Friday, September 11, 2026
تازہ ترین

بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ، سہولت کاروں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن

بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مزید سخت اقدامات کا عندیہ دے دیا۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والی نجی جائیداد کے مالکان کو بھی سہولت کار تصور کیا جاسکتا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ، سہولت کاروں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن

بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ، حکومت کا سہولت کاروں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کا اعلان

کوئٹہ:** بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر صوبائی حکومت نے دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا عندیہ دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ ریاست کی رٹ قائم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق اگر کسی نجی جائیداد، زمین یا دیگر مقام کو سیکیورٹی فورسز یا حکومتی شخصیات پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا تو اس جائیداد کے مالک کو بھی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ قانون کے مطابق اسے دہشت گردوں کا سہولت کار تصور کیا جاسکتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا فیصلہ

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی لانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ حکومت عام شہریوں کو نقصان پہنچانے والی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہتی ہے، تاہم دہشت گردوں کو پناہ، سہولت یا حملوں کے لیے جگہ فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد بعض اوقات عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اس لیے سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران شہریوں کے تحفظ کو بھی خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔

نجی جائیداد دہشت گردی کے لیے استعمال ہوئی تو مالک بھی ذمہ دار ہوگا

وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی نجی زمین یا جائیداد سے سیکیورٹی فورسز یا حکومتی شخصیات پر حملہ کیا گیا تو جائیداد کا مالک یہ مؤقف اختیار نہیں کرسکے گا کہ اسے اس سرگرمی کا علم نہیں تھا۔

ان کے مطابق ایسے معاملات میں جائیداد کے مالکان سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی اور اگر دہشت گردی میں سہولت کاری ثابت ہوئی تو قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ اعلان صوبے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ اس کے معاون ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانے کی حکومتی حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کئی کوششیں ناکام بنا دیں

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بھی کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے صوبے کے مختلف علاقوں میں ریاست مخالف عناصر کی دہشت گردی کی متعدد کوششیں ناکام بنائی ہیں۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کررہے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے باعث دہشت گرد عناصر کے کئی منصوبے ناکام بنائے گئے ہیں۔

کم عمر بچوں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ناکام

وزیر داخلہ بلوچستان نے حالیہ پریس کانفرنس میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک کالعدم مسلح تنظیم کی جانب سے کم عمر لڑکیوں کو دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ناکام بنایا گیا۔

حکام کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 16 سالہ زینب اور 12 سالہ فاطمہ کو بازیاب کرایا گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ مسلح تنظیم نوجوانوں اور خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

حکام کے مطابق اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد اور سہولت کاروں کا سراغ لگایا جاسکے۔

انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری

بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس معلومات کو مرکزی حیثیت دی جارہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے حالیہ ہفتوں کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ہیں۔

ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورک، ان کے سہولت کاروں اور معاون ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔

حالیہ کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز نے کیچ، پنجگور اور ژوب کے علاقوں میں تین الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا بھی اعلان کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران تین دہشت گرد زخمی ہوئے جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری رکھنے کا کہا گیا۔

بلوچستان پولیس کو جدید بنانے پر بھی توجہ

صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ بلوچستان پولیس کے نظام کو جدید بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بلوچستان پولیس کے ڈیجیٹل اقدامات کا افتتاح کرتے ہوئے پولیس کے مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھانے پر زور دیا۔ حکومت کے مطابق سی سی ٹی وی اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے جرائم اور دہشت گردی کے بعض واقعات میں مشتبہ افراد تک پہنچنے میں مدد ملی ہے۔

ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پولیس کی کارکردگی، شکایات کے ازالے اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

حکومت کا امن و امان برقرار رکھنے پر زور

بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے عوامی آگاہی اور سیکیورٹی اقدامات پر بھی توجہ دی جارہی ہے تاکہ دہشت گرد عناصر کے لیے عوامی سطح پر حمایت یا سہولت حاصل کرنا مشکل بنایا جاسکے۔

حالیہ بیانات سے واضح ہے کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید منظم اور سخت کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ حکومت نے ایک طرف دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے تو دوسری جانب ان افراد اور مقامات کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا ہے جو کسی بھی صورت میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

صوبائی حکام کے مطابق بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورک کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!