خیبرپختونخوا میں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے اور صوبے کے قدرتی حسن سے بھرپور علاقوں کو ایڈونچر ٹورازم کے نقشے پر نمایاں کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے تحت نئے سیاحتی مقامات تک رسائی بہتر بنانے، ایڈونچر سرگرمیوں کیلئے تربیت فراہم کرنے، بنیادی سہولیات بڑھانے اور سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ایڈونچر ٹورازم کیلئے خصوصی منصوبہ
صوبے میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کیلئے ڈویلپمنٹ آف ایڈونچر ٹورازم منصوبہ زیر تکمیل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خیبرپختونخوا کے پہاڑی اور قدرتی علاقوں کو ٹریکنگ، ماؤنٹینرنگ، کیمپنگ اور دیگر ایڈونچر سرگرمیوں کیلئے زیادہ منظم انداز میں ترقی دینا ہے۔
حکام کے مطابق چترال اور سوات میں ایڈونچر ٹورازم ٹریننگ سینٹرز بھی قائم کیے جا چکے ہیں۔ ان مراکز میں مقامی افراد اور کمیونٹی کو مختلف ایڈونچر سرگرمیوں کے حوالے سے تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
مقامی نوجوانوں کو تربیت دینے کا منصوبہ
ٹریننگ پروگرامز میں ماؤنٹینرنگ، ٹریکنگ، کیمپنگ، راک کلائمبنگ، آئس اسکیٹنگ، اسکیئنگ اور سنو بورڈنگ سمیت مختلف سرگرمیاں شامل ہیں۔
اس اقدام کا ایک اہم مقصد مقامی نوجوانوں کو سیاحت سے وابستہ ہنر فراہم کرنا بھی ہے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کیلئے تربیت یافتہ گائیڈز اور متعلقہ خدمات فراہم کر سکیں۔
اس طرح ایڈونچر ٹورازم کو صرف تفریحی سرگرمی کے بجائے مقامی سطح پر روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے ایک ذریعے کے طور پر بھی فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سوات میں فلک سر کے علاقے پر توجہ
رواں سال سوات کی فلک سر چوٹی اور اس کے بیس کیمپ تک ہائی الٹیٹیوڈ ٹریننگ، ٹریکنگ سرگرمیوں اور آگاہی پروگرامز منعقد کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت فلک سر چوٹی سر کرنے سمیت تین مختلف ٹریکنگ سرگرمیاں منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ حکام کا مقصد وادی سوات میں بھی ایڈونچر ٹورازم کو ایک منظم انداز میں فروغ دینا ہے۔
نئے جیپ ٹریکس سے دور دراز علاقوں تک رسائی
ایڈونچر ٹورازم کے ساتھ ساتھ نئے سیاحتی مقامات تک رسائی بہتر بنانے کیلئے مختلف جیپ ٹریکس کی تعمیر اور بحالی پر بھی کام جاری ہے۔
ان منصوبوں میں تھل سے جہاز بانڈہ، ایون سے بمبوریت اور لڑم سر سے آسو کنڈاؤ تک کے جیپ ٹریکس شامل ہیں۔ ان راستوں کی بہتری سے ایسے قدرتی علاقوں تک سیاحوں کی رسائی آسان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں خوبصورت مناظر موجود ہیں لیکن سفری سہولیات محدود رہی ہیں۔
گلیات میں ماحول دوست سیاحت
خیبرپختونخوا میں ایڈونچر ٹورازم کے ساتھ ایکو ٹورازم پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ گلیات میں قدرتی حسن، جنگلات اور آبی وسائل کے تحفظ کے ساتھ سیاحوں کیلئے جدید اور ماحول دوست سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے جاری ہیں۔
گلیات میں الیکٹرک سائٹ سینگ کارٹس متعارف کرانے کا مقصد سیاحتی مقامات پر ٹریفک کے دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق علاقے میں قدرتی ماحول کو محفوظ رکھنے کیلئے تعمیراتی سرگرمیوں کو بھی نئے ضوابط کے تحت منظم کیا جا رہا ہے۔
ٹھنڈیانی میں بڑے سیاحتی منصوبے کی تیاری
گلیات کے اہم سیاحتی مقام ٹھنڈیانی کی ترقی کیلئے تقریباً 400 کنال اراضی پر مربوط سیاحتی منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں نجی شعبے کی جانب سے تقریباً 23 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کو تقریباً 2.5 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
سیاحوں کے تحفظ پر بھی توجہ
سیاحت کے فروغ کے ساتھ سیاحوں کی حفاظت کیلئے ٹورازم پولیس کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ٹورازم پولیس سیاحتی مقامات پر ایمرجنسی صورتحال، ابتدائی طبی امداد اور دیگر مسائل میں سیاحوں کی مدد کرتی ہے۔ اہلکاروں کو فرسٹ ایڈ کی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ حادثات یا ہنگامی حالات میں فوری مدد ممکن ہو سکے۔
سیاحوں کیلئے ہیلپ لائن کی سہولت
خیبرپختونخوا میں سیاحوں کی رہنمائی اور فوری مدد کیلئے ٹورازم ہیلپ لائن 1422 بھی فعال ہے۔
اس کے ذریعے سیاح معلومات حاصل کرنے، شکایات درج کرانے اور ہنگامی صورتحال میں مدد لینے کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ سہولت سیاحتی علاقوں میں آنے والے افراد کیلئے بروقت رہنمائی اور سروس فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔
مقامی آبادی کو معاشی فوائد پہنچانے کی کوشش
حکومت کی جانب سے سیاحت کے معاشی فوائد مقامی آبادی تک پہنچانے کیلئے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بینک آف خیبر کے تعاون سے میزبان سیاحتی پروگرام کے تحت سوات، چترال، دیر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے مختلف سیاحتی علاقوں میں مقامی افراد کو سیاحوں کیلئے رہائش کی سہولت بہتر بنانے کیلئے بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض مستحق افراد کو 30 لاکھ روپے تک قرضہ فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے گھروں میں سیاحوں کیلئے کمرے تعمیر یا موجودہ کمروں کی تزئین و آرائش کر سکیں۔
مزید سیاحتی سہولیات کی فراہمی
صوبے کے مختلف ڈیموں، آبشاروں اور سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے بھی جاری ہیں۔
ان سہولیات میں مساجد، واش رومز، معلوماتی ڈیسک، بیٹھنے کی جگہیں، کار پارکنگ، ٹک شاپس اور سکیورٹی سے متعلق سہولیات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مختلف مقامات پر ٹورسٹ فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ سیاحوں کو ایک ہی جگہ پر رہائش، معلومات، پارکنگ اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خیبرپختونخوا کیلئے سیاحت کی اہمیت
خیبرپختونخوا میں بلند پہاڑ، وادیاں، برف پوش چوٹیاں، جنگلات، جھیلیں، آبشاریں اور تاریخی مقامات موجود ہیں، جو ایڈونچر اور قدرتی سیاحت کیلئے نمایاں صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگر انفراسٹرکچر، سکیورٹی، تربیت، ماحولیات اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو ایک مربوط نظام کے تحت آگے بڑھایا جائے تو صوبے کے نسبتاً کم معروف علاقوں کو بھی ملکی سیاحتی مارکیٹ میں نمایاں کیا جا سکتا ہے۔
ایڈونچر ٹورازم کی ترقی سے مقامی گائیڈز، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، ٹریول آپریٹرز اور چھوٹے کاروباروں کیلئے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
نتیجہ
خیبرپختونخوا میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کیلئے جاری منصوبوں میں نئے سیاحتی راستوں کی بہتری، تربیتی مراکز، ٹریکنگ سرگرمیوں، سیاحتی سہولیات، ٹورازم پولیس اور ماحول دوست اقدامات شامل ہیں۔ اگر یہ منصوبے مؤثر انداز میں مکمل اور مستقل بنیادوں پر چلائے گئے تو صوبے کے قدرتی علاقوں کو ایڈونچر ٹورازم کے بڑے مراکز میں تبدیل کرنے اور مقامی آبادی کیلئے معاشی مواقع بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!