پاکستان اور قطر میں پاکستانی کارکنوں کے لیے اہم پیش رفت، ہیومن ریسورس کوریڈور بنانے پر اتفاق
دوحہ: پاکستان اور قطر نے پاکستانی کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع بہتر بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان افرادی قوت کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان لیبر اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ میں پائیدار اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ چوہدری سالک حسین نے قطر کے دورے کے اختتام پر قطر نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد اور دوحہ کا حتمی مقصد پاکستان-قطر ہیومن ریسورس کوریڈور قائم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت روایتی بھرتی کے بجائے تصدیق شدہ مہارت، ذمہ دارانہ روزگار اور قطر کی مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق پاکستانی کارکنوں کی نقل و حرکت پر توجہ دی جائے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پاکستانی کارکنوں کی بھرتی، مہارتوں کو ملازمتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے، روانگی سے قبل تربیت اور کارکنوں کی فلاح و بہبود سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
اس مقصد کے لیے دونوں ممالک نے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ گروپ باقاعدگی سے اجلاس کرے گا اور قطر میں درکار ہنرمند افرادی قوت کی ضروریات کا جائزہ لینے کے ساتھ بھرتی کے طریقہ کار اور تربیتی پروگراموں کو مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق بنانے میں کردار ادا کرے گا۔
پاکستانی وزیر کے مطابق اب حکومت کی توجہ صرف بیرون ملک زیادہ تعداد میں کارکن بھیجنے کے بجائے زیادہ ہنرمند، تربیت یافتہ اور روزگار کے لیے تیار افرادی قوت فراہم کرنے پر ہے۔ پاکستانی کارکنوں کی تربیت کو قطر نیشنل وژن 2030 کے انسانی ترقی اور معاشی تنوع سے متعلق اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں توانائی، ایل این جی، صحت، سیاحت، مہمان نوازی، لاجسٹکس، سہولیات کے انتظام، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسز سمیت مختلف شعبوں میں پاکستانی ہنرمندوں کے لیے مواقع بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور قطر مشترکہ تربیتی پروگرام شروع کرنے اور پاکستانی تعلیمی اسناد و پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس کی قطر میں متعلقہ اداروں کے معیار کے مطابق باہمی شناخت کے امکانات بھی تلاش کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد ایسے کارکنوں کی دستیابی یقینی بنانا ہے جو مطلوبہ مہارت، تربیت اور طبی معیار پر پورا اترتے ہوں۔
پاکستانی کارکنوں کی محفوظ اور قانونی نقل مکانی کو یقینی بنانے کے لیے بھرتی ایجنسیوں کی نگرانی اور لائسنسنگ کا نظام بھی مزید سخت کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ روانگی سے قبل کارکنوں کے لیے لازمی اورینٹیشن اور تربیتی کورسز بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں قطر کی ثقافت، قوانین اور کام کی جگہ کے تقاضوں سے آگاہی شامل ہے۔
حکام کے مطابق پاسپورٹ اور امیگریشن نظام کو بھی جدید بنایا جا رہا ہے، جبکہ افرادی قوت کی نقل و حرکت کی نگرانی اور بہتر انتظام کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک اینالیسس یونٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔
پاکستان اور قطر کے درمیان یہ پیش رفت پاکستانی ہنرمند کارکنوں کے لیے مستقبل میں مزید منظم اور بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!