Sunday, September 13, 2026
تازہ ترین

آٹھ ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی، رواں سال صوبے میں پولیو کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا۔

آٹھ ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ تازہ کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش پیدا ہوئی ہے۔

بنوں میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو کی تصدیق

رپورٹس کے مطابق بنوں کی تحصیل میریان میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ خیبرپختونخوا سے رواں سال سامنے آنے والا ایک اور پولیو کیس ہے۔

وزارت صحت سے متعلق رپورٹ میں بھی 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی اطلاع دی گئی ہے۔ تاہم مختلف ابتدائی رپورٹس میں بچے کے علاقے کے حوالے سے اختلاف نظر آتا ہے، اس لیے حتمی مقامی تفصیل متعلقہ محکمہ صحت کی باضابطہ تصدیق سے منسلک کی جانی چاہیے۔ 

خیبرپختونخوا میں پولیو کا چیلنج

خیبرپختونخوا پاکستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں پولیو کے خاتمے کے لیے مسلسل انسدادِ پولیو سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ نئے کیس کا سامنے آنا صحت حکام کے لیے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں تک ویکسین کی مکمل رسائی اور حفاظتی مہمات کو مؤثر بنانا اب بھی انتہائی اہم ہے۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق بنوں میں سامنے آنے والا یہ کیس 2026 میں خیبرپختونخوا کے پولیو کیسز میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

پولیو ویکسین کی اہمیت

پولیو ایک انتہائی خطرناک متعدی بیماری ہے جو بچوں کے اعصابی نظام کو متاثر کرسکتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بیماری سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ بچوں کو مقررہ شیڈول کے مطابق پولیو ویکسین پلانا ہے۔

انسدادِ پولیو مہم کے دوران والدین سے اپیل کی جاتی ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائے جائیں، چاہے بچے کو معمول کی ویکسین پہلے ہی کیوں نہ لگ چکی ہو۔

نئے کیس کے بعد نگرانی مزید اہم

کسی علاقے میں پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آنے کے بعد صحت کے حکام کے لیے نگرانی، متاثرہ بچے کے رابطوں کی جانچ اور ویکسینیشن کوریج کا جائزہ اہم ہوجاتا ہے۔

اس کے ساتھ ایسے علاقوں میں پولیو ٹیموں کی رسائی اور والدین کا تعاون بھی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

والدین سے تعاون کی اپیل

صحت حکام اور انسدادِ پولیو پروگرام کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ والدین پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔

بچے کو پولیو ویکسین کی ہر خوراک ملنے سے اس کے تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشرے میں وائرس کی منتقلی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر ویکسینیشن مہمات، ماحولیاتی نگرانی اور کیسز کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود بعض علاقوں میں وائرس کی موجودگی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

بنوں میں نئے کیس کی تصدیق بھی اسی چیلنج کی طرف توجہ دلاتی ہے اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ ویکسینیشن مہمات میں کسی بھی بچے کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

نتیجہ

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ نئے کیس کے بعد صحت حکام کے لیے متاثرہ علاقے میں نگرانی، ویکسینیشن اور وائرس کی ممکنہ منتقلی کو روکنے کے اقدامات مزید اہم ہوگئے ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!