Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

حکومت کا صوبائی دائرہ اختیار والی 17 وزارتیں ختم کرنے سے انکار

وفاقی حکومت نے 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کیے گئے دائرہ اختیار سے متعلق 17 وزارتیں ختم کرنے سے انکار کردیا، جس سے وفاق اور صوبوں کے اختیارات کی بحث دوبارہ اہم ہوگئی۔

حکومت کا صوبائی دائرہ اختیار والی 17 وزارتیں ختم کرنے سے انکار

حکومت کا صوبائی دائرہ اختیار والی 17 وزارتیں ختم کرنے سے انکار

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ان 17 وزارتوں اور متعلقہ شعبوں کو ختم کرنے سے انکار کردیا ہے جن کے معاملات 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ یہ معاملہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور وفاقی حکومت کے حجم میں کمی سے متعلق جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مذکورہ شعبے 2010 میں 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے، تاہم ان سے متعلق بعض وفاقی سطح کے انتظامی ڈھانچے اور ادارے اب بھی موجود ہیں۔ حکومت نے ان وزارتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

18ویں ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی

18ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم میں نمایاں تبدیلیاں ہوئیں۔ متعدد شعبوں کو صوبائی دائرہ اختیار میں منتقل کیا گیا تاکہ صوبائی حکومتیں اپنے علاقوں سے متعلق معاملات زیادہ مؤثر انداز میں چلا سکیں۔

تاہم وقت گزرنے کے باوجود وفاقی سطح پر بعض ایسے ادارے اور انتظامی ڈھانچے موجود رہے جو ان شعبوں سے متعلق امور دیکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے وفاقی حکومت کے حجم، اخراجات اور وزارتوں کی تعداد میں کمی کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

17 وزارتوں کا معاملہ کیوں اہم ہے؟

17 وزارتوں کو ختم کرنے کا معاملہ وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ اور اخراجات کم کرنے کی کوششوں سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے وفاقی اداروں کو زیادہ مؤثر بنانے، غیر ضروری عہدوں اور اداروں کو ختم کرنے اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور غیر ضروری عہدوں کے خاتمے کی ہدایات دی ہیں۔

تاہم 17 وزارتوں کے معاملے میں حکومت نے انہیں ختم کرنے کے بجائے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ مہم

وفاقی حکومت کی جانب سے رائٹ سائزنگ کے تحت کئی اداروں اور سرکاری شعبوں کے حوالے سے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر ضروری سرکاری ڈھانچے اور عہدوں کو کم کرنے سے قومی خزانے پر مالی بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق حکومت پہلے ہی بعض اداروں کی بندش اور تنظیم نو کے اقدامات کرچکی ہے، جن میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ اور پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن شامل ہیں۔

اس پس منظر میں 17 وزارتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومتی رائٹ سائزنگ پالیسی کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

وفاق اور صوبوں کے اختیارات کا سوال

17 وزارتوں کا معاملہ بنیادی طور پر اس سوال سے جڑا ہے کہ جو شعبے آئینی طور پر صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، ان سے متعلق وفاقی سطح پر موجود اداروں اور وزارتوں کا مستقبل کیا ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے مختلف حلقے وفاقی حکومت کے حجم میں مزید کمی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اگست 2026 میں سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی نے بھی وفاقی حکومت کے پاس صوبائی نوعیت کے شعبے برقرار رکھنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ کمیٹی نے وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے اور اخراجات گھٹانے کو اہم قرار دیا تھا۔

وفاقی حکومت کا مؤقف

حکومت کی جانب سے 17 وزارتوں کو ختم نہ کرنے کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی سطح پر ان شعبوں سے متعلق کچھ انتظامی ذمہ داریاں اور ضروریات اب بھی موجود سمجھی جا رہی ہیں۔

حکومت کے لیے ایک طرف سرکاری اخراجات کم کرنا اور دوسری طرف وفاقی سطح پر ضروری انتظامی صلاحیت برقرار رکھنا اہم چیلنج ہے۔

قومی خزانے پر اخراجات کم کرنے کی کوشش

پاکستان میں سرکاری اخراجات کم کرنا گزشتہ کئی برسوں سے اہم معاشی موضوع رہا ہے۔ وفاقی حکومت بھی مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے سرکاری اداروں کی تنظیم نو، غیر ضروری عہدوں کے خاتمے اور مختلف محکموں کو ضم یا بند کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔

رائٹ سائزنگ کا بنیادی مقصد حکومت کے غیر ضروری اخراجات کم کرکے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تربیت کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی بڑھانے پر زور دیا ہے۔

صوبوں کے لیے کیا اہمیت ہے؟

صوبائی حکومتوں کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد کئی شعبوں میں صوبوں کو زیادہ اختیارات حاصل ہوئے۔ اگر ان شعبوں سے متعلق وفاقی ادارے برقرار رہتے ہیں تو وفاق اور صوبوں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم کے حوالے سے مزید بحث پیدا ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب وفاقی سطح پر یہ مؤقف اختیار کیا جاسکتا ہے کہ بعض شعبوں میں قومی سطح پر پالیسی سازی، رابطہ کاری یا دیگر آئینی و انتظامی ذمہ داریوں کے لیے وفاقی ڈھانچے کی ضرورت باقی ہے۔

آئندہ کیا ہوگا؟

17 وزارتوں کو ختم نہ کرنے کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر بحث مزید اہم ہوسکتی ہے۔

حکومت کو ایک طرف اپنی رائٹ سائزنگ پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہے جبکہ دوسری طرف ایسے وفاقی اداروں کو برقرار رکھنا ہے جنہیں وہ قومی سطح پر ضروری سمجھتی ہے۔

یہ معاملہ مستقبل میں مشترکہ مفادات کونسل، پارلیمنٹ یا دیگر متعلقہ فورمز پر بھی مزید زیر بحث آسکتا ہے۔

اہم سیاسی و انتظامی پیش رفت

حکومت کا 17 وزارتیں ختم کرنے سے انکار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں وفاقی حکومت کے حجم اور سرکاری اخراجات میں کمی پر بحث جاری ہے۔ ایک طرف حکومت غیر ضروری عہدوں اور اداروں کے خاتمے کے ذریعے اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف صوبائی دائرہ اختیار سے متعلق وزارتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد 18ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاق اور صوبوں کے اختیارات کی تقسیم، وفاقی وزارتوں کی ضرورت اور قومی خزانے پر سرکاری ڈھانچے کے مالی اثرات ایک مرتبہ پھر اہم بحث بن گئے ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!