Saturday, September 19, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی، رواں سال 4 کیسز رپورٹ

پاکستان میں پولیو کے نئے کیسز کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 16 ستمبر 2026 تک ملک میں رواں سال وائلڈ پولیو وائرس کے 4 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2025 میں 31 کیسز سامنے آئے تھے۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ وائرس کی مکمل منتقلی روکنے کے لیے ویکسینیشن اور نگرانی کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔

پاکستان میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی، رواں سال 4 کیسز رپورٹ

پاکستان میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی

پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری کوششوں کے دوران رواں سال کیسز کی تعداد میں واضح کمی سامنے آئی ہے۔ عالمی پولیو خاتمہ پروگرام کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 16 ستمبر 2026 تک پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس کے 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ گزشتہ سال ملک میں 31 کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے۔

یہ کمی ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے جاری ویکسینیشن مہمات، نگرانی اور ہائی رسک علاقوں پر توجہ کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم صحت کے حکام کے لیے چیلنج ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ بعض علاقوں میں وائرس کی موجودگی کے شواہد اب بھی سامنے آ رہے ہیں۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح فرق

اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 2026 میں 16 ستمبر تک کیسز کی تعداد 4 ہے۔ عالمی پولیو خاتمہ پروگرام کے مطابق رواں سال کا تازہ ترین کیس جنوبی خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے رپورٹ ہوا۔

یہ فرق پولیو کے خلاف قومی سطح پر جاری اقدامات میں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم صرف کیسز کی تعداد میں کمی کو مکمل خاتمے کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بنوں سے تازہ کیس رپورٹ

عالمی پولیو خاتمہ پروگرام کے مطابق پاکستان میں رواں سال کا چوتھا وائلڈ پولیو کیس بنوں سے رپورٹ ہوا۔ اس کیس میں فالج کی علامات 7 اگست 2026 کو ظاہر ہوئیں۔

خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع پولیو کے حوالے سے اب بھی حساس علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ سکیورٹی اور رسائی سے متعلق مسائل بعض علاقوں میں ویکسینیشن سرگرمیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، جس کے باعث بچوں تک بروقت پہنچنا ایک اہم چیلنج برقرار ہے۔

سندھ میں بھی صورتحال میں بہتری

پولیو کے خلاف پیش رفت صرف قومی اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ سندھ میں بھی کیسز میں نمایاں کمی رپورٹ ہوئی ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق صوبے میں 2026 کے دوران اب تک صرف ایک پولیو کیس سامنے آیا ہے، جبکہ 2025 میں سندھ میں 9 اور 2024 میں 23 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ ماحولیاتی نگرانی سے بھی یہ اشارہ ملا ہے کہ وائرس کی گردش چند باقی ماندہ ہائی رسک علاقوں تک محدود ہو رہی ہے۔

صوبائی حکام نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ویکسینیشن اور نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔

ماحولیاتی نگرانی سے کیا پتا چلتا ہے؟

پولیو کی نگرانی صرف انسانی کیسز کی تشخیص تک محدود نہیں ہوتی۔ ماحولیاتی نمونوں کے ذریعے بھی یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ وائرس کسی علاقے میں گردش کر رہا ہے یا نہیں۔

عالمی پولیو خاتمہ پروگرام کے مطابق 2026 میں پاکستان سے وائلڈ پولیو وائرس کے متعدد مثبت ماحولیاتی نمونے رپورٹ ہوئے ہیں، اگرچہ ان کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ 16 ستمبر تک تازہ ترین مثبت ماحولیاتی نمونہ بلوچستان سے رپورٹ ہوا تھا۔

اسی وجہ سے کیسز میں کمی کے باوجود نگرانی کا نظام برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ وائرس کی ماحولیاتی موجودگی کسی علاقے میں ایسے بچوں تک بھی پہنچنے کا خطرہ ظاہر کر سکتی ہے جن میں ابھی بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

عالمی ادارہ صحت کی اہم تنبیہ

عالمی ادارہ صحت نے اگست 2026 میں کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں وائلڈ پولیو وائرس کے کیسز اور ماحولیاتی مثبت نمونوں کی مجموعی سمت میں کمی دیکھی گئی ہے، لیکن جنوبی خیبرپختونخوا اور کراچی سمیت بعض اہم علاقوں میں وائرس کی منتقلی برقرار ہے۔

WHO کے مطابق کراچی اب بھی پولیو وائرس کی منتقلی کے حوالے سے ایک اہم مرکز ہے، جبکہ جنوبی خیبرپختونخوا میں سکیورٹی اور رسائی کے مسائل ویکسینیشن سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اس لیے عالمی ادارہ صحت نے اس پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ کیسز اور ماحولیاتی مثبت نمونوں میں کمی کو پولیو کے خاتمے کی حتمی کامیابی نہیں سمجھا جا سکتا۔

ویکسینیشن مہمات کی اہمیت

پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے بچوں کی ویکسینیشن بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں قومی اور ذیلی سطح پر ویکسینیشن مہمات جاری ہیں، جبکہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں اضافی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

عالمی پولیو خاتمہ پروگرام کے مطابق پاکستان نے 2026 میں بھی قومی سطح کی ویکسینیشن مہمات جاری رکھی ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد ایسے بچوں تک پہنچنا ہے جو کسی وجہ سے معمول کی ویکسینیشن یا پولیو مہم سے محروم رہ جاتے ہیں۔

پیش رفت کے باوجود چیلنجز برقرار

پولیو کیسز میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن پاکستان اب بھی ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں وائلڈ پولیو وائرس کی منتقلی برقرار ہے۔ WHO کے مطابق پاکستان اور افغانستان کو پولیو کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ وبائی خطے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان آبادی کی نقل و حرکت وائرس کی منتقلی کے خطرے کو برقرار رکھتی ہے۔

پاکستان میں خاص طور پر جنوبی خیبرپختونخوا اور کراچی جیسے علاقوں میں ویکسینیشن کوریج، نگرانی اور بچوں تک رسائی کو مسلسل بہتر بنانا ضروری ہے۔

حکومت کا پولیو کے خاتمے کا عزم

حکومت نے پولیو وائرس کی مکمل منتقلی روکنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ 18 ستمبر کو وزیراعظم کی نیشنل ٹاسک فورس سے متعلق اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھے گی۔

حکومتی سطح پر پولیو کے خاتمے کو بچوں کی صحت اور مستقبل سے متعلق قومی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے، جبکہ ویکسینیشن پروگرام کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

پاکستان کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت

پولیو کیسز میں کمی پاکستان کے لیے صحت عامہ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہتا ہے اور باقی رہ جانے والے وائرس کی منتقلی کے مراکز میں مؤثر طور پر قابو پایا جاتا ہے تو ملک پولیو کے خاتمے کے ہدف کے مزید قریب جا سکتا ہے۔

تاہم موجودہ اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل ویکسینیشن، مضبوط ماحولیاتی نگرانی اور ہر بچے تک رسائی ضروری ہے۔

نتیجہ

پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ 16 ستمبر 2026 تک ملک میں 4 وائلڈ پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 31 تھی۔

یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، لیکن WHO کے مطابق جنوبی خیبرپختونخوا، کراچی اور بعض دیگر حساس علاقوں میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ اس لیے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ویکسینیشن، نگرانی اور ہائی رسک علاقوں میں مسلسل اقدامات جاری رکھنا ضروری ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!