Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

سعودی عرب پر حوثی حملوں پر پاکستان کا سخت ردعمل، مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہونے کا عندیہ

سعودی عرب پر حوثی حملوں کی پاکستان نے شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی سلامتی کی حمایت کی جبکہ خواجہ آصف نے مشترکہ دفاعی معاہدے کے فعال ہونے کا عندیہ دیا۔

سعودی عرب پر حوثی حملوں پر پاکستان کا سخت ردعمل، مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہونے کا عندیہ

سعودی عرب پر حوثی حملوں پر پاکستان کا سخت ردعمل، مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہونے کا عندیہ

اسلام آباد: سعودی عرب کے مختلف شہروں اور اہم شہری و معاشی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کے حالیہ حملوں پر پاکستان نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان نے ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے ان حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمی ہونے والے افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا سخت ردعمل

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس نوعیت کے حملے بے گناہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں اور خطے کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا بھی یقین دلایا اور حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

پاکستان نے سعودی عرب کی دفاعی حمایت کا اعادہ کردیا

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

پاکستان نے کہا کہ وہ سعودی عرب کی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ اسلام آباد نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی اثاثوں کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا جائز حق حاصل ہے۔

پاکستان نے یہ مؤقف اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق قرار دیا ہے۔

خواجہ آصف کا اہم بیان

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان موجود مشترکہ دفاعی معاہدہ ضرورت پڑنے پر فعال ہوسکتا ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق مکہ میں طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہیں اور کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اگر کسی رکن ملک کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو معاہدے کے تحت باہمی تعاون کی شقیں فعال ہوسکتی ہیں۔

پاکستان براہ راست جنگ میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کر رہا

خواجہ آصف کے بیان میں دفاعی معاہدے کے ممکنہ فعال ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں فوجی کارروائی یا براہ راست جنگ میں شرکت کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستان کا سرکاری مؤقف فی الحال سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت اور حملوں کی مذمت تک محدود ہے۔ وزارت خارجہ نے خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا ہے۔

سعودی عرب میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا

تازہ رپورٹس کے مطابق 8 ستمبر کو حوثی فورسز نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

حملوں میں توانائی اور اقتصادی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی حکام نے بتایا کہ حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ان حملوں نے خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے اور سعودی عرب کی توانائی تنصیبات اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

پاکستان نے حملوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا

پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف ایسے حملے پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ اسلام آباد کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں یمن کے تنازع کے پرامن اور پائیدار حل کے لیے جاری کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔

پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون پہلے سے موجود ہے۔ حالیہ صورتحال میں مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ اس لیے اہم ہوگیا ہے کیونکہ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں نے علاقائی سلامتی کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔

خواجہ آصف کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ضرورت پڑنے کی صورت میں اپنے دفاعی وعدوں پر غور کرے گا۔

عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی اثرات

سعودی عرب دنیا کے بڑے توانائی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس کی اہم توانائی تنصیبات پر حملوں نے عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔

حالیہ حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور عالمی منڈیوں میں سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھے۔ رائٹرز کے مطابق حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی قیمتوں، شپنگ اور درآمدی ممالک کی معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

پاکستان کا امن اور سفارت کاری پر زور

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رہنا چاہیے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور دفاعی تعاون کو برقرار رکھنا اہم ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی کردار بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

سعودی عرب پر حوثی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ یمن، سعودی عرب، ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں سے متعلق تنازعات نے خطے میں سلامتی کی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

تازہ حملوں کے بعد سعودی عرب نے بھی اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع اور خودمختاری کی حمایت کی ہے۔

پاکستان کا واضح پیغام

سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان کا پیغام واضح ہے کہ وہ سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کو مسترد کرتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی مذمت، وزارت خارجہ کا باضابطہ بیان اور وزیر دفاع خواجہ آصف کا مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق بیان اس معاملے پر پاکستان کے سنجیدہ مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔

اب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر ہیں کہ سعودی عرب پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی کس سمت جاتی ہے اور کیا سفارتی کوششیں صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!