ویکسین سے روکی جا سکنے والی بیماریوں پر دوبارہ توجہ
دنیا بھر میں خسرہ اور دیگر ویکسین سے روکی جا سکنے والی بیماریوں کے دوبارہ پھیلاؤ نے معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کو ایک مرتبہ پھر عالمی صحت کے ایجنڈے میں نمایاں کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور گاوی سمیت صحت کے عالمی شراکت دار ویکسینیشن کے خلا کو ختم کرنے اور ان بچوں تک پہنچنے پر زور دے رہے ہیں جو معمول کی ویکسین سے محروم رہ گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 29 ملین شیر خوار بچے خسرے کے خلاف مکمل طور پر محفوظ نہیں تھے، جبکہ صرف 77 فیصد بچوں نے خسرے کی ویکسین کی دونوں خوراکیں حاصل کیں۔
خسرہ سمیت کئی بیماریوں کا خطرہ
خسرہ ویکسین سے روکی جا سکنے والی بیماریوں میں سب سے نمایاں مثال ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسف نے 2025 میں خبردار کیا تھا کہ کئی خطوں میں ویکسینیشن کی شرح میں کمی یا جمود کے باعث خسرے کے پھیلاؤ کا خطرہ برقرار ہے۔
2023 میں دنیا بھر میں خسرے کے اندازاً 10.3 ملین کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جو 2022 کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ تھے۔ اسی عرصے میں معمول کی ویکسین کی تمام خوراکوں سے محروم رہنے والے بچوں کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً 14.5 ملین ہوگئی تھی۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گزشتہ برسوں میں حاصل ہونے والی ویکسینیشن کی پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔
وباؤں کے دوبارہ پھیلاؤ کی وجوہات
صحت کے عالمی اداروں کے مطابق ویکسینیشن میں خلا پیدا ہونے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ان میں صحت کے نظام میں رکاوٹیں، تنازعات، نقل مکانی، دور دراز علاقوں تک صحت کی سہولیات کی محدود رسائی اور بچوں کا معمول کے حفاظتی ٹیکوں سے رہ جانا شامل ہیں۔
WHO، UNICEF اور Gavi نے نشاندہی کی ہے کہ تنازعات اور کمزور حالات سے دوچار ممالک میں ایسے بچوں کی تعداد خاص طور پر زیادہ ہے جنہیں معمول کی ویکسین کی ایک بھی خوراک نہیں مل سکی۔
2026 میں دوبارہ عالمی توجہ
2026 میں بھی عالمی صحت کے ادارے ویکسینیشن کی اہمیت اجاگر کر رہے ہیں۔ عالمی حفاظتی ٹیکہ کاری ہفتہ 2026 کے دوران WHO، UNICEF اور Gavi نے بچوں، خاندانوں اور معاشروں کو ویکسین سے محفوظ رکھنے کے لیے دوبارہ عزم اور پائیدار مالی معاونت پر زور دیا۔
Gavi کے نئے 2026 سے 2030 کے پروگرام میں 500 ملین مزید بچوں تک پہنچنے اور ویکسین کے ذریعے مزید 8 سے 9 ملین اموات روکنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
مختلف ممالک میں حفاظتی مہمات
کئی ممالک میں ویکسین سے روکی جا سکنے والی بیماریوں کے کیسز سامنے آنے کے بعد دوبارہ حفاظتی مہمات شروع کی گئی ہیں۔
بنگلہ دیش میں خسرہ اور روبیلا کے پھیلاؤ کے بعد اپریل 2026 میں ہنگامی ویکسینیشن مہم شروع کی گئی، جس کا ابتدائی ہدف 18 زیادہ خطرے والے اضلاع میں 12 لاکھ سے زیادہ بچوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ WHO، UNICEF اور Gavi نے اس مہم میں حکومت کی معاونت کی۔
اسی طرح انڈونیشیا میں بھی کم ویکسینیشن کوریج والے علاقوں میں خسرہ اور دیگر ویکسین سے روکی جا سکنے والی بیماریوں کے خطرے کے باعث حفاظتی ٹیکہ کاری کے خلا کو کم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ویکسینیشن کوریج میں معمولی کمی بھی اہم
بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صرف قومی سطح پر ویکسینیشن کی اوسط شرح کافی نہیں ہوتی بلکہ مختلف علاقوں اور کمیونٹیز میں مناسب کوریج بھی ضروری ہے۔
WHO کے مطابق خسرے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہر کمیونٹی میں تقریباً 95 فیصد کوریج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی علاقے میں بڑی تعداد میں بچے ویکسین سے محروم رہ جائیں تو بیماری کے دوبارہ پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یورپ اور وسطی ایشیا میں بھی 2024 کے دوران کئی بچپن کی ویکسینز کی کوریج 2023 کے مقابلے میں جمود یا کمی کا شکار رہی، جس کے باعث خسرہ اور کالی کھانسی سمیت بیماریوں کے دوبارہ پھیلاؤ کے خدشات برقرار رہے۔
پاکستان کے لیے بھی اہم پیغام
ویکسین سے روکی جا سکنے والی بیماریوں کے عالمی رجحانات پاکستان کے لیے بھی اہم ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری، پولیو کے خاتمے اور خسرہ سمیت دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے پروگرام صحت عامہ کا اہم حصہ ہیں۔
خاص طور پر ایسے بچوں تک پہنچنا ضروری ہے جو کسی وجہ سے معمول کی ویکسینیشن سے محروم رہ گئے ہوں۔ عالمی اداروں کی جانب سے "زیرو ڈوز" بچوں تک رسائی پر مسلسل زور اسی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان جیسے بڑے اور آبادی کے لحاظ سے متنوع ملک میں دور دراز علاقوں تک ویکسین کی رسائی، والدین میں آگاہی اور معمول کی ویکسینیشن کا تسلسل بیماریوں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ویکسینیشن میں تسلسل کیوں ضروری ہے؟
ویکسینیشن کا فائدہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔ جب کسی کمیونٹی میں زیادہ تعداد میں افراد بیماری کے خلاف محفوظ ہوں تو بیماری کے پھیلاؤ کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔
اسی لیے عالمی صحت کے ادارے معمول کی ویکسینیشن کے ساتھ ان بچوں کے لیے کیچ اپ مہمات کی اہمیت پر زور دیتے ہیں جو مقررہ وقت پر ویکسین حاصل نہیں کر سکے۔
WHO کے مطابق خسرے سے بچاؤ کے لیے دو خوراکیں تجویز کی جاتی ہیں کیونکہ پہلی خوراک کے بعد ہر بچے میں مطلوبہ مدافعت پیدا ہونا ضروری نہیں۔
عالمی صحت کے نظام کے لیے چیلنج
ویکسینیشن کے نظام کو مضبوط رکھنے کے لیے صرف ویکسین کی دستیابی کافی نہیں بلکہ تربیت یافتہ صحت کارکنوں، مؤثر نگرانی، درست اعداد و شمار، کولڈ چین، رسائی اور پائیدار مالی معاونت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
Gavi کے 2026 سے 2030 کے پروگرام میں بھی ویکسینیشن پروگراموں کو مضبوط بنانے، کمزور اور انسانی بحران سے متاثرہ علاقوں میں مدد بڑھانے اور ویکسین کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
نتیجہ
دنیا میں خسرہ سمیت ویکسین سے روکی جا سکنے والی بیماریوں کے دوبارہ پھیلاؤ نے حفاظتی ٹیکہ کاری پر عالمی توجہ ایک بار پھر بڑھا دی ہے۔ لاکھوں بچے اب بھی مکمل ویکسینیشن سے محروم ہیں، جبکہ کئی ممالک میں بیماریوں کے پھیلاؤ کے بعد ہنگامی ویکسینیشن مہمات شروع کی گئی ہیں۔
عالمی اداروں کا زور معمول کی ویکسینیشن مضبوط بنانے، ویکسین سے محروم بچوں تک رسائی بڑھانے اور ان بیماریوں کے خلاف حاصل ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنے پر ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!