پنجاب میں اسکولوں کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی خبریں مسترد
پنجاب حکومت نے صوبے کے اسکولوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق زیر گردش خبروں کی تردید کر دی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس وقت اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں ایندھن کی بچت اور حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات سے متعلق خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
وزیر تعلیم کی والدین کو ہدایت
رانا سکندر حیات نے والدین پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا یا غیر مصدقہ ذرائع سے پھیلنے والی اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات کو ترجیح دیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں اور اسکول ہفتے میں پانچ دن، پیر سے جمعہ تک کام کر رہے ہیں۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن کی کوئی تجویز نہیں
صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق پنجاب کے اسکولوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی فی الحال کوئی تجویز موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں وفاقی سطح پر کوئی ایسی تجویز سامنے آتی ہے تو تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
یہ وضاحت ان خبروں کے تناظر میں اہم ہے جن میں ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے مختلف انتظامی اقدامات کا ذکر کیا جا رہا تھا۔ وفاقی حکومت نے بھی حالیہ دنوں میں کفایت شعاری اور ایندھن کے تحفظ سے متعلق بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ اقدامات پنجاب کے اسکولوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے اعلان کے مترادف نہیں ہیں۔
اسکولوں کے معمول کے اوقات برقرار
پنجاب کے وزیر تعلیم نے بتایا کہ صوبے کے اسکول معمول کے شیڈول کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مارکیٹیں اور دیگر معمول کی سرگرمیاں جاری رہنے کی صورت میں اسکولوں کی بندش سے متعلق افواہوں کو حقیقت نہ سمجھا جائے۔
اس وضاحت کے بعد والدین اور طلبہ کے لیے موجودہ صورتحال یہی ہے کہ پنجاب میں اسکولوں کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
ایندھن بچت اقدامات کا پس منظر
وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے لیے اقدامات کی منظوری دی ہے۔ ان اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی بھی شامل ہے، جبکہ بعض ضروری خدمات کی گاڑیوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں توانائی اور ایندھن کے استعمال کو کم کرنے پر زور دیے جانے کے باعث تعلیمی اداروں کے شیڈول سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔ تاہم پنجاب کے وزیر تعلیم نے اسکولوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی ایسی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
والدین سرکاری اطلاعات پر اعتماد کریں
حالیہ دنوں میں مختلف حکومتی فیصلوں سے متعلق غیر مصدقہ نوٹیفکیشن اور سوشل میڈیا پوسٹس بھی گردش کرتی رہی ہیں۔ وفاقی وزارت اطلاعات نے بھی ایک جعلی نوٹیفکیشن کے حوالے سے عوام کو خبردار کیا تھا اور سرکاری اعلانات کی تصدیق کے لیے مستند حکومتی ذرائع سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اس صورتحال میں پنجاب کے والدین اور طلبہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ اسکولوں کی بندش، اوقات کار یا کسی نئے تعلیمی فیصلے سے متعلق معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے متعلقہ محکمہ تعلیم یا حکومت پنجاب کے سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔
تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے پر زور
پنجاب کے وزیر تعلیم نے تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل پر زور دیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق موجودہ صورتحال میں صوبے کے تعلیمی اداروں کو معمول کے مطابق کام کرنا چاہیے۔
اس حوالے سے کسی نئی پالیسی یا شیڈول میں تبدیلی کا فیصلہ سامنے آنے کی صورت میں اس کا اعلان متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے کیا جائے گا۔
نتیجہ
پنجاب حکومت نے اسکولوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کے مطابق فی الحال ایسی کوئی تجویز موجود نہیں اور صوبے کے اسکول معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ والدین اور طلبہ کو بھی غیر مصدقہ سوشل میڈیا اطلاعات کے بجائے سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!