Thursday, September 17, 2026
تازہ ترین

پنجاب میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی شناخت کے لیے جدید اسکیننگ نظام لانے کا فیصلہ

پنجاب میں گاڑیوں کے دھویں اور آلودگی کے اخراج کی نگرانی کے لیے جدید Vehicular Emission Scanning System متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر لاہور کے نو داخلی و خارجی راستوں پر ریموٹ سینسنگ ڈیوائسز نصب کی جائیں گی، جو چلتی گاڑیوں کو روکے بغیر ان کے اخراج کی پیمائش اور رجسٹریشن نمبر ریکارڈ کرسکیں گی۔

پنجاب میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی شناخت کے لیے جدید اسکیننگ نظام لانے کا فیصلہ

پنجاب میں گاڑیوں کے دھویں کی نگرانی کے لیے جدید نظام متعارف کرانے کا فیصلہ

پنجاب میں فضائی آلودگی اور اسموگ پر قابو پانے کے لیے گاڑیوں کے اخراج کی نگرانی کا نظام مزید جدید بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی محکمہ تحفظ ماحول و موسمیاتی تبدیلی لاہور کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر جدید Vehicular Emission Scanning System متعارف کرانے جا رہا ہے، جس کے ذریعے سڑک پر رواں گاڑیوں کے دھویں اور آلودگی کے اخراج کو گاڑی روکے بغیر جانچا جا سکے گا۔

یہ منصوبہ لاہور ایئر امپروومنٹ فریم ورک کے تحت تیار کیا جا رہا ہے اور ابتدائی مرحلے میں لاہور کے نو داخلی و خارجی مقامات پر ریموٹ سینسنگ ڈیوائسز نصب کرنے کی تجویز ہے۔ حکام کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا مقصد زیادہ آلودگی خارج کرنے والی گاڑیوں کی شناخت کو بہتر بنانا اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے لیے زیادہ قابل اعتماد ڈیٹا حاصل کرنا ہے۔

گاڑی روکے بغیر اخراج کی پیمائش

نئے نظام کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ریموٹ سینسنگ ڈیوائسز سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کے اخراج کی پیمائش کرسکیں گی۔ اس طرح ہر گاڑی کو روایتی انداز میں روک کر ابتدائی جانچ کرنے کے بجائے بڑی تعداد میں گاڑیوں کو حقیقی ٹریفک حالات میں اسکرین کیا جا سکے گا۔

اس نظام کے ذریعے گاڑی کے اخراج سے متعلق حاصل ہونے والی معلومات کو اس کی رجسٹریشن نمبر اور دیگر متعلقہ ڈیٹا کے ساتھ منسلک کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے حکام کو یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کون سی گاڑیاں مقررہ ماحولیاتی معیار سے زیادہ آلودگی خارج کر رہی ہیں اور کن گاڑیوں کو مزید تفصیلی جانچ کی ضرورت ہے۔

لاہور میں نو مقامات پر ابتدائی منصوبہ

دستیاب معلومات کے مطابق VESS کا پائلٹ منصوبہ لاہور کے نو داخلی و خارجی راستوں پر شروع کیا جائے گا۔ منتخب ٹریفک کوریڈورز پر Remote Sensing Devices نصب کی جائیں گی تاکہ شہر میں داخل ہونے اور باہر جانے والی گاڑیوں کے اخراج کی نگرانی کی جا سکے۔

اس اقدام سے حکام کو خاص طور پر ان گاڑیوں کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے جو معمول کے سفر کے دوران غیر معمولی مقدار میں آلودگی پیدا کرتی ہیں۔ اس طریقہ کار کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ صرف ظاہری دھویں کو دیکھ کر گاڑی کی جانچ کرنے کے بجائے اخراج سے متعلق قابل پیمائش ڈیٹا استعمال کیا جائے۔

ثبوت پر مبنی ماحولیاتی نگرانی

محکمہ ماحولیات کے مطابق گاڑیوں کے اخراج سے متعلق مخصوص ڈیٹا دستیاب ہونے سے ماحولیاتی قوانین کے نفاذ کو مزید منظم کیا جا سکے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی شناخت اور ان کے اخراج کے ریکارڈ سے ایسی گاڑیوں کو مزید جانچ یا قانونی کارروائی کے لیے منتخب کرنا آسان ہوگا جو آلودگی کی مقررہ حدود سے تجاوز کرتی ہوں۔

اس نظام کے ذریعے ماحولیاتی نگرانی میں انسانی مشاہدے پر مکمل انحصار کم کرکے تکنیکی پیمائش کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم کسی گاڑی کے خلاف حتمی کارروائی کے لیے متعلقہ ماحولیاتی قواعد، مزید جانچ اور قانونی طریقہ کار بھی اہم ہوں گے۔

Portable Emission Measurement System بھی استعمال ہوگا

منصوبے کے تحت منتخب گاڑیوں کے تفصیلی اخراج کی جانچ کے لیے Portable Emission Measurement Systems بھی استعمال کیے جائیں گے۔ یہ آلات گاڑی کو اس کے حقیقی ڈرائیونگ حالات میں جانچنے کے لیے استعمال ہوں گے اور ریموٹ سینسنگ ڈیوائسز سے حاصل ہونے والے نتائج کی تصدیق میں معاونت کریں گے۔

اس طریقہ کار سے ابتدائی طور پر بڑی تعداد میں گاڑیوں کی اسکریننگ اور بعد میں مخصوص گاڑیوں کی تفصیلی جانچ کے درمیان ایک نظام قائم کیا جا سکے گا۔

گاڑیوں کے اخراج کی جانچ کے لیے خصوصی یونٹ

منصوبے کے تحت پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے اندر ایک Vehicular Emission Testing Unit قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ اس یونٹ کو تکنیکی نگرانی، معیار کی جانچ اور نظام کے عملی امور میں معاونت کی ذمہ داری دی جائے گی۔

اس یونٹ کے قیام سے اخراج کی پیمائش اور اس سے متعلق کارروائی کے لیے ایک مخصوص ادارہ جاتی نظام فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے اسموگ کے خلاف اقدامات

گاڑیوں کا دھواں پنجاب میں اسموگ اور فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع میں شامل ہے، اسی لیے صوبائی حکومت نے رواں سال اسموگ کے موسم سے پہلے ہی مختلف آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

10 ستمبر 2026 کو شروع کیے گئے پری اسموگ کریک ڈاؤن میں گاڑیوں کے اخراج، تعمیراتی گردوغبار، فصلوں کی باقیات جلانے، کچرا جلانے اور اینٹوں کے بھٹوں سمیت آلودگی کے مختلف ذرائع کو ہدف بنایا گیا۔ لاہور میں بھاری اور ہلکی گاڑیوں کی جانچ اور موٹر سائیکلوں کے اخراج کی مسلسل نگرانی پر بھی زور دیا گیا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اسموگ کی نگرانی کے لیے Safe City کیمروں، تھرمل امیجنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے استعمال میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

تھرمل ڈرون نگرانی بھی جاری

گاڑیوں کے علاوہ پنجاب EPA آلودگی کے دیگر ذرائع کی نشاندہی کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں صوبے میں تھرمل ڈرون نگرانی کے ذریعے دھویں اور دیگر آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

EPA کے مطابق تھرمل ڈرون دن اور رات کے اوقات میں آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس کے بعد فیلڈ ٹیمیں متعلقہ مقام پر پہنچ کر زمینی معائنہ اور ماحولیاتی قوانین کے مطابق کارروائی کرتی ہیں۔

اس طریقہ کار کا مقصد عمومی نگرانی کے بجائے ٹیکنالوجی کی مدد سے مخصوص آلودگی کے ذرائع تک پہنچنا ہے۔

پنجاب میں فضائی آلودگی کی نگرانی کا وسیع منصوبہ

پنجاب کے محکمہ تحفظ ماحول کے مطابق صوبے میں اسموگ اور فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے Air Safe کے نام سے ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات بھی جاری ہیں۔ اس منصوبے میں ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز میں اضافہ، گاڑیوں کے اخراج کی نگرانی اور ایندھن کے معیار کی جانچ شامل ہے۔

محکمے کے مطابق 26 نئے مستقل ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز شامل کیے جا رہے ہیں جبکہ گاڑیوں کے دھویں کی نگرانی کے لیے 20 Smoke Opacity Meters بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ تین موبائل فیول ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے ذریعے ایندھن کے معیار کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔

نئی ٹیکنالوجی سے کیا تبدیلی آئے گی؟

نئے اسکیننگ نظام کا بنیادی مقصد گاڑیوں کے اخراج کی نگرانی کو زیادہ وسیع اور ڈیٹا پر مبنی بنانا ہے۔ روایتی طریقے میں ہر مشتبہ گاڑی کو روک کر جانچ کرنا پڑ سکتی ہے، جبکہ ریموٹ سینسنگ نظام بڑی تعداد میں گاڑیوں کو ان کے معمول کے سفر کے دوران اسکرین کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا۔

اگر کسی گاڑی سے مقررہ حدود سے زیادہ آلودگی کا اخراج ریکارڈ ہو تو اسے مزید تفصیلی جانچ کے لیے منتخب کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ابتدائی اسکریننگ اور حتمی جانچ کے درمیان ایک مربوط طریقہ کار تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گاڑی مالکان کے لیے کیا اہم ہوگا؟

نظام کے عملی نفاذ کے بعد گاڑیوں کے مالکان کے لیے اپنی گاڑیوں کی ماحولیاتی مطابقت برقرار رکھنا مزید اہم ہو سکتا ہے۔ گاڑی کا انجن، اخراج سے متعلق نظام اور دیگر تکنیکی اجزا درست حالت میں رکھنا دھویں اور آلودگی کو کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

تاہم نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کا مقصد صرف جرمانوں یا کارروائیوں میں اضافہ نہیں بلکہ آلودگی کے ذرائع کی درست نشاندہی اور ماحولیاتی معیار پر عملدرآمد کو بہتر بنانا بھی ہے۔ کسی بھی قانونی کارروائی کا انحصار متعلقہ قوانین اور طے شدہ طریقہ کار پر ہوگا۔

آئندہ کا مرحلہ

VESS منصوبے کے حوالے سے تکنیکی کمیٹی پہلے ہی آلات کی مختلف خصوصیات کا جائزہ لے چکی ہے۔ ان میں آلودگی کے مختلف اجزا کی پیمائش، پیمائش کی درستگی، detection limits، گاڑیوں کی رفتار، ڈیٹا ریزولوشن، کیمرہ انضمام اور متعلقہ سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کی اہلیت جیسے امور شامل ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے کو صرف کیمروں یا سینسرز کی تنصیب تک محدود رکھنے کے بجائے پیمائش، ڈیٹا ریکارڈنگ اور بعد کی تصدیقی جانچ کے ساتھ منسلک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نتیجہ

پنجاب میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی نگرانی کے لیے جدید اسکیننگ نظام متعارف کرانے کا منصوبہ صوبے کی اسموگ اور فضائی آلودگی کے خلاف جاری ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کا حصہ ہے۔ لاہور کے نو داخلی و خارجی راستوں پر ریموٹ سینسنگ ڈیوائسز کے ذریعے گاڑیوں کو روکے بغیر اخراج کی پیمائش کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ مزید تفصیلی جانچ کے لیے Portable Emission Measurement Systems اور خصوصی ٹیسٹنگ یونٹ بھی شامل کیے جائیں گے۔

یہ نظام عملی طور پر کس حد تک مؤثر ثابت ہوتا ہے، اس کا انحصار درست تکنیکی پیمائش، ڈیٹا کے مناسب استعمال، مزید جانچ کے طریقہ کار اور ماحولیاتی قوانین کے یکساں نفاذ پر ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!