گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ، سیاحت کا شعبہ تیزی سے فعال
گلگت: پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی خطوں میں شامل گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خطے کی بلند پہاڑی چوٹیوں، قدرتی مناظر، جھیلوں، وادیوں اور ایڈونچر ٹورازم میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کے باعث غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں مسلسل بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 10 لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے گلگت بلتستان کے مختلف سیاحتی مقامات کا رخ کیا، جن میں تقریباً 16 ہزار 500 غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران خطے میں مجموعی سیاحوں کی تعداد میں تقریباً 400 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ
گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے سیاحوں نے ہنزہ، سکردو، گلگت، غذر اور دیگر علاقوں کا رخ کیا۔
سیاحت کے شعبے سے وابستہ حکام کے مطابق رواں سال بھی غیر ملکی ایڈونچر ٹورسٹ خاص طور پر کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کے لیے گلگت بلتستان پہنچ رہے ہیں۔
2026 کے ابتدائی سیاحتی سیزن میں غیر ملکی کوہ پیماؤں اور ٹریکرز کی جانب سے پرمٹس کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق مارچ تک ایک ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہوچکی تھیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مرحلے پر یہ تعداد تقریباً 850 تھی۔
ہنزہ اور سکردو غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز
گلگت بلتستان کے مختلف سیاحتی مقامات میں ہنزہ اور سکردو غیر ملکی سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔
ہنزہ کی خوبصورت وادیاں، قدیم قلعے، بلند پہاڑ، عطاآباد جھیل اور منفرد ثقافت سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے، جبکہ سکردو اپنے بلند پہاڑی سلسلوں، جھیلوں، دیوسائی کے میدانوں اور دنیا کی بلند ترین چوٹیوں تک رسائی کے باعث کوہ پیماؤں اور ایڈونچر ٹورسٹ کے لیے اہم مقام بن چکا ہے۔
اسی طرح غذر، گانچھے، نگر اور دیگر علاقوں میں بھی قدرتی مناظر اور پہاڑی سیاحت کے باعث غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
کوہ پیمائی اور ٹریکنگ میں بڑھتی دلچسپی
گلگت بلتستان کی عالمی شہرت کی ایک بڑی وجہ یہاں موجود بلند پہاڑی چوٹیاں ہیں۔ دنیا بھر سے کوہ پیما پاکستان کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے اس خطے کا رخ کرتے ہیں۔
کوہ پیمائی کے ساتھ ساتھ ٹریکنگ، کیمپنگ اور ایڈونچر ٹورازم بھی غیر ملکی سیاحوں کی توجہ حاصل کررہا ہے۔ خاص طور پر موسم گرما میں مختلف ممالک سے آنے والے سیاح گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں کئی روز قیام کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق غیر ملکی ایڈونچر سیاحوں کے لیے کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کا مرکزی سیزن عموماً جون سے اگست کے وسط تک رہتا ہے، جس کے دوران سیاحوں کی آمد میں مزید اضافہ متوقع ہوتا ہے۔
سیاحت سے مقامی معیشت کو فائدہ
غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا براہ راست فائدہ گلگت بلتستان کی مقامی معیشت کو بھی پہنچ رہا ہے۔
سیاحوں کی آمد سے ہوٹل، گیسٹ ہاؤس، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، ٹور گائیڈز، جیپ سروسز، مقامی دستکاری اور دیگر کاروباروں کو فروغ ملتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے بہت سے افراد کے لیے سیاحت آمدنی کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا ہورہے ہیں۔
پاکستان کے مثبت سیاحتی تشخص میں اضافہ
گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ پاکستان کے عالمی سیاحتی تشخص کے لیے بھی مثبت پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
سوشل میڈیا، ٹریول ڈاکیومنٹریز اور غیر ملکی کوہ پیماؤں کی سرگرمیوں کے ذریعے گلگت بلتستان کے قدرتی حسن کو دنیا بھر میں زیادہ نمایاں کیا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے سیاح بھی پاکستان کا رخ کررہے ہیں جو روایتی سیاحت کے بجائے ایڈونچر اور قدرتی مقامات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انفراسٹرکچر بہتر بنانے کی ضرورت
سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ گلگت بلتستان میں سیاحتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا بھی اہم ہوگیا ہے۔
سڑکوں، ہوٹلوں، صحت کی سہولیات، ایمرجنسی سروسز، انٹرنیٹ، صفائی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید بہتر بنانے سے سیاحوں کو زیادہ سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔
سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی سہولیات اور گنجائش میں بہتری کے منصوبوں کو بھی خطے میں بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔
پائیدار سیاحت پر توجہ ضروری
ماہرین کے مطابق سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد گلگت بلتستان کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی چیلنجز بھی سامنے لاسکتی ہے۔
پہاڑی علاقوں کے قدرتی ماحول، گلیشیئرز، جھیلوں اور جنگلات کے تحفظ کے لیے پائیدار سیاحت کے اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ سیاحوں، مقامی افراد اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون سے قدرتی وسائل کو محفوظ رکھتے ہوئے سیاحت کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔
گلگت بلتستان حکومت کا محکمہ سیاحت بھی پائیدار سیاحت، قدرتی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور مقامی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے پر زور دیتا ہے۔
گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کا یہ پہاڑی خطہ عالمی ایڈونچر ٹورازم میں اپنی جگہ مزید مضبوط کررہا ہے۔ اگر بنیادی سہولیات، سیکیورٹی، سفری سہولت اور ماحول کے تحفظ پر مسلسل توجہ دی جائے تو آنے والے برسوں میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!