Friday, September 11, 2026
تازہ ترین

حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی

حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی۔ TCP نے عالمی سپلائرز سے بولیاں طلب کرلی ہیں، جبکہ درآمدی گندم سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تقسیم کی جائے گی۔

حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی

حکومت نے ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی، سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کو حصہ ملے گا

اسلام آباد: حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی یقینی بنانے اور صوبائی ضروریات پوری کرنے کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ فیصلے کے بعد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) نے عالمی سپلائرز سے گندم کی خریداری کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق درآمد کی جانے والی گندم تازہ ترین فصل یعنی 2026 کی فصل سے حاصل شدہ ہونی چاہیے۔ گندم کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے ملک میں لائی جائے گی، جبکہ درآمدی گندم کو صوبوں کی طلب اور ضرورت کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں گندم کی مجموعی دستیابی، صوبائی ذخائر اور آئندہ مہینوں کی ضروریات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ گندم کی مناسب مقدار میں دستیابی برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ مارکیٹ میں قلت پیدا نہ ہو، قیمتوں پر غیر ضروری دباؤ کم کیا جا سکے اور عوام کو آٹے کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

پہلے مرحلے میں 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد ہوگی

حکومت کی جانب سے گندم کی درآمد کا منصوبہ صرف 7 لاکھ 50 ہزار ٹن تک محدود نہیں ہے۔ اس سے قبل حکومت نے مجموعی طور پر 10 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے فیصلے پر بھی پیش رفت کی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری کے بعد پہلے مرحلے میں 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم کی درآمد کا عمل آگے بڑھایا گیا ہے۔

3 ستمبر کو ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت گندم کے ذخائر کا جائزہ لینے والے اجلاس میں بھی پہلے مرحلے میں 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے اور اس کی ترسیل نومبر میں شروع کرنے کا فیصلہ دہرایا گیا تھا۔

ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے بین الاقوامی ٹینڈر جاری کردیا

حکومت کی منظوری کے بعد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے عالمی سطح پر گندم فراہم کرنے والی کمپنیوں اور سپلائرز سے بولیاں طلب کر لی ہیں۔

TCP کے جاری کردہ ٹینڈر کے مطابق مجموعی طور پر 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدی جائے گی، تاہم حکومت کی ضرورت کے مطابق مقدار میں تقریباً 10 فیصد تک کمی یا اضافہ ممکن ہوگا۔

گندم کی خریداری Cost and Freight (CFR) بنیاد پر کی جائے گی اور گندم بحری راستے سے کراچی اور یا گوادر کی بندرگاہوں تک پہنچائی جائے گی۔

ٹینڈر میں یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ عالمی سپلائر کی جانب سے پیش کی جانے والی مقدار کم از کم 50 ہزار میٹرک ٹن ہونی چاہیے۔ اس سے کم مقدار کی پیشکشیں قابل قبول نہیں ہوں گی۔

گندم 2026 کی تازہ فصل سے حاصل کی جائے گی

حکومت نے درآمدی گندم کے معیار کے حوالے سے بھی واضح شرائط مقرر کی ہیں۔

TCP کے ٹینڈر کے مطابق درآمد کی جانے والی گندم تازہ ترین فصل 2026 سے حاصل شدہ ہونی چاہیے اور اسے مقررہ معیار اور تکنیکی specifications پر پورا اترنا ہوگا۔

اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں درآمد ہونے والی گندم قابل استعمال معیار کی ہو اور اسے آٹے اور دیگر غذائی ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

گندم کو پاکستان کے درآمدی قوانین اور ٹینڈر میں درج دیگر شرائط کے مطابق فراہم کرنا ہوگا۔

16 ستمبر کو بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ

TCP کے مطابق گندم کی درآمد کے لیے عالمی سپلائرز اپنی بولیاں 16 ستمبر 2026 صبح 11 بج کر 30 منٹ تک جمع کرا سکیں گے۔

بولیاں اسی روز دوپہر 12 بجے کھولی جائیں گی۔ ٹینڈر میں تکنیکی اور مالی پیشکشوں سے متعلق الگ شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں۔

سپلائرز کو ٹینڈر کی مقررہ شرائط، معیار، bid security، bid validity، performance guarantee اور دیگر تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد کامیاب بولی دہندگان کے ساتھ خریداری کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

سندھ کو 3 لاکھ ٹن گندم فراہم کی جائے گی

حکومت نے درآمد ہونے والی گندم کو صوبوں کی ضروریات کے مطابق تقسیم کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔

مجموعی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن درآمدی گندم میں سے:

  • سندھ کو 3 لاکھ میٹرک ٹن
  • پنجاب کو 2 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن
  • خیبرپختونخوا کو 2 لاکھ میٹرک ٹن

گندم فراہم کی جائے گی۔

اس تقسیم کا مقصد صوبائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔

پنجاب کو ڈھائی لاکھ ٹن گندم ملے گی

ملک کے سب سے بڑے گندم پیدا کرنے والے صوبے پنجاب کے لیے درآمدی گندم میں سے 2 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن مختص کیے گئے ہیں۔

پنجاب میں گندم اور آٹے کی قیمتیں ملک کی مجموعی غذائی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے صوبے کو اضافی گندم کی فراہمی مارکیٹ میں دستیابی برقرار رکھنے کے حکومتی منصوبے کا حصہ ہے۔

تاہم درآمدی گندم کی اصل قیمت اور اس کے بعد مارکیٹ پر پڑنے والا اثر خریداری کی قیمت، عالمی گندم کی قیمت، فریٹ اور دیگر اخراجات سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔

گندم کی قومی کھپت 3 کروڑ 13 لاکھ ٹن کے قریب

دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت تقریباً 3 کروڑ 13 لاکھ میٹرک ٹن کے قریب ہے۔

اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں گندم کی پیداوار تقریباً 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن رہی۔

اس طرح ملکی پیداوار اور مجموعی ضرورت کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے، جسے حکومت مختلف ذرائع سے پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومت گندم کی قلت کا خطرہ کم کرنا چاہتی ہے

حکومت کی جانب سے گندم درآمد کرنے کا بنیادی مقصد ملک میں مستقبل کی قلت کے خطرے کو کم کرنا اور مارکیٹ میں مناسب ذخائر برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے۔

گندم پاکستان کی بنیادی غذائی اجناس میں شامل ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ براہ راست آٹے اور روٹی سمیت متعدد اشیائے خورونوش کے اخراجات کو متاثر کر سکتا ہے۔

اسی وجہ سے حکومت گندم کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور صوبوں کو پہلے سے موجود سرکاری ذخائر بھی ضرورت کے مطابق فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے PASSCO کو صوبوں کو منظور شدہ حصوں کے مطابق گندم فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی تھی جبکہ صوبوں سے کہا گیا کہ وہ مختص گندم بروقت اٹھائیں اور ادائیگیوں کا عمل مکمل کریں۔

نومبر میں درآمدی گندم کی ترسیل متوقع

حکومت کے پہلے سے جاری کردہ منصوبے کے مطابق 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم کی ترسیل نومبر 2026 میں متوقع ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ موجودہ ٹینڈرنگ اور خریداری کے مراحل مکمل ہونے کے بعد گندم کو پاکستان پہنچانے کا عمل شروع ہوگا۔

حکومت کی کوشش ہے کہ درآمدی گندم کی آمد سے قبل ضروری انتظامات مکمل کیے جائیں تاکہ اسے متعلقہ صوبوں تک پہنچانے میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔

آٹے کی قیمتوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

گندم کی درآمد کے بعد مارکیٹ میں اس کی دستیابی بڑھنے سے آٹے کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم قیمتوں میں کمی کی حتمی ضمانت دینا قبل از وقت ہوگا۔

آٹے کی قیمت صرف گندم کی قیمت سے طے نہیں ہوتی بلکہ اس میں نقل و حمل، ملنگ، بجلی، مزدوری، ٹیکس، ذخیرہ کاری اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔

اس لیے درآمدی گندم مارکیٹ میں دستیابی بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن عام صارف کے لیے آٹے کی قیمت میں حقیقی فرق درآمدی گندم کی خریداری قیمت اور حکومت کی تقسیم و مارکیٹ مینجمنٹ کی پالیسی پر بھی منحصر ہوگا۔

گندم کی درآمد کے فیصلے کا پس منظر

گندم کی درآمد کا فیصلہ حالیہ مہینوں میں حکومت کی جانب سے گندم کے ذخائر، صوبائی ضروریات اور مستقبل کی طلب کا مسلسل جائزہ لینے کے بعد سامنے آیا ہے۔

اگست میں حکومت نے ملکی ضرورت پوری کرنے، قیمتوں پر دباؤ کم کرنے اور اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کے لیے ایک ملین میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے فیصلے پر زور دیا تھا۔

بعد ازاں ستمبر کے آغاز میں حکومت نے واضح کیا کہ پہلے مرحلے میں 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کی جائے گی۔

صوبوں کو بروقت گندم فراہم کرنے پر زور

حکومت کی جانب سے صرف درآمد پر ہی توجہ نہیں دی جا رہی بلکہ پہلے سے موجود سرکاری ذخائر کو بھی ضرورت مند صوبوں تک پہنچانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ PASSCO کے ذخائر سے صوبوں کو منظور شدہ کوٹے کے مطابق گندم فراہم کی جائے۔

صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ مختص گندم بروقت اٹھائیں تاکہ مختلف علاقوں میں سپلائی کے مسائل پیدا نہ ہوں۔

گندم کی درآمد اور غذائی تحفظ

پاکستان میں گندم نہ صرف ایک اہم زرعی فصل ہے بلکہ ملک کے غذائی تحفظ کا بنیادی حصہ بھی ہے۔

آبادی میں اضافے، شہری آبادی کے پھیلاؤ اور آٹے کی مسلسل طلب کے باعث گندم کی سالانہ ضرورت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اگر مقامی پیداوار اور دستیاب ذخائر ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی نہ ہوں تو حکومت کے لیے درآمد کے ذریعے اضافی مقدار حاصل کرنا ایک اہم آپشن بن جاتا ہے۔

حالیہ درآمدی فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں حکومت آنے والے مہینوں میں گندم کی دستیابی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومت کا مقصد ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کے دباؤ پر قابو پانا

حکومتی اجلاسوں میں گندم کی دستیابی کے ساتھ ساتھ قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اگر مارکیٹ میں یہ تاثر پیدا ہو کہ مستقبل میں گندم کی کمی ہوسکتی ہے تو بعض اوقات ذخیرہ اندوزی کے باعث قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ مناسب مقدار میں گندم دستیاب رکھنے سے ایسے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

کسانوں اور مقامی پیداوار کا پہلو بھی اہم

گندم کی درآمد کے ساتھ ساتھ ملکی پیداوار اور کسانوں کے مفادات بھی اہم معاملہ ہیں۔

پاکستان میں گندم کی پیداوار میں کسانوں کے لیے بیج، کھاد، پانی، بجلی، زرعی ادویات، ڈیزل اور مزدوری سمیت مختلف اخراجات شامل ہوتے ہیں۔

ماہرین اور کسان تنظیمیں طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ حکومت کو درآمدی فیصلوں کے ساتھ مقامی پیداوار کے لیے بھی واضح اور مستقل پالیسی بنانی چاہیے۔

درآمدی گندم کا مقصد فوری طور پر ملکی ضرورت پوری کرنا ہو سکتا ہے، تاہم طویل مدت میں غذائی تحفظ کے لیے مقامی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کو مناسب معاشی ترغیبات دینا بھی ضروری ہے۔

نومبر کی سپلائی پر مارکیٹ کی نظریں

حکومت کی جانب سے درآمدی گندم کی ترسیل نومبر میں متوقع ہونے کے باعث آنے والے ہفتوں میں گندم مارکیٹ میں ٹینڈر، عالمی قیمت، فریٹ اور سپلائی کے معاملات اہم رہیں گے۔

عالمی سطح پر بھی گندم کی مارکیٹ مختلف علاقائی تنازعات اور ترسیلی مسائل سے متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث درآمد کنندگان کو قیمت اور شپمنٹ کے حوالے سے محتاط فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے بھی گندم کی بروقت خریداری اور مقررہ شیڈول کے مطابق ملک میں آمد اہم ہوگی تاکہ درآمدی منصوبہ اپنے مطلوبہ مقصد کو پورا کر سکے۔

عوام کے لیے اس فیصلے کی اہمیت

عام شہری کے لیے گندم کی درآمد کا سب سے اہم پہلو آٹے کی دستیابی اور قیمت ہے۔

اگر حکومت مناسب مقدار میں گندم مارکیٹ میں دستیاب رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو قلت کے باعث قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

تاہم عوام کو اس فیصلے کا براہ راست فائدہ اس وقت زیادہ محسوس ہوگا جب درآمدی گندم کی مناسب قیمت پر خریداری، بروقت ترسیل، شفاف تقسیم اور مارکیٹ میں مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔

اہم سوال: کیا پاکستان کو مزید گندم درآمد کرنا پڑے گی؟

حکومت نے مجموعی طور پر ایک ملین میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا تھا، جبکہ موجودہ مرحلے میں 7 لاکھ 50 ہزار ٹن کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا ہے۔

آئندہ مزید گندم درآمد کرنے کی ضرورت کا انحصار ملکی پیداوار، موجودہ ذخائر، صوبائی طلب، مارکیٹ کی صورتحال اور آنے والے مہینوں میں کھپت پر ہوگا۔

اس لیے موجودہ مرحلے میں 7 لاکھ 50 ہزار ٹن کی درآمد کو حکومت کے گندم سپلائی مینجمنٹ پلان کا اہم حصہ قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ باقی مقدار کے بارے میں حتمی فیصلے مستقبل کی صورتحال دیکھ کر کیے جا سکتے ہیں۔

خلاصہ

حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس کے بعد TCP نے عالمی سپلائرز سے بولیاں طلب کرنے کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔

درآمدی گندم 2026 کی تازہ فصل سے حاصل کی جائے گی اور کراچی یا گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے پاکستان پہنچائی جائے گی۔ ٹینڈر کے مطابق عالمی سپلائرز کے لیے کم از کم 50 ہزار میٹرک ٹن کی پیشکش ضروری ہوگی جبکہ بولیاں 16 ستمبر 2026 تک جمع کرائی جا سکیں گی۔

منصوبے کے تحت سندھ کو 3 لاکھ، پنجاب کو 2 لاکھ 50 ہزار اور خیبرپختونخوا کو 2 لاکھ میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد گندم کی مناسب دستیابی، قیمتوں میں استحکام اور عوام کو غذائی اجناس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ تاہم درآمدی گندم کے عوامی فائدے کا اصل اندازہ اس کی خریداری قیمت، بروقت ترسیل اور صوبوں میں شفاف تقسیم کے بعد ہی ہوسکے گا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!