Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان نے فوری فوجی کارروائی کی کوئی بات نہیں کی

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد مکہ دفاعی معاہدے کے تحت فی الحال کسی فوری فوجی کارروائی پر بات نہیں ہوئی۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان معاہدے کی شرائط سے وابستہ ہے اور وقت آنے پر اس کے مطابق عمل کرے گا، جبکہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششوں اور علاقائی کشیدگی پر قابو پانے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان نے فوری فوجی کارروائی کی کوئی بات نہیں کی

مکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان کا اہم مؤقف

اسلام آباد: پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کے تناظر میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت فی الحال کسی فوری فوجی کارروائی پر بات نہیں ہو رہی۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان معاہدے کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر معاہدے کی شرائط کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔

پاکستان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے دعووں اور سعودی جوابی کارروائیوں نے خطے میں ایک مرتبہ پھر بڑے تنازع کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

دفتر خارجہ نے فوری فوجی کارروائی کی تردید کر دی

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے دس ستمبر کی ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اس وقت کسی فوجی ردعمل پر بات چیت نہیں ہو رہی۔

ترجمان کے مطابق جب معاہدے کے تحت کارروائی کی ضرورت کا وقت آئے گا تو پاکستان معاہدے کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔

یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کیونکہ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا تھا کہ آیا پاکستان فوری طور پر کسی فوجی کارروائی میں شامل ہونے جا رہا ہے یا نہیں۔

اسلام آباد نے فی الحال ایسے کسی اقدام کی تصدیق نہیں کی اور واضح کیا ہے کہ موجودہ مرحلے میں فوری فوجی ردعمل زیر بحث نہیں ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے گزشتہ ماہ مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کا مقصد مشترکہ دفاع، علاقائی سلامتی اور ممکنہ جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس مرحلے پر معاہدے کو مزید ممالک تک توسیع دینے کی بھی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

سعودی عرب پر حوثی حملوں سے صورتحال کیوں اہم ہوئی؟

یمن میں حوثی گروپ اور سعودی حمایت یافتہ قوتوں کے درمیان لڑائی میں حالیہ دنوں میں دوبارہ شدت آئی ہے۔

حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے یمن میں جوابی کارروائیاں کیں۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں سمیت توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق ایک بڑے حملے میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس صورتحال نے مکہ دفاعی معاہدے کی عملی اہمیت کو نمایاں کر دیا ہے کیونکہ سعودی عرب اس معاہدے کے مرکزی فریقوں میں شامل ہے۔

خواجہ آصف نے کیا کہا تھا؟

دفتر خارجہ کے تازہ بیان سے ایک روز پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مکہ دفاعی معاہدے کے ممکنہ فعال ہونے کے بارے میں اہم بیان دیا تھا۔

خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اگر یمن میں جاری تنازع سعودی عرب تک پھیلتا ہے یا سعودی سرزمین کو بلااشتعال جارحیت کا سامنا ہوتا ہے تو مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر ان شرائط کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔

کیا دفتر خارجہ اور وزیر دفاع کے بیانات میں تضاد ہے؟

دونوں بیانات کو الگ الگ تناظر میں دیکھا جائے تو ان میں بنیادی طور پر کوئی لازمی تضاد نظر نہیں آتا۔

خواجہ آصف نے ممکنہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب پر جارحیت یا یمن کے تنازع کا خطرناک پھیلاؤ ہوتا ہے تو معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب دفتر خارجہ نے موجودہ صورتحال کے بارے میں وضاحت کی ہے کہ اس وقت کسی فوری فوجی ردعمل پر بات نہیں ہو رہی۔

یعنی پاکستان معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوا، لیکن موجودہ واقعات کی بنیاد پر فوری فوجی کارروائی کا فیصلہ بھی نہیں کیا گیا۔

پاکستان کا سفارتی کردار بھی اہم

پاکستان نے موجودہ کشیدگی کے دوران سفارتی ذرائع کو بھی اہمیت دی ہے۔

اسلام آباد نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔

یہ پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنی وابستگی برقرار رکھتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے صورتحال حساس کیوں ہے؟

موجودہ بحران پاکستان کے لیے اس لیے بھی حساس ہے کہ اسلام آباد کے سعودی عرب، ترکیہ اور ایران تینوں کے ساتھ اہم تعلقات ہیں۔

سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم معاشی و دفاعی شراکت دار ہے، جبکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔

ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو برقرار رکھنا اور دوسری طرف علاقائی جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنا اہم ہے۔

مکہ معاہدہ صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں

دفاعی معاہدے کو صرف فوجی دستے بھیجنے یا براہ راست جنگ میں شامل ہونے کے تناظر میں دیکھنا ضروری نہیں۔

مشترکہ دفاعی تعاون میں انٹیلی جنس معلومات، دفاعی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، تربیت، نگرانی، سفارتی تعاون اور دیگر سکیورٹی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے اگر مستقبل میں معاہدہ فعال ہوتا بھی ہے تو اس کا عملی ردعمل صورتحال کی نوعیت اور تینوں ممالک کے باہمی فیصلے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

ترکیہ کا کردار بھی اہم

مکہ دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت اس اتحاد کو مزید اہم بناتی ہے۔

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان پہلے ہی دفاعی تعاون اور عسکری روابط موجود ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی ترکیہ کے سیاسی اور دفاعی تعلقات ہیں۔

تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی فریم ورک مستقبل میں دفاعی رابطوں، مشاورت اور سکیورٹی تعاون کو زیادہ منظم شکل دے سکتا ہے۔

کیا معاہدہ مزید ممالک تک پھیلایا جائے گا؟

پاکستانی دفتر خارجہ نے دس ستمبر کو واضح کیا کہ اس وقت مکہ دفاعی معاہدے کو مزید ممالک تک توسیع دینے کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو پہلے اپنے موجودہ تعاون اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔

بعد میں ایسے ممالک کے لیے دروازہ کھولا جا سکتا ہے جو اسی نوعیت کے مؤقف اور علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے مشترکہ سوچ رکھتے ہوں۔

یمن کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ

یمن میں جاری لڑائی کے حالیہ پھیلاؤ نے علاقائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحل پر اہم علاقے میں پیش قدمی کی ہے اور موچا کی بندرگاہ پر قبضہ بھی کیا ہے، جس سے باب المندب کے اہم سمندری راستے کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

باب المندب عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس علاقے میں طویل کشیدگی سے عالمی شپنگ، توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان فوری جنگ میں کیوں نہیں جانا چاہتا؟

موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے فوری فوجی کارروائی ایک انتہائی اہم اور حساس فیصلہ ہوگا۔

یمن کا تنازع پہلے ہی متعدد علاقائی قوتوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اگر مزید ممالک براہ راست جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو تنازع وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان اس وقت سفارتی راستے سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے، اس لیے فوری فوجی کارروائی کے بجائے صورتحال کی نگرانی اور سفارتی رابطوں کو ترجیح دینا اسلام آباد کی موجودہ حکمت عملی کا اہم حصہ نظر آتا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی وابستگی برقرار

فوری فوجی کارروائی نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان نے سعودی عرب سے دفاعی تعاون ختم کر دیا ہے۔

پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو اہمیت دیتا ہے، تاہم موجودہ بحران میں عملی فوجی اقدام کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

آنے والے دنوں میں مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کا انحصار یمن اور سعودی عرب کی صورتحال پر ہوگا۔

اگر سعودی عرب پر حملے محدود رہتے ہیں اور صورتحال مزید خراب نہیں ہوتی تو پاکستان کا کردار سفارتی رابطوں اور دفاعی مشاورت تک محدود رہ سکتا ہے۔

اگر سعودی عرب پر بڑے پیمانے کی مسلسل جارحیت ہوتی ہے اور معاہدے کی شرائط کے مطابق مشترکہ دفاعی ردعمل کی ضرورت پیدا ہوتی ہے تو تینوں ممالک کے درمیان مزید مشاورت ممکن ہے۔

تاہم اس وقت پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ کسی فوری فوجی ردعمل پر بات نہیں ہو رہی۔

پاکستان کا موجودہ مؤقف واضح

موجودہ صورتحال میں پاکستان کے مؤقف کو تین اہم نکات میں سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا، پاکستان مکہ دفاعی معاہدے سے وابستہ ہے۔

دوسرا، معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔

تیسرا، اس وقت کسی فوری فوجی کارروائی پر بات چیت نہیں ہو رہی، لیکن ضرورت پڑنے پر پاکستان معاہدے کی شرائط کے مطابق عمل کرے گا۔

یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو برقرار رکھتے ہوئے فوری طور پر کسی نئے فوجی محاذ میں داخل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔

نتیجہ

مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستان نے فی الحال واضح کر دیا ہے کہ سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کے بعد کسی فوری فوجی کارروائی پر بات نہیں ہوئی۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان معاہدے کے ساتھ وابستہ ہے اور وقت آنے پر اس کی شرائط کے مطابق عمل کرے گا۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر یمن کے تنازع کا پھیلاؤ سعودی عرب تک ہوتا ہے یا سعودی سرزمین کو بلااشتعال جارحیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔

یوں پاکستان کا موجودہ مؤقف فوری فوجی مداخلت کے بجائے دفاعی ذمہ داری، سفارتی کوششوں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا کم ہوتی ہے، آنے والے دن مکہ دفاعی معاہدے کی عملی اہمیت کے حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!