اسلام آباد: نیلے پاسپورٹ کے غیر قانونی اجرا کا معاملہ ایک بار پھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں زیرِ بحث آیا ہے، جہاں کمیٹی نے غیر مستحق افراد کو سرکاری پاسپورٹ جاری کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرِ صدارت ہوا۔ اجلاس میں سرکاری پاسپورٹس سے متعلق معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے ارکان نے ان افراد کو نیلے پاسپورٹ جاری کیے جانے پر سوالات اٹھائے جو اس سہولت کے قانونی طور پر حقدار نہیں تھے۔
کمیٹی کے رکن سینیٹر دلاور خان نے مطالبہ کیا کہ جن افسران کے دور میں غیر مستحق افراد کو نیلے پاسپورٹ جاری کیے گئے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے افغان شہریوں کو جاری کیے گئے پاسپورٹس کے معاملے کی بھی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین پر زور دیا۔
اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی کو ان افراد کی تفصیلات فراہم کی جائیں جنہیں پاسپورٹس کے غلط استعمال میں ملوث پایا گیا ہے، تاکہ معاملے کی مکمل حقیقت سامنے آسکے۔
اس سے قبل وزارتِ داخلہ کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں نیلے پاسپورٹس کی تعداد میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے مطابق ماضی میں پاکستان میں تقریباً 75 ہزار نیلے پاسپورٹس موجود تھے، جن میں سے 30 ہزار واپس لیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ماضی میں متعدد ایسے افراد کو بھی نیلے پاسپورٹ جاری کیے گئے جو قانونی طور پر اس کے حقدار نہیں تھے۔
کمیٹی نے اس معاملے میں شفافیت اور قانون کے مطابق کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ سرکاری پاسپورٹ ایک مخصوص سرکاری حیثیت اور ذمہ داری سے وابستہ سہولت ہے، اس لیے اس کے اجرا میں قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی ضروری ہے۔
حالیہ پیش رفت کے بعد نیلے پاسپورٹس کے اجرا، ان کے غلط استعمال اور ماضی میں غیر مستحق افراد کو جاری کیے گئے پاسپورٹس کے معاملے پر مزید کارروائی اور تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!