یمن میں جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثی گروپ کے خلاف بڑے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے 4 اکتوبر کو اعلان کیا کہ سرکاری فورسز ملک کے ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائیاں شروع کر رہی ہیں جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں۔
یمنی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور تیاری کے مرحلے کے بعد کیا گیا ہے۔ العلیمی نے مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز کو منظور شدہ منصوبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کی ہدایت کی ہے۔
طائز کے اطراف لڑائی میں شدت
فوجی آپریشن کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طائز کے اطراف حکومت نواز فورسز اور حوثیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں نے شہر کے قریب پیش قدمی کی اور ایک اہم زمینی راستے کو بھی متاثر کیا جو طائز کو حکومت کے عبوری مرکز عدن سے ملاتا ہے۔
طائز طویل عرصے سے یمنی تنازع کے اہم محاذوں میں شمار ہوتا ہے۔ شہر حکومت کے زیرِ انتظام ہے، تاہم حوثی فورسز کی جانب سے اس کے اطراف طویل عرصے سے دباؤ برقرار رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک روز کے دوران طائز اور قریبی علاقوں میں لڑائی کے نتیجے میں دونوں جانب درجنوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان اعداد و شمار کے بارے میں مختلف فریقوں کی جانب سے الگ الگ دعوے سامنے آئے ہیں، اس لیے ہلاکتوں کی حتمی تعداد آزادانہ طور پر واضح نہیں ہے۔
حکومت نے کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کیا
رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ یمنی فورسز کو ملک میں ریاستی اداروں اور حکومت کی عمل داری بحال کرنے کے لیے کارروائیاں آگے بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یمنی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک کے باقی ماندہ علاقوں میں ریاستی اختیار بحال کرنا ہے۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق العلیمی نے فوج، سکیورٹی فورسز اور دیگر مسلح فارمیشنز کو منظور شدہ منصوبے کے تحت اپنے فرائض انجام دینے کا حکم دیا ہے۔
یہ اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یمنی حکومت موجودہ لڑائی کو محدود محاذوں تک رکھنے کے بجائے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے وسیع فوجی مہم کی طرف بڑھ رہی ہے۔
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی
رائٹرز اور دیگر معتبر ذرائع کے مطابق حوثیوں نے حالیہ ہفتوں میں حکومت نواز فورسز کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کی ہیں اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں سمیت بعض اہم مقامات پر پیش قدمی کی ہے۔ باب المندب آبنائے کے قریب علاقوں کا کنٹرول بھی علاقائی اور عالمی سطح پر خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی بحری تجارت کے اہم راستوں میں شامل ہے۔
حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان جاری تنازع کا اثر صرف یمن تک محدود نہیں رہا بلکہ سعودی عرب، بحیرہ احمر اور خطے کی سمندری سکیورٹی بھی اس کشیدگی سے متاثر ہوتی رہی ہے۔
سعودی عرب کا کردار
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ رشاد العلیمی نے فوجی آپریشن کے اعلان کے موقع پر سعودی حمایت کو سراہا اور اپنے علاقائی اتحادیوں اور عالمی شراکت داروں سے بھی یمنی حکومت اور فورسز کی حمایت جاری رکھنے کی اپیل کی۔
دوسری جانب سعودی فوجی حکام نے حوثیوں کے خطرے کے خلاف ضروری اقدامات کا حق برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس صورتحال نے یمن کے تنازع کو ایک مرتبہ پھر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست سکیورٹی کشیدگی سے جوڑ دیا ہے۔
سعودی عرب اور حوثیوں میں بھی حملوں کا تبادلہ
حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں تیل اور توانائی کے مراکز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان دعووں کے بعض حصوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
اس کے جواب میں یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ مختلف فریقوں کی جانب سے حملوں کے حوالے سے کیے گئے دعووں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے کیونکہ ہر واقعے کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔
باب المندب کی اہمیت
یمن میں تازہ فوجی کشیدگی کی ایک اہم جہت باب المندب آبنائے بھی ہے۔ یہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری گزرگاہ ہے اور عالمی تجارت کے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور بحری راستوں سے متعلق خطرات نے خطے میں پہلے سے موجود سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھایا ہے۔ اگر کشیدگی وسیع ہوتی ہے تو بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی بحری تجارت پر اس کے اثرات زیرِ بحث رہیں گے۔
پاکستان کے لیے کیا اہمیت ہے؟
یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی سفارتی اور دفاعی تعلقات ہیں، جبکہ خطے میں موجود پاکستانی شہریوں اور سمندری تجارت کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال اہمیت رکھتی ہے۔
اسی دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے تحت ریاض میں اہم اجلاس بھی ہو رہا ہے، جس میں علاقائی صورتحال اور حوثیوں سے متعلق تازہ پیش رفت زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تینوں ممالک کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس 5 اکتوبر کو ریاض میں ہوگا۔
اس تناظر میں یمن میں نئی فوجی کارروائی خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش رفت بن گئی ہے۔
آئندہ صورتحال کس طرف جائے گی؟
یمنی حکومت کا اعلان ایک ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جب حوثی فورسز اور حکومت نواز گروپوں کے درمیان زمینی لڑائی میں شدت آ رہی ہے۔ اگر حکومت نواز فورسز بڑے علاقوں میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو آنے والے دنوں میں لڑائی مزید محاذوں تک پھیلنے کا امکان موجود ہے، تاہم اس کے حقیقی دائرہ کار اور نتائج کا اندازہ موجودہ مرحلے پر حتمی طور پر نہیں لگایا جا سکتا۔
علاقائی طاقتوں کا کردار، سعودی عرب کی فوجی پالیسی، حوثیوں کا ردعمل اور بین الاقوامی سفارتی کوششیں اس تنازع کی آئندہ سمت پر اثر انداز ہوں گی۔
نتیجہ
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ طائز کے اطراف جاری لڑائی، حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور بحیرہ احمر و باب المندب کی سکیورٹی صورتحال نے اس اعلان کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت نواز فورسز کی پیش قدمی، حوثیوں کے ردعمل اور علاقائی طاقتوں کے اقدامات یمن کی جنگ کی نئی سمت متعین کریں گے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!