Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

وزیراعظم سے صنعت کاروں اور کاروباری وفد کی ملاقات، برآمدات بڑھانے پر اہم مشاورت

وزیراعظم شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی۔ برآمدات، صنعت، سرمایہ کاری، ٹیکس اور توانائی کے مسائل پر مشاورت ہوئی۔

وزیراعظم سے صنعت کاروں اور کاروباری وفد کی ملاقات، برآمدات بڑھانے پر اہم مشاورت

وزیراعظم سے صنعت کاروں اور کاروباری وفد کی ملاقات، برآمدات بڑھانے پر اہم مشاورت

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کے ممتاز صنعت کاروں، کاروباری شخصیات اور تاجروں کے وفد نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، برآمدات میں اضافے، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، سرمایہ کاری، ٹیکس پالیسی، توانائی کے اخراجات اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

وزیراعظم نے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا راستہ برآمدات میں اضافے سے جڑا ہوا ہے اور حکومت کاروباری طبقے کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کاروباری برادری کے مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔

برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حکومت کی ترجیح

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف لے جانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ضروری ہے۔

وزیراعظم نے صنعت کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے کہا کہ حکومت برآمدات بڑھانے کے لیے درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے اور کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ کاروباری برادری سے مسلسل مشاورت کے ذریعے ایسی پالیسیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جو صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکیں۔

برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس استثنیٰ کا جائزہ

ملاقات کے دوران برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو اس تجویز کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ کاروباری حلقوں کے مطابق برآمدی شعبے کو ٹیکس اور دیگر مالی معاملات میں سہولت دینے سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ معاملہ صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ٹیکس اور توانائی کے اخراجات کاروباری لاگت پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کی ہدایت

وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے فوری اور مستقل حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ملاقات میں کاروباری رہنماؤں نے ٹیکس، توانائی کی قیمتوں، قواعد و ضوابط، تجارت اور صنعتی سرگرمیوں سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم نے ان تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔

توانائی کے اخراجات میں کمی پر توجہ

پاکستانی صنعت کے لیے توانائی کی لاگت ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ ملاقات کے دوران اس معاملے پر بھی گفتگو ہوئی اور وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کی لاگت کم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

صنعتی شعبے کا مؤقف ہے کہ توانائی کے اخراجات میں کمی سے پیداواری لاگت کم ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایک سال میں 800 ارب روپے کی ریکوری

وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران بتایا کہ حکومت نے نئے ٹیکس عائد کیے بغیر گزشتہ ایک سال کے دوران انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے تقریباً 800 ارب روپے وصول کیے ہیں۔

وزیراعظم نے ٹیکس نظام میں ڈیجیٹلائزیشن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق حکومت ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے اور کاروباری افراد کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن

ملاقات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔

حکومت کے مطابق ٹیکس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت بڑھانے، ٹیکس وصولی بہتر بنانے اور کاروباری طبقے کے لیے مشکلات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو کاروباری افراد کی جانب سے اٹھائے جانے والے ٹیکس سے متعلق مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے سہولتیں

ملاقات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں یعنی SMEs کو برآمدی شعبے میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل کرنے کے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔

کاروباری اداروں کے لیے مالی سہولتوں اور برآمدات تک رسائی بہتر بنانے کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ حکومت کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو قومی معیشت اور برآمدی سرگرمیوں میں زیادہ فعال بنانا ہے۔

آئی ٹی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت پر توجہ

ملاقات میں روایتی برآمدی شعبوں کے ساتھ ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں پر بھی توجہ دی گئی۔

کاروباری رہنماؤں نے پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا سینٹرز اور AI فیکٹریز کے قیام پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ کاروباری رہنماؤں کے مطابق یہ شعبے مستقبل میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اور برآمدات میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

کاروباری برادری نے حکومتی مشاورت کو سراہا

ملاقات میں شریک کاروباری رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے نجی شعبے کو معاشی پالیسی سازی کے عمل میں شامل کرنے کو سراہا۔

کاروباری شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مشاورت کا عمل جاری رہنا چاہیے تاکہ صنعت اور تجارت کو درپیش مسائل بروقت حل کیے جاسکیں۔

معروف کاروباری شخصیات نے حکومت کی معاشی اصلاحات اور میکرو اکنامک استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات

ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔ حکومت نے کاروباری برادری کو سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں فراہم کرنے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

حکومت کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون اہم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق حکومت کاروباری برادری کی تجاویز کو اہمیت دیتی ہے اور معاشی پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے صنعت کاروں اور تاجروں سے مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

ملاقات میں کاروباری رہنماؤں کی تجاویز سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ پاکستان کو روایتی برآمدات کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سروسز اور مصنوعی ذہانت جیسے نئے شعبوں میں بھی اپنی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی معیشت کے لیے اہم پیش رفت

وزیراعظم اور کاروباری برادری کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی پر زور، کاروباری مسائل کے فوری حل کی ہدایت اور برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کاروباری شعبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اگر حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مشاورت اسی انداز میں جاری رہتی ہے اور کاروباری برادری کے مسائل عملی طور پر حل کیے جاتے ہیں تو اس سے صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں بہتری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!