Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

پشاور میں سی ٹی ڈی کارروائی، پانچ دہشت گرد ہلاک

پشاور کے علاقے ارمڑ میں شمشتو کیمپ کے قریب سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک افراد داعش خراسان سے وابستہ تھے اور اہم دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ کارروائی کے دوران اسلحہ، دستی بم، میگزین اور ایک خودساختہ بم بھی برآمد کیا گیا، جبکہ ہلاک دہشت گردوں میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل تھا۔

پشاور میں سی ٹی ڈی کارروائی، پانچ دہشت گرد ہلاک

پشاور میں سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی

پشاور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پانچ مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ کارروائی شمشتو کیمپ کے قریب ارمڑ کے علاقے میں ایک کمپاؤنڈ میں کی گئی، جہاں سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد موجود تھے۔

حکام کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔ سی ٹی ڈی ٹیموں نے کمپاؤنڈ کو گھیرے میں لیا تو اندر موجود مسلح افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں پانچ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

ہلاک دہشت گردوں میں اہم کمانڈر بھی شامل

سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم کمانڈر عمران عرف عبداللہ، بلال عرف ابوبکر اور شاہد اللہ سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ بعض ہلاک دہشت گردوں کی شناخت مکمل کرلی گئی ہے جبکہ دیگر کی شناخت کا عمل جاری بتایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق عمران عرف ابوبکر متعدد دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھا اور اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہا تھا۔ سی ٹی ڈی نے اسے متعدد اہم مقدمات میں مطلوب قرار دیا تھا۔

دہشت گرد بڑی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، سی ٹی ڈی

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق کمپاؤنڈ میں موجود دہشت گرد حساس اداروں، امام بارگاہوں اور گرجا گھروں سمیت اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث مبینہ طور پر دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کو روکا گیا۔ تاہم ان منصوبوں کی مکمل تفصیلات اور ممکنہ اہداف کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

کارروائی کے دوران اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد

سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے بعد ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے مختلف نوعیت کا اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔

برآمد ہونے والی اشیا میں ایک ایس ایم جی، چار پستول، دو دستی بم، پانچ میگزین اور ایک خودساختہ بم شامل بتایا گیا ہے۔ موقع سے ملنے والے شواہد کو مزید قانونی اور تکنیکی کارروائی کے لیے محفوظ کیا گیا۔

تفتیش اور سرچ آپریشن جاری

سی ٹی ڈی کی کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری رکھنے کی اطلاع ہے۔ سکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا کمپاؤنڈ میں موجود دہشت گردوں کے مزید ساتھی علاقے میں موجود تھے یا نہیں۔

حکام کی جانب سے علاقے میں ممکنہ سہولت کاروں اور دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

ہلاک کمانڈر کے خلاف متعدد مقدمات کا دعویٰ

سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والا اہم کمانڈر مختلف دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھا۔ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بم دھماکوں، پولیس اہلکاروں اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ سمیت متعدد واقعات سے منسلک تھا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق مذکورہ شخص کے سراغ یا گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے بارہ ملین روپے انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم ان مقدمات میں اس کے کردار سے متعلق تمام تفصیلات سرکاری تفتیش اور قانونی کارروائی کے دائرے میں ہیں۔

پشاور میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں

پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہی ہیں۔ پشاور کے بادابیر علاقے میں بھی رواں ماہ سی ٹی ڈی کی کارروائی میں چار مبینہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے باعث پولیس اور سکیورٹی ادارے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد گروہوں کے نیٹ ورک، ان کے سہولت کاروں اور حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر کو نشانہ بنانا بتایا جاتا ہے۔

امام بارگاہ حملے سے مبینہ تعلق

سی ٹی ڈی نے ہلاک ہونے والے عمران عرف ابوبکر کے بارے میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ چھ فروری دو ہزار چھبیس کو اسلام آباد کے ترلائی علاقے میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کے مقدمے میں مطلوب تھا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق شاہد اللہ نے مبینہ طور پر اس حملے کے لیے ہدف کی ریکی کی تھی، جبکہ عمران عرف ابوبکر پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور خودکش حملہ آور کو منتقل کرنے میں کردار ادا کرنے کا الزام تھا۔ ان دعوؤں کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی اہمیت

پشاور خیبر پختونخوا کا اہم شہری مرکز ہے اور ماضی میں بھی دہشت گرد گروہوں کی جانب سے شہر اور گردونواح میں سکیورٹی اداروں، مذہبی مقامات اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔

ایسے میں کسی مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کو سکیورٹی اداروں کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب حکام کے مطابق کارروائی کے دوران دھماکا خیز مواد اور اسلحہ بھی برآمد کیا جائے۔

مزید تحقیقات سے اہم معلومات سامنے آنے کا امکان

حکام کے مطابق کارروائی کے بعد مزید تحقیقات جاری ہیں۔ برآمد ہونے والے موبائل فونز، اسلحے، دھماکا خیز مواد اور دیگر شواہد کی فرانزک جانچ سے دہشت گرد نیٹ ورک کے ممکنہ رابطوں کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

سکیورٹی ادارے یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہلاک افراد کے مزید ساتھی کون تھے، انہیں مالی یا دیگر معاونت کہاں سے مل رہی تھی اور کیا وہ کسی بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

سکیورٹی اداروں کا عزم

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران پولیس اور سی ٹی ڈی مسلسل انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشنز کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ایسے عناصر کے خلاف قانونی و سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے جو امن و امان کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

پشاور کی حالیہ کارروائی میں پانچ مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد بھی علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کا عمل جاری رکھا گیا ہے تاکہ ممکنہ طور پر موجود دیگر عناصر کا سراغ لگایا جاسکے۔

نتیجہ

پشاور کے ارمڑ علاقے میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں پانچ مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کو دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک افراد ایک کالعدم شدت پسند تنظیم سے وابستہ تھے اور اہم دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

کارروائی کے دوران اسلحہ، دستی بم اور خودساختہ دھماکا خیز ڈیوائس کی برآمدگی کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔ حکام کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں، جن کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!