Friday, September 11, 2026
تازہ ترین

تین دن میں پٹرول 21.88 روپے مہنگا، لاہور میں رکشہ ڈرائیوروں کا احتجاج

پاکستان میں تین دن کے دوران پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔ نئی قیمت 367.75 روپے مقرر ہونے کے بعد لاہور میں رکشہ، بس اور موٹر سائیکل ڈرائیوروں نے احتجاج کیا۔

تین دن میں پٹرول 21.88 روپے مہنگا، لاہور میں رکشہ ڈرائیوروں کا احتجاج

لاہور: پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور خصوصاً رکشہ ڈرائیوروں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز مزید 3.40 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 367.75 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے، جبکہ گزشتہ تین دن کے دوران پٹرول مجموعی طور پر 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا ہوچکا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے کے خلاف لاہور میں رات گئے رکشہ، بس اور موٹر سائیکل ڈرائیور سڑکوں پر نکل آئے۔ یتیم خانہ چوک میں ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ صرف چند دنوں میں پٹرول کی قیمت میں اتنا بڑا اضافہ محنت کش طبقے کے لیے انتہائی مشکل صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ رکشہ ڈرائیوروں کے مطابق ان کی روزانہ آمدنی پہلے ہی مہنگائی، کم سواریوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث محدود ہے، جبکہ پٹرول مہنگا ہونے سے ان کے روزگار کا بنیادی خرچ مزید بڑھ گیا ہے۔

تین دن میں پٹرول کی قیمت میں 21.88 روپے اضافہ

حکومت نے 10 ستمبر 2026 سے پٹرول کی قیمت میں مزید 3.40 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 364.35 روپے سے بڑھ کر 367.75 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 6.72 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 392.67 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 10 ستمبر سے ہوا ہے۔

تازہ اضافے کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ مسلسل تیسرا اضافہ ہے۔ پٹرول کی قیمت 7 ستمبر کو 345.87 روپے فی لیٹر تھی، جو چند ہی دنوں میں بڑھ کر 367.75 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ یوں صرف تین دن میں فی لیٹر قیمت میں 21.88 روپے کا اضافہ ہوا۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں پہلے ہی اشیائے ضروریہ، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر روزمرہ اخراجات عام شہریوں کے لیے بڑا مالی دباؤ بن چکے ہیں۔

لاہور میں رکشہ ڈرائیوروں کا احتجاج

پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے کے خلاف لاہور میں رات گئے احتجاج کیا گیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یتیم خانہ چوک میں ہونے والے احتجاج میں رکشہ، بس اور موٹر سائیکل ڈرائیوروں نے شرکت کی۔

مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو واپس لیا جائے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں صرف تین دن کے اندر 21 روپے سے زائد کا اضافہ عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

مظاہرین کے مطابق رکشہ ڈرائیور روزانہ کئی گھنٹے سڑکوں پر گزارنے کے باوجود محدود آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے روزانہ اخراجات میں پٹرول کا حصہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو آمدنی کا بڑا حصہ ایندھن خریدنے میں خرچ ہوجاتا ہے اور گھر کے اخراجات کے لیے کم رقم باقی رہتی ہے۔

احتجاج میں شریک رکشہ ڈرائیوروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو مزید مشکلات میں ڈالنے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جائیں۔

رکشہ ڈرائیوروں کے لیے پٹرول مہنگا ہونا بڑا مسئلہ کیوں ہے؟

رکشہ ڈرائیوروں کا روزگار براہ راست پٹرول سے جڑا ہوا ہے۔ ایک عام رکشہ ڈرائیور کے لیے گاڑی چلانے کا مطلب روزانہ پٹرول خریدنا ہے۔ اس لیے پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی اس کی روزانہ آمدنی اور بچت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

جب پٹرول کی قیمت مسلسل بڑھتی رہے تو ڈرائیور کے سامنے بنیادی طور پر دو راستے رہ جاتے ہیں۔ یا تو وہ اپنی آمدنی میں سے زیادہ رقم پٹرول پر خرچ کرے یا پھر سواری سے زیادہ کرایہ طلب کرے۔

دونوں صورتوں میں مسئلہ عام شہری کے لیے پیدا ہوتا ہے۔

اگر رکشہ ڈرائیور کرایہ بڑھاتا ہے تو مزدور، طالب علم، ملازم، بزرگ اور کم آمدنی والے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب اگر کرایہ نہ بڑھایا جائے تو ڈرائیور کے لیے موجودہ کرائے پر رکشہ چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔

اسی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ براہ راست عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور گھریلو بجٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔

عام شہری پر اضافی بوجھ

پٹرول کی قیمت بڑھنے کا اثر صرف گاڑی رکھنے والے افراد تک محدود نہیں ہوتا۔ ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی ایندھن کے اخراجات کا اثر پڑتا ہے۔

سبزی، پھل، دودھ، گوشت، آٹا، چاول، دالیں اور دیگر اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ استعمال ہوتی ہے۔ جب ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھتی ہے تو کاروباری افراد کو بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے قیمتیں بڑھانا پڑ سکتی ہیں۔

اسی طرح دکانوں تک سامان پہنچانے والی گاڑیاں، بسیں، رکشے اور دیگر ٹرانسپورٹ بھی پٹرول یا ڈیزل استعمال کرتی ہیں۔

اس لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا اثر معیشت کے مختلف شعبوں تک پہنچ سکتا ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

صرف پٹرول ہی مہنگا نہیں ہوا بلکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

10 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت 6.72 روپے فی لیٹر بڑھا کر 392.67 روپے مقرر کی گئی ہے۔

ڈیزل کا تعلق بڑی حد تک مال بردار گاڑیوں، بسوں، ٹرکوں، زرعی مشینری اور دیگر شعبوں سے ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ بھی ملک کے معاشی نظام میں وسیع اثرات پیدا کرسکتا ہے۔

اگر ٹرک اور دیگر مال بردار گاڑیوں کے اخراجات بڑھتے ہیں تو مختلف شہروں کے درمیان سامان کی ترسیل مہنگی ہوسکتی ہے۔ اس کا بالواسطہ اثر اشیائے خورونوش اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔

ٹرانسپورٹرز پہلے ہی کرایوں میں اضافے کی بات کرچکے ہیں

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی تشویش سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں نے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کو ناقابل قبول قرار دیا اور حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

اگر مال بردار ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں تو اس کا اثر مارکیٹ تک پہنچنے والے سامان کی قیمت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

پٹرول کی قیمتیں روزانہ تبدیل ہونے کا نظام

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں حالیہ عرصے کے دوران تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں زیادہ بار بار ردوبدل کا طریقہ اختیار کیا ہے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق موجودہ نظام کے تحت قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کی جارہی ہے۔ اس کا مقصد عالمی مارکیٹ میں ہونے والی قیمتوں کی تبدیلی کو زیادہ تیزی سے مقامی قیمتوں میں منتقل کرنا ہے۔

حکومت کے لیے یہ نظام عالمی قیمتوں کے اثرات کو فوری طور پر منتقل کرنے کا ذریعہ ہوسکتا ہے، لیکن صارفین اور ٹرانسپورٹرز کے لیے قیمتوں کی مسلسل تبدیلی کاروباری منصوبہ بندی اور روزانہ کے بجٹ کو مشکل بنا دیتی ہے۔

خاص طور پر رکشہ ڈرائیور اور چھوٹے ٹرانسپورٹر یہ نہیں جان پاتے کہ اگلے چند دنوں میں ان کے ایندھن کے اخراجات کس سطح پر پہنچ جائیں گے۔

عالمی حالات بھی پٹرول کی قیمتوں پر اثر انداز

پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل اور عالمی مارکیٹ سے حاصل کرتا ہے۔ اس لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست یا بالواسطہ اثر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچنے کی صورتحال بھی سامنے آئی ہے۔ خطے میں کشیدگی، شپنگ اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات عالمی تیل مارکیٹ کے لیے اہم عوامل بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک میں عالمی قیمتوں میں اضافہ مقامی صارفین کے لیے براہ راست دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

پٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی کیسے بڑھ سکتی ہے؟

پٹرول کی قیمت میں اضافہ مہنگائی پر کئی راستوں سے اثر ڈال سکتا ہے۔

سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں۔ اس کے بعد سامان کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے۔ کاروباری ادارے اپنی اضافی لاگت کو قیمتوں میں شامل کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب شہریوں کے سفری اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ جو افراد اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کرتے ہیں انہیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم پٹرول پر خرچ کرنا پڑتی ہے۔

اگر کسی گھر کا ماہانہ بجٹ پہلے ہی محدود ہو تو پٹرول کی قیمت میں اچانک اضافہ دیگر ضروریات کے لیے دستیاب رقم کم کرسکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک مزدور یا کم آمدنی والا ملازم اگر روزانہ موٹر سائیکل پر سفر کرتا ہے تو پٹرول کے اخراجات میں چند سو روپے کا اضافہ بھی مہینے کے آخر میں ایک قابل ذکر رقم بن سکتا ہے۔

رکشہ کرایوں پر ممکنہ اثر

لاہور جیسے بڑے شہر میں رکشہ بہت سے شہریوں کے لیے اہم سفری ذریعہ ہے۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں میٹرو یا دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت ہر راستے پر دستیاب نہیں۔

پٹرول مہنگا ہونے کے بعد رکشہ ڈرائیوروں پر کرایہ بڑھانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

لیکن کرایوں میں اضافہ بھی آسان فیصلہ نہیں۔ عام مسافر پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ اگر مختصر فاصلے کا کرایہ بھی بڑھتا ہے تو روزانہ رکشہ استعمال کرنے والے مزدور اور ملازمین کے ماہانہ اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس طرح پٹرول کی قیمت میں اضافہ ایک ایسے سلسلے کو جنم دے سکتا ہے جس میں ڈرائیور کی لاگت بھی بڑھتی ہے اور مسافر کا خرچ بھی۔

حکومت سے فوری ریلیف کا مطالبہ

لاہور میں احتجاج کرنے والے رکشہ اور دیگر ڈرائیوروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو واپس لیا جائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کو عام آدمی کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

احتجاج کرنے والوں کے مطابق موجودہ قیمتوں میں رکشہ چلانا مشکل ہوگیا ہے اور اگر مزید اضافہ ہوا تو ان کے لیے روزانہ کا روزگار جاری رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

ملی رکشہ یونین کی جانب سے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ یونین رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی تنقید

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر سیاسی سطح پر بھی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

جماعت اسلامی پہلے ہی پٹرولیم لیوی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

اس صورتحال میں حکومت کے لیے ایک طرف عالمی تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت کا دباؤ موجود ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی سطح پر قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔

پٹرول کی نئی قیمت نے عوام کو کیوں پریشان کردیا؟

پٹرول کی نئی قیمت 367.75 روپے فی لیٹر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عام صارف کو اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کے ہر سفر کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑے گی۔

ایک موٹر سائیکل سوار جو روزانہ چند لیٹر پٹرول استعمال کرتا ہے، اس کے لیے بھی ماہانہ بجٹ میں فرق پڑے گا۔ بڑی گاڑی رکھنے والے افراد کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔

رکشہ ڈرائیوروں کے لیے مسئلہ مزید سنگین ہے کیونکہ ان کا پٹرول ہی کاروبار کا بنیادی خرچ ہے۔

اگر ایک ڈرائیور اپنی روزانہ آمدنی کا بڑا حصہ پٹرول پر خرچ کرتا ہے تو اس کے پاس گھر لے جانے کے لیے کم رقم باقی رہ جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ رکشہ ڈرائیوروں نے حالیہ احتجاج میں پٹرول کی قیمت میں کمی کو بنیادی مطالبہ بنایا۔

عوامی زندگی پر ممکنہ اثرات

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں عوامی زندگی کے مختلف شعبوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

طلبہ کے سفری اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

ملازمین کے روزانہ آنے جانے کا خرچ بڑھ سکتا ہے۔

چھوٹے کاروباری افراد کی ڈیلیوری لاگت بڑھ سکتی ہے۔

ٹرانسپورٹرز کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مال بردار گاڑیوں کے کرائے بڑھ سکتے ہیں۔

اور بالآخر مختلف اشیاء کی قیمتوں پر بھی دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

یہ تمام عوامل مل کر عام گھرانے کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرسکتے ہیں۔

حکومت کے لیے بڑا امتحان

موجودہ صورتحال حکومت کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے۔ عالمی سطح پر پٹرولیم مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا آسان نہیں، لیکن ہر اضافے کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل کرنے سے سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ عالمی مارکیٹ کی قیمتوں، درآمدی اخراجات، ٹیکسز، پٹرولیم لیوی اور عام صارف کی استطاعت کے درمیان کس طرح توازن قائم کیا جائے۔

دوسری جانب اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس یا لیوی میں کمی کرتی ہے تو حکومتی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔

یہی وہ پیچیدہ صورتحال ہے جس میں حکومت کو عوامی ریلیف اور قومی مالی ضروریات کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔

رکشہ ڈرائیوروں کا مؤقف قابل توجہ کیوں ہے؟

لاہور میں رکشہ ڈرائیوروں کا احتجاج صرف ایک مخصوص شعبے کا احتجاج نہیں بلکہ موجودہ معاشی دباؤ کی ایک مثال بھی ہے۔

رکشہ ڈرائیور عام طور پر روزانہ کی بنیاد پر آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے پاس بڑے کاروباری اداروں کی طرح قیمتوں میں اضافے کو برداشت کرنے کے لیے مالی گنجائش نہیں ہوتی۔

اگر پٹرول مہنگا ہوجائے تو وہ فوری طور پر اس اضافے کا اثر محسوس کرتے ہیں۔

اسی طرح ان کے صارفین بھی زیادہ تر متوسط یا کم آمدنی والے شہری ہوتے ہیں۔

اس لیے رکشہ ڈرائیور اور مسافر دونوں ایک ہی معاشی دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔

مستقبل میں صورتحال کیا رخ اختیار کرسکتی ہے؟

آنے والے دنوں میں پٹرول کی قیمتوں اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر سب کی نظریں رہیں گی۔

اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو پاکستان میں بھی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی بڑھتی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔

اسی طرح لاہور اور دیگر شہروں میں ٹرانسپورٹرز اور رکشہ ڈرائیوروں کے ردعمل کو بھی اہم سمجھا جائے گا۔

اگر حکومت فوری ریلیف فراہم نہیں کرتی تو مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں کی جانب سے مزید احتجاج یا کرایوں میں تبدیلی کے مطالبات سامنے آسکتے ہیں۔

نتیجہ

پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں صرف تین دن کے اندر 21.88 روپے فی لیٹر اضافہ عام شہری کے لیے ایک بڑا مالی جھٹکا بن کر سامنے آیا ہے۔ 10 ستمبر سے پٹرول 367.75 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 392.67 روپے فی لیٹر کا ہوگیا ہے۔

لاہور میں رکشہ، بس اور موٹر سائیکل ڈرائیوروں کا یتیم خانہ چوک میں احتجاج اسی بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا اظہار ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ مہنگا پٹرول ان کے روزگار کو شدید متاثر کررہا ہے۔

پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، کاروبار، سامان کی ترسیل اور عام گھرانے کے بجٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔

اب حکومت کے لیے سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ عالمی تیل مارکیٹ کے دباؤ اور ملکی مالی ضروریات کے ساتھ ساتھ عام شہری کو بھی ممکنہ ریلیف فراہم کرے۔ دوسری طرف رکشہ ڈرائیوروں اور دیگر ٹرانسپورٹرز کے احتجاج نے یہ واضح کردیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ معاشرے کے کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!