بھارت کا پاکستانی کمانڈو مارے جانے کا دعویٰ، سابق فوجی زندہ سامنے آگیا
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ایک مبینہ عسکریت پسند کی ہلاکت کے بعد اسے سابق پاکستانی فوجی محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کردیا ہے۔ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔
محمد آصف نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ زندہ اور خیریت سے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں دوستوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا پر ان کی ہلاکت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
بھارتی دعویٰ کیا تھا؟
بھارتی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران ایک مبینہ لشکر طیبہ کمانڈر ہلاک ہوا تھا۔ بھارتی اداروں نے اس شخص کی شناخت محمد آصف عرف موسیٰ فوجی کے طور پر بیان کی اور اسے سابق پاکستانی فوجی سے منسلک کیا۔
بھارتی وزارت داخلہ نے بھی اس ہلاکت کو ایک انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی قرار دیتے ہوئے مبینہ عسکریت پسند کو لشکر طیبہ کا اہم کمانڈر قرار دیا تھا۔ بھارتی میڈیا میں اس شخص کے مبینہ سابق فوجی پس منظر اور مختلف واقعات سے تعلق کے حوالے سے تفصیلات بھی شائع کی گئیں۔
تاہم ان دعوؤں کی بنیاد پر جس محمد آصف کی شناخت کی گئی، وہی شخص پاکستان میں پریس کانفرنس کے دوران زندہ موجود تھا۔
پاکستان کا مؤقف
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے سابق پاکستانی فوجی کو مقبوضہ کشمیر میں ہلاک ہونے والے مبینہ عسکریت پسند کے طور پر پیش کیا گیا۔
انہوں نے بھارتی فوج، حکومتی اداروں اور میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے معاملے کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق محمد آصف کو مبینہ طور پر ایک عسکریت پسند کے طور پر شناخت کیا گیا، جبکہ وہ حقیقت میں پاکستان میں موجود تھے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس واقعے کو بھارتی دعوے کی تردید کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائی کو سیاسی معاملات کی نذر نہیں ہونے دے گا۔
محمد آصف نے کیا بتایا؟
پریس کانفرنس میں محمد آصف نے اپنی شناخت اور سابق فوجی سروس کے بارے میں بتایا۔ ان کے مطابق انہوں نے 2000 میں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور 2005 میں اسپیشل سروسز گروپ میں شامل ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ 2023 میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے نجی سکیورٹی کمپنی میں ملازمت کی اور اپنے خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں مقیم رہے۔
محمد آصف کے مطابق جب انہیں معلوم ہوا کہ بھارتی میڈیا میں انہیں مقبوضہ کشمیر میں ہلاک قرار دیا گیا ہے تو انہوں نے اپنے متعلقہ ادارے سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں انہیں بھارتی نمبروں سے بھی فون کالز موصول ہوئیں جن میں ان کی شناخت اور موجودگی سے متعلق معلومات پوچھی گئیں۔
بھارتی دعوے اور موجودہ صورتحال
اس معاملے میں اس وقت پاکستان اور بھارت کے مؤقف مختلف ہیں۔ بھارتی حکام نے ایک ہلاک شخص کو محمد آصف عرف موسیٰ فوجی قرار دیا تھا، جبکہ پاکستان نے محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہی شخص زندہ موجود ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جسے پاکستانی فوج نے غلط طور پر شناخت کیے گئے سابق فوجی کے طور پر متعارف کرایا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے فوری طور پر اس پیش رفت پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
بھارتی خبر رساں ادارے انڈیا ٹوڈے نے بھی رپورٹ کیا کہ پاکستان آرمی نے سابق ایس ایس جی حوالدار کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے بھارت کے ہلاکت کے دعوے کو چیلنج کیا۔
معاملہ کیوں اہم ہے؟
یہ معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے موجود شدید سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ کشمیر میں عسکری کارروائیوں اور دہشت گردی سے متعلق الزامات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں حساس موضوع رہے ہیں۔
حالیہ واقعے میں سابق پاکستانی فوجی کی میڈیا کے سامنے موجودگی نے بھارتی دعوے کی شناخت سے متعلق ایک اہم سوال ضرور پیدا کیا ہے۔ تاہم ہلاک ہونے والے شخص کی اصل شناخت، کارروائی کے مکمل حالات اور دونوں جانب کے تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید قابل اعتماد شواہد درکار ہوں گے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کئی برس سے تنازع کا باعث ہیں۔ حالیہ معاملہ بھی اسی حساس پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
پاکستانی فوج نے اس واقعے کو بھارت کے پاکستان سے متعلق بیانیے کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ بھارتی حکام نے مبینہ عسکریت پسند کی ہلاکت کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان ایسے معاملات میں اطلاعات کی آزادانہ تصدیق ایک اہم مسئلہ رہتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں آزاد میڈیا اور غیر جانب دار مبصرین کی رسائی محدود ہو۔
آئندہ صورتحال
اب اس معاملے میں بھارتی حکام کی جانب سے ممکنہ وضاحت یا مزید شواہد پر توجہ رہے گی۔ دوسری جانب پاکستان کی جانب سے محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد اسلام آباد اپنے مؤقف کو مزید اجاگر کر سکتا ہے۔
اس مرحلے پر دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ پاکستان نے بھارت کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ سابق پاکستانی فوجی محمد آصف مقبوضہ کشمیر میں مارے گئے۔ تاہم واقعے کے دیگر تمام پہلوؤں پر حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
نتیجہ
بھارتی حکام اور میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں ہلاک ہونے والے ایک مبینہ عسکریت پسند کو سابق پاکستانی فوجی محمد آصف قرار دیا تھا، تاہم پاکستان فوج نے محمد آصف کو زندہ میڈیا کے سامنے پیش کرکے اس دعوے کو مسترد کردیا۔ محمد آصف کے مطابق وہ 2023 میں فوج سے ریٹائر ہوئے اور اس وقت پاکستان میں موجود ہیں۔
واقعے پر دونوں ممالک کے مؤقف مختلف ہیں، جبکہ بھارتی جانب سے اس تردید پر مزید ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!