Monday, October 05, 2026
FB
تازہ ترین

غزہ میں حملے، یمن میں فوجی آپریشن؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے واقعات کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر محاذوں پر بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور خطے کی بحری گزرگاہوں میں بھی سکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔

غزہ میں حملے، یمن میں فوجی آپریشن؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار

غزہ میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ ایک حملے میں غزہ سٹی میں کم از کم پانچ فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں چار خواتین بھی شامل تھیں۔ اسرائیلی فوج نے ایک حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ہدف حماس سے وابستہ ایک اہم شخصیت تھی، تاہم حملے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی تفصیلات پر فریقین کے مؤقف مختلف ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں مکمل امن اور معمول کی صورتحال بحال نہیں ہو سکی۔ اسرائیل کی جانب سے حماس پر دوبارہ مسلح ہونے اور حملوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ حماس اسرائیلی کارروائیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت یمن میں سامنے آئی ہے جہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے حوثی تحریک کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔

یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے مطابق کارروائی کا مقصد حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر دوبارہ حکومتی کنٹرول قائم کرنا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف کارروائیوں نے پہلے ہی علاقائی اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے لیے سکیورٹی خدشات پیدا کر رکھے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں بھی سکیورٹی خدشات

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا اثر اہم بحری راستوں تک بھی پہنچ رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف بحری جہازوں کے خلاف متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات برقرار ہیں۔

اس صورتحال کے باوجود ستمبر کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات کئی دنوں میں جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر گئیں۔ تاہم بحری جہازوں پر حملوں اور علاقائی تنازع کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

علاقائی کشیدگی کے وسیع اثرات

غزہ، یمن اور خلیجی خطے میں بیک وقت پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ کے مجموعی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود وقفے وقفے سے حملے، یمن میں نئی فوجی کارروائیاں اور بحری راستوں کو لاحق خطرات خطے میں پائیدار امن کے لیے مشکلات کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس کشیدگی کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں، فضائی و بحری سفر اور خطے میں موجود دیگر ممالک کی سکیورٹی صورتحال پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم مستقبل کی شدت اور معاشی اثرات کا انحصار آنے والے دنوں میں فوجی کارروائیوں اور سفارتی کوششوں کی سمت پر ہوگا۔

انسانی صورتحال اور امن کی کوششیں

غزہ میں طویل عرصے سے جاری تنازع نے شہری آبادی کے لیے شدید مشکلات پیدا کی ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود بنیادی سہولیات، امداد اور تعمیر نو کے معاملات اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ہزاروں فلسطینی اب بھی بے گھر یا غزہ سے باہر موجود ہیں جبکہ علاقے میں تعمیر نو کا عمل انتہائی محدود رہا ہے۔

ماضی میں ترکیہ، مصر اور قطر سمیت مختلف ممالک نے غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور فریقین کو مزید کشیدگی سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کی ہیں۔ تاہم تازہ حملوں کے واقعات نے ان کوششوں کے لیے بھی نئی مشکلات پیدا کی ہیں۔

نتیجہ

غزہ میں جاری حملوں، یمن میں حوثیوں کے خلاف نئی فوجی کارروائی اور اہم بحری راستوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بدستور حساس ہے۔ خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے جنگ بندی کے مؤثر نفاذ، انسانی امداد کی فراہمی اور سفارتی رابطوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں فوجی کارروائیوں اور مذاکرات کی سمت ہی یہ طے کرے گی کہ خطہ مزید کشیدگی کی طرف جاتا ہے یا تناؤ کم کرنے کی کوششیں مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!