Friday, September 18, 2026
FB
تازہ ترین

چین کی امریکا اور ایران پر مذاکرات بحال کرنے کی اپیل

چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکراتی عمل دوبارہ بحال کریں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات میں فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سابقہ مفاہمت کی بنیاد پر بامعنی مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل کی۔

چین کی امریکا اور ایران پر مذاکرات بحال کرنے کی اپیل

امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران چین نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ عسکری محاذ آرائی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کریں۔ بیجنگ کی یہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں تنازع کے اثرات توانائی، عالمی تجارت اور بحری آمدورفت تک پھیل رہے ہیں۔

چین کی مذاکرات کی اپیل

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے 16 ستمبر کو بیجنگ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ تحمل اور سمجھ داری کا مظاہرہ کریں، جون میں طے پانے والی عبوری مفاہمت کی طرف واپس آئیں اور پہلے سے موجود اتفاق رائے کی بنیاد پر مذاکراتی طریقہ کار دوبارہ قائم کرتے ہوئے متعلقہ معاملات پر بامعنی مشاورت کریں۔

چین نے اس موقع پر واضح کیا کہ موجودہ تنازع کا جاری رہنا متعلقہ فریقوں اور عالمی برادری کے مشترکہ مفادات میں نہیں۔ بیجنگ نے تنازع کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔

ایران کا سفارتی راستے پر مؤقف

ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کی تازہ صورتحال اور تہران کے آئندہ اقدامات سے متعلق مؤقف پیش کیا۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق عراقچی نے کہا کہ ایران تنازع کو جاری رکھنا نہیں چاہتا اور سفارتی حل کے راستے پر واپس آنے کی امید رکھتا ہے، تاہم تہران اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ پر بھی زور دیتا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان سابقہ مفاہمت اب بھی اہم ہے۔ تہران نے علاقائی ممالک کے ساتھ بھی مذاکرات اور مشاورت جاری رکھنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سفارتی رابطے کے لیے کچھ گنجائش موجود ہے، تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں۔

آبنائے ہرمز بھی چین کی توجہ کا مرکز

چین نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ساتھ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ وانگ یی نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ بین الاقوامی آبی راستے کو جلد از جلد محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ اس خطے میں طویل عرصے تک کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں عالمی توانائی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

چین کی دلچسپی اس لیے بھی نمایاں ہے کہ وہ عالمی توانائی اور تجارتی سپلائی چین کا ایک بڑا حصہ ہے۔ حالیہ سفارتی رابطوں میں بیجنگ نے خطے میں محفوظ بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کے تسلسل پر خاص توجہ دی ہے۔

امریکا اور چین کے درمیان بھی رابطہ

چین کی ایران سے ملاقات کے ایک روز بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ رائٹرز کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے امریکا اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان رابطے، تعاون اور اختلافات کے انتظام کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی رابطے میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔

یہ سفارتی سرگرمیاں اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہیں جب خطے میں جنگی صورتحال کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

چین کا وسیع تر علاقائی مؤقف

بیجنگ نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو صرف دو طرفہ مسئلہ قرار دینے کے بجائے پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی سے جوڑتے ہوئے علاقائی سطح پر مذاکرات اور تعاون پر بھی زور دیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مکالمے کی حمایت کی اور ایک ایسے علاقائی سکیورٹی نظام کی ضرورت پر زور دیا جس میں مشترکہ اور پائیدار سلامتی کو اہمیت دی جائے۔

چین نے یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ بحران مشرق وسطیٰ کے موجودہ سکیورٹی ڈھانچے میں موجود کمزوریوں کی طرف توجہ دلاتا ہے اور خطے میں زیادہ مؤثر سکیورٹی انتظام کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے لیے اہمیت

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان جغرافیائی طور پر مشرق وسطیٰ کے قریب ہے اور خطے میں توانائی، تجارت، سمندری راستوں اور پاکستانی شہریوں کے مفادات سے اس صورتحال کا تعلق بنتا ہے۔

خصوصاً آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹ یا عدم استحکام عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے بالواسطہ اثرات پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی طرح خطے میں کشیدگی کم ہونے سے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی شہریوں، علاقائی تجارت اور سفری رابطوں کے لیے بھی نسبتاً مستحکم ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم ان ممکنہ اثرات کی شدت کا انحصار آئندہ سفارتی اور سکیورٹی پیش رفت پر ہوگا۔

مذاکرات کی بحالی میں اب بھی رکاوٹیں

چین کی اپیل کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی مکمل بحالی کو ابھی ایک طے شدہ پیش رفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور خطے میں جاری عسکری کشیدگی نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایران نے سفارتی راستے پر واپسی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ چین نے مذاکراتی طریقہ کار کی بحالی کی اپیل کی ہے۔ تاہم عملی طور پر مذاکرات کب اور کن شرائط پر دوبارہ شروع ہوں گے، اس بارے میں ابھی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

نتیجہ

چین نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکراتی راستہ بحال کرنے پر زور دیا ہے۔ بیجنگ کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں ایران کے ساتھ براہ راست رابطے اور واشنگٹن کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے دونوں شامل ہیں۔ ایران نے بھی سفارتی حل کے راستے پر واپسی کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے باضابطہ طور پر دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!