Sunday, September 13, 2026
تازہ ترین

مومنہ اقبال کے شوہر کا سنگین الزام، جان سے مارنے کے لیے شوٹرز کے انتظام کا دعویٰ

مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب نے ثاقب چدھڑ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اور اداکارہ کو جان سے مارنے کے لیے شوٹرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

مومنہ اقبال کے شوہر کا سنگین الزام، جان سے مارنے کے لیے شوٹرز کے انتظام کا دعویٰ

مومنہ اقبال کے شوہر کا سنگین الزام، ہمیں جان سے مارنے کے لیے شوٹرز کا انتظام کیا جا رہا ہے

لاہور: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال سے متعلق جاری تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ اداکارہ کے شوہر حمزہ حبیب نے مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اور ان کی اہلیہ مومنہ اقبال کو جان سے مارنے کے لیے شوٹرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

حمزہ حبیب کی جانب سے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے سامنے آیا، جس کے بعد مومنہ اقبال، ان کے شوہر اور ثاقب چدھڑ کے درمیان پہلے سے جاری تنازع ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ شوٹرز کے انتظام اور قتل کی مبینہ سازش سے متعلق دعویٰ حمزہ حبیب کی جانب سے لگایا گیا الزام ہے، جس کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

مومنہ اقبال کے شوہر نے کیا الزام عائد کیا؟

تازہ رپورٹس کے مطابق حمزہ حبیب نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں دعویٰ کیا کہ مخالف فریق کی جانب سے لوگوں کو اپنے حق میں کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اب انہیں اور مومنہ اقبال کو جان سے مارنے کے لیے شوٹرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے ثاقب چدھڑ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والا شخص قرار دیا اور کہا کہ انہیں دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔

حمزہ حبیب نے مزید دعویٰ کیا کہ اگرچہ جان جانے کا خطرہ موجود ہے، تاہم وہ اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق مخالف فریق کو مبینہ طور پر اپنے اقدامات کا جواب دینا ہوگا۔

ان الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مومنہ اقبال کے مداحوں اور صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم معاملہ قانونی نوعیت کا ہونے کی وجہ سے حتمی صورتحال تحقیقات اور متعلقہ اداروں کی کارروائی کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کا تنازع کیسے شروع ہوا؟

مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان تنازع گزشتہ کئی ماہ سے خبروں میں ہے۔

ماضی میں اداکارہ کی جانب سے ثاقب چدھڑ پر ہراسانی، بلیک میلنگ، سائبر بُلنگ اور دھمکیوں سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔ معاملہ متعلقہ قانونی اداروں تک پہنچا اور اس حوالے سے شکایات اور تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

اس تنازع نے اس وقت زیادہ توجہ حاصل کی جب مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مبینہ مشکلات کے بارے میں بات کی۔ اس کے بعد معاملہ قانونی فورمز تک پہنچا اور دونوں جانب سے مختلف دعوے اور الزامات سامنے آتے رہے۔

حالیہ دنوں میں ثاقب چدھڑ کی جانب سے بھی مومنہ اقبال اور ان کی بہن کے بارے میں متعدد الزامات عائد کیے گئے، جس کے بعد اداکارہ نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

ثاقب چدھڑ کی جانب سے کیا مؤقف سامنے آیا؟

ثاقب چدھڑ نے حالیہ انٹرویو میں مومنہ اقبال اور ان کی بہن رمشا اقبال کے بارے میں مختلف دعوے کیے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنی گفتگو میں مومنہ اقبال کی بہن کی بیرون ملک تعلیم اور اپنے کاروباری روابط سے متعلق دعوے کیے جبکہ مومنہ اقبال کے ساتھ اپنے تعلق اور ماضی کے حوالے سے بھی متعدد باتیں بیان کیں۔

ثاقب چدھڑ نے بعض مالی معاملات سے متعلق بھی دعوے کیے اور کہا کہ ان کے پاس اپنے مؤقف کے حق میں شواہد موجود ہیں۔

تاہم ان دعوؤں کے جواب میں مومنہ اقبال نے انہیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف مختلف الزامات لگائے جا رہے ہیں اور معاملے کو اصل شکایت سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مومنہ اقبال نے بھی الزامات کی تردید کردی

ثاقب چدھڑ کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات کے بعد مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا ردعمل دیا۔

اداکارہ نے ثاقب چدھڑ کے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے ان کے دعوؤں کو مسترد کیا اور انٹرویو سے متعلق بعض مواد بھی اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیا۔

رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف ایسے دعوے کیے جا رہے ہیں جو ان کی اصل شکایت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔

اداکارہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ان کے اور ثاقب چدھڑ کے درمیان جاری معاملہ پہلے ہی قانونی اداروں کے سامنے موجود ہے، اس لیے اس معاملے کا فیصلہ سوشل میڈیا یا میڈیا بیانات کے بجائے قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہونا چاہیے۔

معاملہ تحقیقات کے مرحلے میں

مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے تنازع میں قانونی کارروائی بھی سامنے آ چکی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق معاملے کی تحقیقات نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سمیت متعلقہ قانونی اداروں کے ذریعے کی گئی ہیں۔

ستمبر کے آغاز میں لاہور کی عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق بھی اہم پیش رفت سامنے آئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کو اس مقدمے میں بے قصور قرار دیا، تاہم مومنہ اقبال کے وکیل کی جانب سے اس نتیجے پر سوالات اٹھائے گئے اور معاملے کو مزید قانونی فورم پر چیلنج کرنے کا مؤقف سامنے آیا۔

اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ تنازع ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور مختلف فریق اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ قانونی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شوٹرز کے الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی

حمزہ حبیب کی جانب سے شوٹرز کے انتظام اور مبینہ قتل کی سازش سے متعلق الزام اس خبر کا سب سے حساس پہلو ہے۔

اس الزام کے بارے میں اب تک ایسی آزادانہ اور قابل اعتماد تصدیق سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ واقعی کسی شخص یا گروہ نے مومنہ اقبال اور ان کے شوہر کو نقصان پہنچانے کے لیے شوٹرز کا انتظام کیا ہے۔

اسی لیے اس معاملے کو خبر میں الزام اور دعوے کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ ثابت شدہ حقیقت کے طور پر۔

اگر کسی فریق کو حقیقی جان کا خطرہ لاحق ہو تو ایسے معاملات میں سوشل میڈیا بیانات کے بجائے پولیس اور متعلقہ قانونی اداروں سے رجوع کرنا زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر تنازع مزید نمایاں

مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے درمیان جاری معاملہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور انٹرویوز کے بعد سوشل میڈیا صارفین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

شوبز شخصیات سے متعلق تنازعات میں سوشل میڈیا کی وجہ سے کسی بھی بیان کو بہت تیزی سے وسیع پیمانے پر پھیلایا جا سکتا ہے۔ ایسے میں غیر مصدقہ معلومات، ادھوری ویڈیوز یا سوشل میڈیا پوسٹس بھی عوامی رائے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

اسی وجہ سے قانونی تنازعات سے متعلق معلومات کو حتمی حقیقت سمجھنے سے پہلے متعلقہ اداروں یا عدالتوں کے مؤقف کا انتظار کرنا ضروری ہوتا ہے۔

مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کون ہیں؟

مومنہ اقبال نے رواں سال شادی کی تھی اور حمزہ حبیب ان کے شوہر ہیں۔ ان کی شادی کی خبر سامنے آنے کے بعد حمزہ حبیب مختلف مواقع پر اداکارہ کے دفاع میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

اس سے قبل بھی مومنہ اقبال سے متعلق جاری تنازع میں حمزہ حبیب کا نام سامنے آیا تھا۔ مئی میں ان کے خلاف ثاقب چدھڑ کو مبینہ دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج ہونے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں، جبکہ بعد میں عدالت سے انہیں حفاظتی ضمانت بھی ملی تھی۔

اب تازہ معاملے میں حمزہ حبیب نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ساتھ اپنی جان کو بھی مبینہ خطرے کا دعویٰ کیا ہے۔

شوبز سے قانونی تنازع تک معاملہ کیسے پہنچا؟

مومنہ اقبال پاکستان کی معروف ٹیلی وژن اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں اور متعدد مقبول ڈراموں میں کام کر چکی ہیں۔ عام طور پر ان کی خبروں کا تعلق اداکاری، ڈراموں اور شوبز سرگرمیوں سے ہوتا ہے، تاہم گزشتہ کئی ماہ سے جاری قانونی تنازع نے انہیں ایک مختلف نوعیت کی خبروں میں نمایاں کر دیا ہے۔

ابتدائی طور پر معاملہ ہراسانی اور آن لائن رویے سے متعلق الزامات تک محدود تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دونوں جانب سے مختلف دعوے سامنے آنے لگے۔

اب شوہر کی جانب سے جان سے مارنے کے لیے مبینہ طور پر شوٹرز کے انتظام کا الزام سامنے آنے کے بعد معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔

قانونی عمل ہی حتمی صورتحال واضح کرے گا

اس معاملے میں مختلف فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی الزام کو عدالت یا متعلقہ تحقیقاتی ادارے کے حتمی فیصلے سے پہلے ثابت شدہ حقیقت قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔

مومنہ اقبال کی جانب سے ثاقب چدھڑ کے الزامات کی تردید سامنے آ چکی ہے، جبکہ ثاقب چدھڑ بھی اپنے دعوؤں پر قائم نظر آتے ہیں۔

اسی طرح حمزہ حبیب کی جانب سے شوٹرز کے انتظام کا الزام بھی ان کا مؤقف ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔

معاملے میں اگلی پیش رفت کیا ہو سکتی ہے؟

آنے والے دنوں میں اس تنازع کے حوالے سے مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔ اگر حمزہ حبیب کے دعوے کے حوالے سے کوئی باقاعدہ شکایت یا تحقیقات سامنے آتی ہیں تو متعلقہ اداروں کی کارروائی سے صورتحال مزید واضح ہو سکتی ہے۔

اسی طرح مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے درمیان پہلے سے جاری قانونی معاملات میں عدالت یا تحقیقاتی اداروں کی آئندہ کارروائی بھی اہم ہوگی۔

اس تنازع میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام فریقین کو اپنا مؤقف قانونی طریقے سے پیش کرنے کا حق حاصل ہے اور حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی اداروں اور عدالتوں کی کارروائی کے بعد ہی سامنے آ سکتا ہے۔

نتیجہ

مومنہ اقبال اور ان کے شوہر حمزہ حبیب سے متعلق تنازع ایک مرتبہ پھر اس وقت خبروں میں آ گیا ہے جب حمزہ حبیب نے ثاقب چدھڑ پر الزام عائد کیا کہ انہیں اور مومنہ اقبال کو جان سے مارنے کے لیے شوٹرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب مومنہ اقبال پہلے ہی ثاقب چدھڑ کی جانب سے عائد کیے گئے مختلف الزامات کو مسترد کر چکی ہیں۔ اس پورے معاملے میں دونوں جانب سے سنگین دعوے سامنے آ رہے ہیں جبکہ قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔

شوٹرز کے انتظام اور قتل کی مبینہ سازش سے متعلق تازہ دعوے کی آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی، اس لیے اس الزام کو حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اب سب کی نظریں اس معاملے میں ہونے والی آئندہ قانونی پیش رفت پر ہیں، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ مختلف فریقوں کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات میں حقیقت کیا ہے اور قانونی طور پر معاملہ کس سمت جاتا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!