Saturday, September 19, 2026
FB
تازہ ترین

موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے فیول ریلیف میں بڑی سہولت

وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی صارفین کو پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے حالیہ پیش رفت میں 20 سال تک پرانے دو اور تین پہیوں والے گاڑیوں کو بھی اسکیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ 500 روپے کے ہفتہ وار ٹوکن کے استعمال کی شرط میں بھی نرمی کی گئی ہے۔

موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے فیول ریلیف میں بڑی سہولت

پاکستان میں پٹرول کی بلند قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی صارفین کے لیے شروع کی گئی فیول ریلیف اسکیم میں اہم تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر اسکیم کا دائرہ بڑھاتے ہوئے اب 20 سال تک پرانے دو اور تین پہیوں والے رکشوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی اہل قرار دیا گیا ہے۔

اسکیم کے تحت اہل صارفین کو پٹرول کی خریداری پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 15 سال تک کی عمر کی شرط رکھی گئی تھی، تاہم عوامی ردعمل اور عملی مشکلات کے بعد اس حد کو بڑھا کر 20 سال کردیا گیا ہے۔

موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟

وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور دیگر اہل دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے صارفین کو 100 روپے فی لیٹر پٹرول پر ریلیف دیا جا رہا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف مقرر کیا گیا ہے، جو 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے 5 لیٹر کے برابر بنتا ہے۔ مجموعی طور پر ماہانہ 20 لیٹر تک پٹرول پر ریلیف فراہم کرنے کا طریقہ کار مقرر کیا گیا تھا۔

500 روپے کے ہفتہ وار ٹوکن میں تبدیلی

حکومت نے اسکیم کے نفاذ کے ابتدائی تجربے اور عوامی شکایات کے بعد ایک اہم سہولت فراہم کی ہے۔

اب مستحق صارف کے لیے ایک ہی مرتبہ کم از کم 5 لیٹر پٹرول خریدنا ضروری نہیں ہوگا۔ 500 روپے کا ہفتہ وار ٹوکن پٹرول کی مطلوبہ مقدار کے مطابق استعمال کیا جا سکے گا، جس سے ایسے افراد بھی ریلیف حاصل کرسکیں گے جو ایک وقت میں کم مقدار میں پٹرول خریدتے ہیں۔

اس فیصلے کا مقصد خاص طور پر ان صارفین کے لیے سہولت پیدا کرنا ہے جو روزانہ یا ہفتہ وار بنیاد پر محدود رقم میں پٹرول خریدتے ہیں۔

20 سال تک پرانی موٹر سائیکلیں اور رکشے بھی شامل

اسکیم میں سب سے نمایاں تازہ تبدیلی گاڑیوں کی عمر سے متعلق ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت کے بعد یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی رکشہ بھی فیول ریلیف اسکیم کے لیے رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ اس طرح 20 سال تک پرانی متعلقہ گاڑیوں کو بھی اسکیم کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے یکم جنوری 2011 یا اس کے بعد رجسٹریشن کی شرط بتائی گئی تھی، جسے بعد میں تبدیل کیا گیا۔

اسکیم پورے ملک میں نافذ

وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کا ملک گیر نفاذ 16 ستمبر کی رات سے شروع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے کم آمدنی والے صارفین کو براہ راست ریلیف فراہم کرنا ہے۔

حکومت کے مطابق اسکیم کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے چلانے کے لیے فیول پاس سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ اہل صارفین تک ریلیف شفاف انداز میں پہنچایا جاسکے۔

غیر کمرشل صارفین کے لیے اسکیم

اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے مطابق فیول ریلیف اسکیم غیر کمرشل صارفین تک محدود ہے۔ ایک صارف یا مالک کو ایک ہی گاڑی کے لیے ریلیف فراہم کرنے کا طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔

اس لیے ہر موٹر سائیکل یا رکشہ خودکار طور پر ریلیف کا مستحق نہیں ہوگا بلکہ مقررہ اہلیت اور رجسٹریشن کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔

حکومت نے کن مشکلات کو دور کیا؟

اسکیم کے ملک گیر نفاذ کے ابتدائی دنوں میں انٹرنیٹ کی دستیابی، ٹوکن کے استعمال اور رجسٹریشن سمیت مختلف عملی مسائل سامنے آئے۔

حکومت نے کم یا نہ ہونے والی انٹرنیٹ سہولت والے علاقوں کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان علاقوں میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور دیگر دور دراز دیہی علاقے شامل ہیں۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ 500 روپے کے ٹوکن کی مکمل مالیت صارف کو منتقل کی جائے گی اور پٹرول پمپس صارف سے کوئی کٹوتی یا سروس چارج وصول نہیں کرسکیں گے۔

چھوٹی گاڑیوں کے لیے بھی ریلیف

فیول ریلیف اسکیم صرف موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین تک محدود نہیں۔ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے بھی 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ریلیف رکھا گیا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مطابق 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کو ہر 10 دن کے لیے 1,000 روپے کا ریلیف فراہم کرنے کا طریقہ کار منظور کیا گیا ہے۔

تاہم 18 ستمبر کو حکومت کی جانب سے دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے عمر اور ٹوکن سے متعلق جو نئی سہولتیں دی گئی ہیں، وہ خاص طور پر موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی صارفین سے متعلق ہیں۔

فیول ریلیف اسکیم کا مقصد

حکومت نے یہ اسکیم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے شروع کی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی صورتحال کے باعث پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دباؤ بڑھا، جس سے عام صارفین بالخصوص کم آمدنی والے طبقات متاثر ہوئے۔

موٹر سائیکل اور رکشہ پاکستان میں روزمرہ سفر اور آمدنی کے اہم ذرائع میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے حکومت نے ان صارفین کو اسکیم کے مرکزی دائرے میں رکھا ہے۔

پٹرول ریلیف کیسے دیا جا رہا ہے؟

فیول ریلیف کو براہ راست پٹرول کی عام مارکیٹ قیمت کم کرنے کے بجائے ایک ہدفی سبسڈی کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اہل صارفین کی شناخت اور ریلیف کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس طریقہ کار کا مقصد یہ ہے کہ سرکاری رقم براہ راست اہل صارفین تک پہنچے اور اسکیم میں غیرضروری یا غیرمجاز فائدہ اٹھانے کے امکانات کم کیے جائیں۔

صارفین کے لیے تازہ اہم تبدیلیاں

حالیہ حکومتی فیصلوں کے بعد موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی صارفین کے لیے دو باتیں خاص طور پر اہم ہیں۔

پہلی یہ کہ یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ متعلقہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں بھی اسکیم کے لیے اہل ہوسکتی ہیں۔

دوسری یہ کہ 500 روپے کے ہفتہ وار ٹوکن کو استعمال کرنے کے لیے ایک مرتبہ میں کم از کم 5 لیٹر پٹرول خریدنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔

آئندہ کیا ہوگا؟

حکومت نے اسکیم کے نفاذ کی نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اسٹیئرنگ کمیٹی نے رجسٹریشن، ٹوکن کے استعمال اور پٹرول پمپس کو ادائیگیوں کے عمل کا جائزہ بھی لیا ہے۔

حکومت کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات اور زمینی صورتحال کی بنیاد پر مزید انتظامی تبدیلیاں بھی ممکن ہیں، تاہم نئی شرائط یا اضافی سہولتوں کے بارے میں حتمی معلومات صرف متعلقہ سرکاری اعلانات کے بعد ہی قابل اعتماد ہوں گی۔

نتیجہ

موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی صارفین کے لیے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم میں حالیہ تبدیلیوں سے زیادہ صارفین کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 100 روپے فی لیٹر ریلیف کے ساتھ اب 20 سال تک پرانی متعلقہ گاڑیاں بھی دائرہ کار میں شامل ہیں، جبکہ 500 روپے کے ہفتہ وار ٹوکن کو کم مقدار میں پٹرول خریدنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!