل صورتحال تفتیش کاروں کو بلیک باکس تک رسائی ملنے کے بعد زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔

حملے کے محرکات ابھی واضح نہیں

واقعے کے سب سے اہم غیر حل شدہ سوالات میں مبینہ حملے کا مقصد اور پس منظر شامل ہیں۔

اسرائیلی حکام نے اسے طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ سعودی عرب میں گرفتار کیے گئے مبینہ حملہ آور سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ تاہم اس واقعے کے حتمی محرکات یا کسی ممکنہ تنظیم یا بیرونی کردار کے بارے میں ابھی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

اسی وجہ سے تحقیقات مکمل ہونے تک واقعے کے محرکات سے متعلق کسی بھی دعوے کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا۔

پروازیں عارضی طور پر معطل

فلائی دبئی نے واقعے کے بعد اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں تحقیقات مکمل ہونے تک عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا۔

ایئرلائن کے مطابق واقعے کے باوجود اس کے دیگر معمول کے نیٹ ورک آپریشنز متاثر نہیں ہوئے۔

دبئی اور تل ابیب کے درمیان فلائی دبئی کی پروازیں دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے کا اہم حصہ ہیں اور یہ روٹ 2020 میں تعلقات معمول پر آنے کے بعد شروع ہوا تھا۔

تحقیقات کے بعد صورتحال مزید واضح ہوگی

فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے نے فضائی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے، تاہم واقعے کی مکمل نوعیت اور محرکات کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق طیارہ ہنگامی صورتحال کے باوجود محفوظ طریقے سے سعودی عرب میں اترا، مسافروں کو بعد میں متبادل طیارے سے اسرائیل پہنچایا گیا اور متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

نتیجہ

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کو کاک پٹ میں پائلٹس کے درمیان پیش آنے والے پرتشدد واقعے کے بعد سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ اسرائیلی حکام نے ایک پائلٹ کی جانب سے دوسرے پائلٹ پر حملے اور طیارے کو تباہ کرنے کی مبینہ کوشش کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور متعلقہ حکام کی تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کے اصل محرکات سامنے آنے تک اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!