پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعاون پر بات چیت
پاکستان اور برطانیہ نے باہمی تجارت اور کاروباری روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت لندن میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور برطانیہ کے وزیر مملکت برائے تجارت انس سرور کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔
ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ تجارتی تعلقات، کاروباری تعاون اور مختلف شعبوں میں مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں عملی تعاون کو مزید آگے بڑھایا جائے۔
آئی ٹی اور فن ٹیک میں تعاون پر توجہ
ملاقات کے دوران آئی ٹی اور فن ٹیک سمیت ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں کو باہمی تعاون کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ دونوں جانب سے ان شعبوں میں کاروباری روابط بڑھانے اور نئی شراکت داریوں کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
پاکستان کے لیے آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات برآمدات کے اہم شعبوں میں شامل ہیں، جبکہ برطانیہ کے ساتھ کاروباری روابط پاکستانی کمپنیوں کے لیے عالمی مارکیٹ تک رسائی کے مزید مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
مینوفیکچرنگ اور پیداوار کے شعبے بھی زیر بحث
ملاقات میں مینوفیکچرنگ صنعت اور پیداوار کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی بات ہوئی۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں کاروباری اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور باہمی تجارت کے نئے راستے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
برطانوی حکومت کی تجارتی رہنمائی کے مطابق پاکستان میں انفراسٹرکچر، توانائی، صحت، تعلیم، پیشہ ورانہ خدمات اور صارفین کی اشیا سمیت متعدد شعبوں میں برطانوی کاروبار کے لیے مواقع موجود ہیں۔
دوطرفہ تجارت بڑھانے کی گنجائش
سرکاری ریڈیو کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے درمیان موجودہ سالانہ تجارت کا حجم تقریباً 2.5 ارب ڈالر ہے۔ دونوں وزرا نے اس حجم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ اشیا اور خدمات دونوں میں باہمی تجارت بڑھانے کی مزید گنجائش موجود ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافے کے لیے کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شراکت کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف شعبوں میں کاروباری اداروں کے درمیان رابطے بڑھانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
دسمبر میں تجارتی مذاکرات اہم ہوں گے
ملاقات میں دونوں جانب سے آئندہ دسمبر میں ہونے والے پاکستان برطانیہ ٹریڈ ڈائیلاگ میکنزم میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔ اس مکینزم کے ذریعے دوطرفہ تجارت اور کاروباری تعاون سے متعلق امور کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
دسمبر کے مذاکرات دونوں ممالک کے لیے تجارتی تعاون کے موجودہ امکانات کو عملی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا ایک اہم فورم بن سکتے ہیں، تاہم اس کے نتائج مذاکرات اور متعلقہ فیصلوں کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
پاکستان کی معاشی اصلاحات کا ذکر
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملاقات کے دوران پاکستان کی معیشت اور حکومتی اصلاحات سے متعلق بھی گفتگو کی۔ سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام اور ترقی کے لیے میکرو اکنامک اصلاحات پر عمل کر رہی ہے۔
انہوں نے نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے، مسابقت کو فروغ دینے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے حکومتی عزم کا بھی ذکر کیا۔
برطانوی کاروبار کے لیے پاکستان میں مواقع
برطانوی محکمہ تجارت کے مطابق پاکستان میں برطانوی کمپنیوں کے لیے مختلف شعبوں میں کاروباری مواقع موجود ہیں۔ سرکاری تجارتی گائیڈ میں توانائی، انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، پیشہ ورانہ خدمات اور دیگر شعبوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
اسی طرح برطانوی محکمہ تجارت پاکستان میں کاروبار کرنے والی برطانوی کمپنیوں اور برطانیہ میں کاروبار یا سرمایہ کاری کرنے والی پاکستانی کمپنیوں کو تجارتی اور سرمایہ کاری سے متعلق معاونت فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے ممکنہ اہمیت
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی روابط میں وسعت سے پاکستانی کاروباری اداروں کو برطانوی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات اور خدمات متعارف کرانے کے مزید مواقع مل سکتے ہیں۔ اسی طرح برطانوی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پاکستان کے مختلف کاروباری اور صنعتی شعبوں میں تعاون کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
تاہم تجارت میں حقیقی اضافہ صرف مذاکرات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے کاروباری روابط، سرمایہ کاری، مارکیٹ تک رسائی اور متعلقہ پالیسی اقدامات کو عملی شکل دینا ضروری ہوگا۔
نتیجہ
پاکستان اور برطانیہ نے آئی ٹی، فن ٹیک، مینوفیکچرنگ اور پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں تجارت اور کاروباری تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک دسمبر میں ہونے والے ٹریڈ ڈائیلاگ میکنزم کے ذریعے تجارتی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور عملی نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!