Thursday, September 17, 2026
تازہ ترین

پنجاب میں پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت انٹیلی جنس ہب قائم

پنجاب میں پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت انٹیلی جنس ہب قائم کر دیا گیا، جس کا مقصد سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ، خطرات کی پیشگی نشاندہی اور بروقت کارروائی بہتر بنانا ہے۔

پنجاب میں پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت انٹیلی جنس ہب قائم

پنجاب میں پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت انٹیلی جنس ہب قائم، سکیورٹی نظام میں بڑی پیش رفت

لاہور: پنجاب میں سکیورٹی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت پر مبنی انٹیلی جنس ہب قائم کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر مصنوعی ذہانت ہب کی بھی ای لانچنگ کی۔

حکومت پنجاب کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد مختلف سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور رابطے کو مزید مؤثر بنانا، ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت کا خصوصی ہب قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے تصور کو چند ماہ کے اندر عملی نظام میں تبدیل کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔

نئے انٹیلی جنس نظام کو صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ اس مرکز کا بنیادی مقصد مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرکے ممکنہ سکیورٹی خطرات کا تجزیہ کرنا اور متعلقہ اداروں تک بروقت معلومات پہنچانا ہے۔

سکیورٹی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ

حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ اس کے ذریعے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی معلومات کا تجزیہ کیا جا سکے گا اور ممکنہ خطرات کی نشاندہی کے بعد متعلقہ اداروں کو بروقت الرٹس فراہم کیے جا سکیں گے۔

پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ اس نظام سے دہشت گردی، جرائم اور دیگر سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ردعمل کا وقت کم کرنے میں مدد ملے گی۔

خطرات کی پیشگی نشاندہی پر توجہ

نئے نظام میں صرف کسی واقعے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق اصل کامیابی یہ ہوگی کہ کسی بڑے واقعے کے رونما ہونے سے پہلے ہی خطرے کو شناخت کرکے مؤثر کارروائی کی جائے۔

اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو سکیورٹی معلومات کے تجزیے اور بروقت فیصلہ سازی میں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پولیس اور دیگر ادارے ایک نظام کے تحت

وزیراعلیٰ مریم نواز نے پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر کام کرنے کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کا ایک مربوط نظام کے تحت کام کرنا ضروری ہے۔

اس منصوبے میں پاکستان آرمی کے تعاون کا بھی ذکر کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے لاہور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ اور دیگر متعلقہ حکام کے تعاون پر اظہار تشکر کیا۔

پہلے سے جاری اقدامات کو بھی وسعت

پنجاب میں مصنوعی ذہانت ہب کا قیام ایک بڑے سکیورٹی اور ڈیجیٹل نگرانی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس سے قبل صوبائی حکومت نے انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر، سائبر کرائم سیل، انسداد ڈرون یونٹ، داخلی و خارجی راستوں پر جدید ڈیجیٹل اسکینرز اور ضلعی سطح پر نگرانی کے ڈیش بورڈ جیسے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

فروری 2026 میں پنجاب حکومت نے واضح کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت ہب کو اسی انٹیلی جنس مرکز کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ سائبر سکیورٹی اور دیگر عملی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

پنجاب کے مصنوعی ذہانت منصوبے کا وسیع تر پس منظر

پنجاب حکومت پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے وسیع منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مارچ 2026 میں پنجاب کی پہلی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی کی منظوری دی گئی تھی، جس کا ہدف 2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا نمایاں مصنوعی ذہانت سے چلنے والا صوبہ بنانا ہے۔

حکومت کے مطابق مصنوعی ذہانت کو صرف سکیورٹی تک محدود رکھنے کے بجائے حکومتی اداروں، عوامی خدمات اور انتظامی کارکردگی میں بھی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔

شہریوں کے تحفظ کے لیے نئی سمت

مصنوعی ذہانت پر مبنی انٹیلی جنس ہب کے قیام سے پنجاب کے سکیورٹی نظام میں ڈیٹا کے استعمال، خطرات کے تجزیے اور بروقت ردعمل کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔ تاہم اس نظام کی حقیقی افادیت کا اندازہ اس کے عملی استعمال، درستگی، اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور شہریوں کے حقوق و رازداری کے تحفظ کے ساتھ کیا جائے گا۔

پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سکیورٹی اداروں کو مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر اور بروقت نظام فراہم کیا جا سکے گا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!