جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی ڈیڈ لائن، آج حکومت سے مذاکرات، لانگ مارچ کا اعلان متوقع
اسلام آباد/کراچی: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور عوام پر عائد ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ جماعت اسلامی نے حکومت کو پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، جبکہ آج 10 ستمبر کو حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا اہم دور ہونے جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات میں عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے کوئی واضح اور قابل قبول اعلان نہ کرتی تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کرے گی۔ ان کے مطابق آج ہونے والے مذاکرات کے نتائج دیکھنے کے بعد آئندہ احتجاجی لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں مزید اہم ہوگیا ہے جب حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر 3 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 367 روپے 75 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ گزشتہ تین دنوں کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 6 روپے 72 پیسے مہنگا کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کی ڈیڈ لائن آج ختم
جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر حکومت کو 10 ستمبر کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مذاکرات کے ذریعے عوام کو واضح ریلیف فراہم نہ کیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے گزشتہ روز کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 10 ستمبر کو حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ملاقات کے نتائج دیکھے جائیں گے اور اگر حکومت نے پٹرولیم لیوی ختم کرنے سمیت عوامی مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہ کی تو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کے مطابق اس معاملے کو مزید مؤخر کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا براہ راست اثر عام شہری، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں، کسانوں اور کاروباری طبقے پر پڑ رہا ہے۔
آج حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات
حالیہ صورتحال میں سب سے اہم پیش رفت حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری مذاکرات ہیں۔ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں کمی سے متعلق تجاویز پیش کی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے حکومت کو پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے تفصیلی تجاویز دی گئی ہیں۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کا مقصد ایسا مالیاتی راستہ تلاش کرنا ہے جس کے ذریعے عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر حکومت کے مالی معاملات کو بہتر بنایا جا سکے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کے دوسرے دور میں عوام کے لیے واضح ریلیف سامنے نہیں آتا تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرے گی۔
پٹرولیم لیوی اصل تنازع کیا ہے؟
پٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر وصول کیا جانے والا ایک اہم ٹیکس ہے۔ حکومت اسے اپنے مالی وسائل میں اضافے کے لیے استعمال کرتی ہے، تاہم جماعت اسلامی سمیت بعض سیاسی حلقے اس لیوی کو عوام پر اضافی بوجھ قرار دے رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کا بنیادی مؤقف ہے کہ جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں مقامی قیمتیں پہلے ہی متاثر ہو رہی ہوں تو اس کے ساتھ بھاری ٹیکس اور لیوی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے بارہا کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کا تعلق عالمی یا مقامی مارکیٹ کی قیمت سے نہیں بلکہ حکومتی معاشی پالیسیوں اور مالیاتی فیصلوں سے ہے۔ جماعت اسلامی اسی بنیاد پر لیوی واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پٹرول کی قیمت 367 روپے 75 پیسے فی لیٹر ہوگئی
جماعت اسلامی کی تحریک کے دوران پٹرول کی قیمت میں تازہ اضافہ بھی سامنے آیا ہے۔
حکومت نے 9 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، جس کے بعد نئی قیمت 367 روپے 75 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے اضافہ کیا گیا اور اس کی نئی قیمت 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 10 ستمبر سے ہوا ہے۔
یہ مسلسل تیسرا اضافہ ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق صرف گزشتہ تین دن میں پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوچکا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اسی عرصے کے دوران 14 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس تیزی نے عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ کردیا ہے کیونکہ ایندھن کی قیمت بڑھنے سے صرف گاڑی چلانے کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ نقل و حمل، سبزی، پھل، خوراک، تعمیراتی سامان اور دیگر اشیاء کی لاگت بھی متاثر ہوتی ہے۔
جماعت اسلامی کے ملک بھر میں احتجاجی دھرنے
پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ پارٹی کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے اور احتجاج کیے جا رہے ہیں۔
9 ستمبر کو جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنوں کا 25واں روز تھا۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد، حیدرآباد، سرگودھا اور فیصل آباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں۔
کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کا دھرنا تحریک کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ جماعت اسلامی کی خواتین نے بھی احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کی ہے اور مختلف شہروں میں مزید اجتماعات کا اعلان کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد صرف کسی ایک سیاسی جماعت کے مفاد کا تحفظ نہیں بلکہ عام شہریوں کو مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں سے ریلیف دلانا ہے۔
حکومت کو جماعت اسلامی کی تجاویز
جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات، ٹیکس وصولی اور معاشی پالیسیوں میں تبدیلی کے ذریعے عوام کو ریلیف دے سکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کے مطابق جماعت اسلامی کی تجاویز میں پالیسی ریٹ میں کمی بھی شامل ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شرح سود میں کمی سے قومی خزانے پر سودی ادائیگیوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے حکومت کے لیے مالی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے بجائے اپنے اخراجات اور معاشی ترجیحات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
حافظ نعیم کا حکومت کو واضح پیغام
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کے دوران عوام کو فوری اور واضح ریلیف دینے کا اعلان نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اب فیصلہ کرنے کا وقت ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے یہ بھی کہا ہے کہ جماعت اسلامی عوامی مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو احتجاج کو مزید وسیع کیا جائے گا۔
اسلام آباد مارچ کا امکان کیوں اہم ہے؟
اگر جماعت اسلامی آج اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کرتی ہے تو پٹرولیم لیوی کا معاملہ ایک بڑے سیاسی احتجاج میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان حکومت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
تاہم مارچ کی حتمی تاریخ، راستہ، شرکاء کی تعداد اور احتجاج کی مدت کے بارے میں حتمی صورتحال جماعت اسلامی کے آج کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
فی الحال جماعت اسلامی نے بنیادی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ آج کے مذاکرات کے نتائج دیکھنے کے بعد آئندہ لائحہ عمل سامنے لایا جائے گا۔
دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا عندیہ
جماعت اسلامی نے اس احتجاجی تحریک کو وسیع کرنے کے لیے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطوں کا عندیہ دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی تاکہ عوامی ریلیف کے مطالبے کو وسیع سیاسی حمایت حاصل ہوسکے۔
ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ جماعت اسلامی دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے کرے گی۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی اپنے احتجاج کو صرف جماعتی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے وسیع عوامی اور سیاسی تحریک بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اے این پی بھی احتجاج میں شامل ہونے پر آمادہ
جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کو دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی حمایت ملنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے خلاف جاری احتجاج میں شرکت کی دعوت قبول کی ہے۔
جماعت اسلامی اور اے این پی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اے این پی کی جانب سے بھی اسے عوامی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
اگر مختلف سیاسی جماعتیں احتجاج میں شریک ہوتی ہیں تو حکومت پر مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
عوام کو پٹرولیم لیوی ختم ہونے سے کیا فائدہ ہوگا؟
جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے ذریعے عوام کو ریلیف دینا ہے۔
اگر حکومت واقعی لیوی میں نمایاں کمی یا اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کا براہ راست اثر پٹرول کی قیمت پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پٹرول کی حتمی قیمت صرف ایک ٹیکس یا لیوی سے طے نہیں ہوتی بلکہ عالمی تیل کی قیمت، درآمدی لاگت، فریٹ، ایکسچینج ریٹ اور دیگر حکومتی ٹیکس بھی قیمت کو متاثر کرتے ہیں۔
اسی لیے لیوی میں کمی کے ممکنہ اثرات کا درست اندازہ حکومتی فیصلے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ لیوی اور بعض دیگر ٹیکس ختم کیے جائیں تو پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ ان کی جانب سے پیش کیا گیا تخمینہ ہے، حتمی کمی کا انحصار حکومت کے عملی فیصلے پر ہوگا۔
حکومت کے لیے مالیاتی چیلنج
پٹرولیم لیوی ختم کرنا حکومت کے لیے صرف سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑا مالیاتی معاملہ بھی ہے۔
وفاقی حکومت کو بجٹ کے اہداف پورے کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے محصولات حاصل کرنا پڑتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی بھی حکومتی آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔
اگر لیوی مکمل طور پر ختم کردی جائے تو حکومت کو اس آمدنی کا متبادل تلاش کرنا ہوگا یا اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔
اسی لیے مذاکرات میں اصل سوال یہ ہوگا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے اور اپنے مالی اہداف برقرار رکھنے کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ
حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے لیے اہم پس منظر بن گیا ہے۔
9 ستمبر کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے اضافہ کیا۔ اس سے قبل بھی قیمتوں میں اضافہ کیا جاچکا تھا۔
تین دن کے دوران پٹرول کی قیمت میں تقریباً 21 روپے 88 پیسے کا اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پہلے ہی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات عوام کے لیے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
پٹرول کی قیمت بڑھنے سے موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ، رکشہ ڈرائیورز، مال بردار ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
مہنگائی کا وسیع اثر
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اندرون ملک اشیاء کی نقل و حمل بڑی حد تک سڑکوں کے ذریعے ہوتی ہے، وہاں ایندھن مہنگا ہونے سے سپلائی چین کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا امکان بھی پیدا ہوتا ہے جبکہ سامان ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچانے کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
اس صورتحال میں جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر عوامی بوجھ کم کرنا چاہیے۔
حکومت کی جانب سے دوسری طرف پٹرول کی قیمتوں میں تبدیلی کو عالمی مارکیٹ اور دیگر متعلقہ عوامل کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے۔ جولائی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث روزانہ بنیاد پر طے کرنے کا طریقہ بھی متعارف کرایا گیا تھا۔
آج کا دن اہم کیوں ہے؟
10 ستمبر 2026 کا دن اس معاملے میں اس لیے اہم ہے کیونکہ جماعت اسلامی نے اسی دن کو اپنے احتجاجی دباؤ کے اگلے مرحلے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
ایک طرف حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات ہونے ہیں، دوسری جانب پٹرول کی قیمت میں تازہ اضافہ بھی ہوچکا ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں واضح ریلیف نہیں ملتا تو رات کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔
اس لیے آج ہونے والے مذاکرات کے نتائج سے یہ طے ہونے کا امکان ہے کہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھتا ہے یا ملک میں ایک نئی سیاسی احتجاجی سرگرمی شروع ہوتی ہے۔
حکومت کے سامنے ممکنہ راستے
حکومت کے پاس اس معاملے میں مختلف آپشنز ہوسکتے ہیں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ پٹرولیم لیوی میں فوری کمی کرکے عوام کو محدود مدت کے لیے ریلیف دیا جائے۔
دوسرا راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ حکومت جماعت اسلامی کی تجاویز میں سے قابل عمل تجاویز کو بجٹ اور معاشی پالیسی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرے۔
ایک اور امکان یہ ہے کہ حکومت لیوی مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اس میں مرحلہ وار کمی کا کوئی طریقہ اختیار کرے۔
تاہم ان میں سے کسی بھی آپشن پر حتمی فیصلہ حکومت اور متعلقہ معاشی اداروں کی مشاورت کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
جماعت اسلامی کی تحریک کا اگلا مرحلہ
جماعت اسلامی نے واضح کردیا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی۔
پارٹی کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں گوجرانوالہ اور اسلام آباد میں بھی خواتین کے اجتماعات کا اعلان کیا گیا ہے۔
اگر حکومت اور جماعت اسلامی آج کسی قابل قبول فارمولے پر متفق ہوجاتے ہیں تو لانگ مارچ کا امکان کم ہوسکتا ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسلام آباد مارچ کی کال ملک کی سیاسی صورتحال پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
خلاصہ
جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن آج 10 ستمبر کو اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج ہونے جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے عوام کے لیے ریلیف کا واضح اعلان نہ کیا تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کرسکتی ہے۔
دوسری جانب پٹرول کی قیمت میں حالیہ 3 روپے 40 پیسے اضافے کے بعد قیمت 367 روپے 75 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے، جبکہ گزشتہ تین دن میں مجموعی اضافہ 21 روپے 88 پیسے تک پہنچ گیا ہے۔
اب نظریں آج کے مذاکرات کے نتائج پر ہیں۔ اگر حکومت پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے حوالے سے کوئی واضح ریلیف دیتی ہے تو احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کو روکا جاسکتا ہے، لیکن اگر جماعت اسلامی کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اسلام آباد مارچ کی کال حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!