Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

PIMS میں 14 نومولود جاں بحق، 8 افسران معطل

میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد تحقیقاتی رپورٹ میں فائر الارم، اسپرنکلر اور ہنگامی انتظامات سمیت سنگین خامیاں سامنے آگئیں۔ وزیراعظم نے 8 افسران کی معطلی اور فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی۔ PIMS

PIMS میں 14 نومولود جاں بحق، 8 افسران معطل

PIMS میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا معاملہ، 8 افسران معطل، اسپتالوں کی فائر سیفٹی پر بڑے سوالات

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد تحقیقات میں سنگین انتظامی اور فائر سیفٹی خامیاں سامنے آگئی ہیں، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے 8 افسران کو فوری طور پر معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی شروع کرنے کی منظوری دے دی۔

تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق آگ نے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ کو تقریباً دو منٹ میں اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ واقعے کے وقت وارڈ میں متعلقہ نگرانی کرنے والا عملہ بھی موجود نہیں تھا، جبکہ صرف دو نرسیں، ایک خاتون سکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر ڈیوٹی پر موجود تھے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں سب سے اہم انکشاف یہ سامنے آیا کہ نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں آگ یا دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تفصیلی طریقہ کار اور مناسب تربیت کا بھی فقدان تھا۔

تحقیقات کے مطابق آگ لگنے کے تقریباً چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی جبکہ ابتدائی ہنگامی ردعمل تقریباً 15 منٹ بعد پہنچا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ PIMS کے نرسنگ ہاسٹل میں جولائی 2026 میں بھی آگ لگ چکی تھی، تاہم اس واقعے کے بعد ہسپتال میں فائر سیفٹی کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

وزیراعظم کی منظوری کے بعد معطل کیے جانے والے 8 افراد میں PIMS کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، شعبہ نوزائیدہ بچوں کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغمہ، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، PIMS کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان اور CDA کے ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ مزید تفصیلی تحقیقات مکمل کرکے حتمی رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس افسوسناک واقعے نے ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین اور شہریوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر ایک بڑے سرکاری اسپتال کے انتہائی حساس نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں بنیادی فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا تو دیگر سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی صورتحال کیا ہے۔

PIMS واقعے کے بعد اسپتالوں میں فائر سیفٹی نظام، ہنگامی راستوں، فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم، عملے کی تربیت اور ایمرجنسی رسپانس کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت مزید نمایاں ہوگئی ہے۔

حکام کی جانب سے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات بہتر بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!