Sunday, September 13, 2026
تازہ ترین

پاکستان کا تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا

پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر ہوگیا، درآمدات 13 فیصد جبکہ برآمدات 7 فیصد بڑھیں۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا

پاکستان کا تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا، درآمدات میں تیزی نے دباؤ بڑھا دیا

اسلام آباد: پاکستان کے بیرونی تجارت کے شعبے پر دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے، مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 18 فیصد اضافے کے بعد 7.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست 2026 کے دوران تجارتی خسارہ 7.12 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ خسارہ 6.03 ارب ڈالر تھا۔ یوں ایک سال کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں تقریباً 1.1 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارتی خسارے میں اضافے کی بڑی وجہ درآمدات میں تیز رفتار اضافہ ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں پاکستان کی درآمدات تقریباً 13 فیصد بڑھ کر 12.58 ارب ڈالر ہوگئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں درآمدات 11.13 ارب ڈالر تھیں۔

دوسری جانب برآمدات میں بھی اضافہ ہوا، تاہم اس کی رفتار درآمدات کے مقابلے میں کم رہی۔ جولائی تا اگست کے دوران ملکی برآمدات تقریباً 7 فیصد اضافے کے ساتھ 5.46 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 5.10 ارب ڈالر تھیں۔

ماہرین کے مطابق درآمدات اور برآمدات کی شرح نمو میں یہ فرق پاکستان کے تجارتی توازن کے لیے اہم چیلنج بن رہا ہے۔ اگر درآمدی بل میں اضافہ جاری رہا اور برآمدات اسی رفتار سے نہ بڑھ سکیں تو آنے والے مہینوں میں بیرونی کھاتوں پر مزید دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

اگست میں ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ کم

تازہ اعداد و شمار کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اگست میں ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں کمی دیکھی گئی۔ جولائی میں 3.95 ارب ڈالر کے مقابلے میں اگست کا تجارتی خسارہ تقریباً 3.17 ارب ڈالر رہا، یعنی ایک ماہ کے دوران تقریباً 19.7 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔

اگست میں درآمدات بھی جولائی کے مقابلے میں کم ہوکر تقریباً 5.68 ارب ڈالر رہیں، جبکہ جولائی میں یہ حجم 6.89 ارب ڈالر تھا۔ اسی طرح اگست میں برآمدات تقریباً 2.51 ارب ڈالر رہیں، جو جولائی کے 2.95 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہیں۔

تاہم سالانہ بنیاد پر اگست کا تجارتی خسارہ اب بھی زیادہ رہا۔ اگست 2025 کے 2.87 ارب ڈالر کے مقابلے میں اگست 2026 میں خسارہ تقریباً 10.4 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

بیرونی ادائیگیوں پر ممکنہ اثرات

پاکستان پہلے ہی بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے انتظام کے حوالے سے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں درآمدات میں مسلسل تیزی تجارتی خسارے کو بڑھا سکتی ہے اور بیرونی کھاتے کے استحکام کے لیے مزید چیلنج پیدا کرسکتی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق برآمدات میں مستقل اور تیز رفتار اضافہ، درآمدی ضروریات کو بہتر انداز میں منظم کرنا اور برآمدی شعبوں کی مسابقت بڑھانا تجارتی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے اہم ہوگا۔

حالیہ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ اگست میں ماہانہ بنیاد پر درآمدی دباؤ میں کمی آئی ہے، لیکن مالی سال کے پہلے دو ماہ کا مجموعی تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ چکا ہے۔

حکومت کے لیے اب اہم چیلنج یہ ہوگا کہ بیرونی تجارت میں توازن بہتر بنایا جائے، برآمدات کو مزید فروغ دیا جائے اور غیر ضروری درآمدات کے دباؤ کو کم کیا جائے تاکہ معیشت کے بیرونی شعبے کو مستحکم رکھا جاسکے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!