Monday, October 05, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی اتحاد، ریاض میں اہم اجلاس آج

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ریاض میں ہو رہا ہے۔ اجلاس میں خطے کی تازہ سکیورٹی صورتحال، باہمی دفاعی تعاون اور تین ملکی دفاعی اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے کے اقدامات پر بات ہوگی۔ یمن میں حوثیوں کے خلاف تازہ فوجی پیش رفت کے تناظر میں اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی اتحاد، ریاض میں اہم اجلاس آج

ریاض میں تین ملکی دفاعی کمیٹی کا اجلاس

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اہم اجلاس آج 5 اکتوبر کو سعودی دارالحکومت ریاض میں ہوگا۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ نے بھی اجلاس کے انعقاد کی تصدیق کی ہے۔

اجلاس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ سطحی حکام شرکت کریں گے اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ علاقائی پیش رفت، سکیورٹی صورتحال اور دفاعی اتحاد کو مزید منظم کرنے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

اعلیٰ سطحی حکام کی شرکت

ترکیہ کی وزارت خارجہ کے مطابق ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یشار گلر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو اجلاس میں شریک ہوں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے متعلقہ حکام بھی کمیٹی کے اجلاس میں موجود ہوں گے۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار بھی ریاض میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ سعودی جانب سے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور دیگر متعلقہ حکام کی شرکت متوقع ہے۔

علاقائی سکیورٹی صورتحال ایجنڈے کا اہم حصہ

اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ حوثیوں کے حملوں کے باعث سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی اجلاس کے پس منظر میں اہم ہیں۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی حالیہ دنوں میں بتایا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کا اجلاس حوثیوں سے متعلق تازہ صورتحال اور ایران کی جانب سے سیاسی رابطے کی تجویز پر غور کے لیے اہم ہوگا۔

ایران کی یہ تجویز ایک رسمی معاہدے کے طور پر نہیں بلکہ سیاسی رابطے کے حوالے سے ایک خیرسگالی تجویز کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ اس لیے اجلاس میں اس معاملے پر ہونے والی گفتگو کو حتمی فیصلے کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ دفاعی صلاحیت اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے رابطہ مضبوط کرنا ہے۔

معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت شامل ہے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا۔

پہلے اجلاس میں معاہدے کے عملی ڈھانچے اور ادارہ جاتی نظام کو آگے بڑھانے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اتحاد کے لیے ریاض میں سیکریٹریٹ قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے پر بھی بات ہوگی

ترکیہ کی وزارت خارجہ کے مطابق ریاض اجلاس میں تین ملکی اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوششوں میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ خطے میں امن و استحکام کو درپیش خطرات اور مستقبل میں تعاون کے طریقہ کار پر بھی غور ہوگا۔

اس اجلاس کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اب صرف سیاسی رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی فریم ورک کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اہمیت

پاکستان کے لیے یہ اجلاس کئی حوالوں سے اہم ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم خلیجی شراکت دار ہے جبکہ ترکیہ کے ساتھ بھی اسلام آباد کے دفاعی اور تزویراتی تعلقات کئی برسوں سے موجود ہیں۔

تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ پاکستان کے لیے علاقائی سکیورٹی، دفاعی رابطہ کاری اور سفارتی سطح پر مشاورت کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم اجلاس کے حتمی فیصلوں اور عملی اقدامات سامنے آنے سے پہلے ان کے ممکنہ نتائج کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

خطے کی صورتحال پر بھی نظر

ریاض اجلاس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یمن کی صورتحال دوبارہ علاقائی سکیورٹی مباحثے کا اہم موضوع بن چکی ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کے اثرات خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی اور سفارتی پالیسیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

تینوں ممالک کی کمیٹی میں علاقائی حالات پر مشترکہ جائزہ اس بات کا موقع فراہم کرے گا کہ رکن ممالک تازہ صورتحال پر اپنے مؤقف اور ترجیحات ایک دوسرے کے سامنے رکھیں۔

اس اجلاس میں ہونے والی مشاورت کے نتیجے میں آئندہ دفاعی تعاون، علاقائی بحرانوں سے نمٹنے اور اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو آگے بڑھانے کے حوالے سے مزید اقدامات سامنے آ سکتے ہیں۔

اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کے تحت کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد ریاض میں دوسرا اہم اجلاس اس تعاون کو عملی شکل دینے کی سمت ایک مزید قدم ہے۔ تاہم آئندہ مرحلے کی تفصیلات اجلاس میں ہونے والی بات چیت اور فیصلوں کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

ترکیہ کی جانب سے اتحاد کو ادارہ جاتی بنانے اور آئندہ کے اقدامات پر اپنا وژن پیش کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ علاقائی سکیورٹی خطرات پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔

نتیجہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریاض کا آج ہونے والا اجلاس تینوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا اہم مرحلہ ہے۔ اجلاس میں علاقائی سکیورٹی، یمن کی تازہ صورتحال اور دفاعی اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے جیسے معاملات زیر بحث آئیں گے۔ اجلاس کے بعد سامنے آنے والے فیصلے یہ واضح کریں گے کہ تینوں ممالک اپنے مشترکہ دفاعی تعاون کو عملی طور پر کس سمت آگے بڑھاتے ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!