Sunday, September 20, 2026
FB
تازہ ترین

وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم ملک بھر میں جاری، نئی سہولتیں بھی شامل

وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم ملک بھر میں جاری ہے، جس کے تحت اہل شہریوں کو پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جا رہا ہے۔ تازہ ترمیم کے بعد موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین کے لیے کم از کم پانچ لیٹر پٹرول لینے کی شرط ختم کر دی گئی ہے اور 20 سال پرانی گاڑیاں بھی اسکیم میں شامل کر دی گئی ہیں۔ آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے موجودہ رعایتی طریقہ کار بھی برقرار ہے۔

وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم ملک بھر میں جاری، نئی سہولتیں بھی شامل

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم ملک بھر میں جاری ہے، جس کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے کم آمدنی اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق اسکیم کے تحت اہل صارفین کو پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے تک رعایت دی جا رہی ہے۔

حکومت نے اسکیم کے ابتدائی نفاذ کے بعد شہریوں کی آرا اور عملی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں بعض اہم تبدیلیاں بھی کی ہیں۔

موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے نئی سہولت

تازہ فیصلے کے مطابق موٹر سائیکل، چنگ چی اور آٹو رکشہ استعمال کرنے والوں کے لیے ایک مرتبہ میں کم از کم پانچ لیٹر پٹرول خریدنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

اب اہل صارفین کو ایک ٹوکن کے عوض ہفتہ وار 500 روپے کی رعایت دی جائے گی، جسے پٹرول کی مطلوبہ مقدار خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ ہر ہفتے ایک ٹوکن جاری ہوگا جبکہ ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ چار ٹوکن فراہم کیے جائیں گے۔

اس تبدیلی کا مقصد ان صارفین کے لیے اسکیم کو زیادہ قابلِ رسائی بنانا ہے جو ایک وقت میں زیادہ مقدار میں پٹرول خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

20 سال پرانی موٹر سائیکلیں اور رکشے بھی شامل

حکومت نے فیول ریلیف اسکیم کے دائرہ کار میں بھی توسیع کی ہے۔ موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی رکشوں کے لیے گاڑی کی عمر کی حد 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کر دی گئی ہے۔

اس فیصلے کے تحت یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ ہونے والی متعلقہ موٹر سائیکلیں اور تین پہیوں والی گاڑیاں اسکیم میں رجسٹریشن کے لیے اہل ہوں گی۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسے شہریوں کو بھی ریلیف کے دائرے میں لانا ہے جو نسبتاً پرانی موٹر سائیکلوں یا رکشوں پر انحصار کرتے ہیں۔

آٹھ سو سی سی تک گاڑیوں کے لیے موجودہ طریقہ برقرار

آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کرنے والے اہل افراد کے لیے موجودہ طریقہ کار بھی جاری رہے گا۔

حکومت کے مطابق ان صارفین کو ہر دس دن میں زیادہ سے زیادہ دس لیٹر پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف دیا جائے گا۔ ماہانہ بنیاد پر ایسے صارفین کے لیے تین ٹوکن جاری ہونے کا طریقہ برقرار ہے۔

ابتدائی سرکاری معلومات کے مطابق 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر تک رعایتی پٹرول کی سہولت بنتی ہے۔

پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف

خصوصی فیول ریلیف اسکیم کے تحت حکومت نے اہل صارفین کے لیے پٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر ریلیف مقرر کیا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 14 ستمبر کو اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی تھی۔ سرکاری معلومات کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار 500 روپے جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے دس دن کی بنیاد پر 1000 روپے کا ریلیف رکھا گیا ہے۔

رجسٹریشن اور ٹوکن کا نظام

اسکیم کے لیے رجسٹریشن ایس ایم ایس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق اہل صارف کو شناختی کارڈ، اپنے نام پر رجسٹرڈ سم اور گاڑی کی رجسٹریشن سے متعلق معلومات درکار ہوتی ہیں۔

ابتدائی طور پر رجسٹریشن کے لیے 9771 پر ایس ایم ایس سروس متعارف کرائی گئی تھی۔ ٹوکن کے حصول اور پٹرول پمپ پر رعایت حاصل کرنے کے لیے بھی ایس ایم ایس پر مبنی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔

حکومت نے بعد ازاں اہل شہریوں کے لیے رجسٹریشن ایس ایم ایس سروس مفت کرنے کا اعلان بھی کیا۔

انٹرنیٹ نہ ہونے والے علاقوں کے لیے متبادل انتظام

حکومت نے ان علاقوں میں بھی اسکیم کی رسائی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں جہاں پٹرول پمپس پر انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا دستیاب نہیں۔

قومی اسٹیئرنگ کمیٹی نے ایسے مقامات پر ایس ایم ایس کے ذریعے فیول ٹوکن کی تصدیق اور استعمال کی اجازت دینے کی منظوری دی ہے۔ اس میں دور دراز علاقوں کے ساتھ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔

درست ٹوکن رکھنے والے شہری کو واپس نہ بھیجنے کی ہدایت

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں پٹرول پمپس پر اسکیم کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ درست ٹوکن پیش کرنے والے کسی بھی اہل شہری کو پٹرول پمپ سے واپس نہ بھیجا جائے۔ شہریوں اور فیول اسٹیشنز کو درپیش تکنیکی مسائل کے فوری حل کے لیے 24 گھنٹے کام کرنے والا نظام قائم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

حکومت کا مقصد کیا ہے؟

خصوصی فیول ریلیف اسکیم ایسے وقت میں متعارف کرائی گئی جب عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دباؤ بڑھا۔

حکومت کے مطابق اسکیم کا مقصد موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے کم آمدنی والے شہریوں کے لیے ایندھن کا مالی بوجھ کم کرنا ہے۔

اسکیم کی موجودہ صورتحال

حکومت کے مطابق خصوصی فیول ریلیف اسکیم اب ملک بھر میں فعال ہے۔ ابتدائی نفاذ کے دوران سامنے آنے والی شکایات اور شہریوں کی آرا کی بنیاد پر کم از کم پانچ لیٹر خریدنے کی شرط ختم کی گئی اور موٹر سائیکلوں و تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے عمر کی حد 20 سال کر دی گئی۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسکیم کے ذریعے مستحق شہریوں تک ریلیف کی فراہمی میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

نتیجہ

وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم ملک بھر میں جاری ہے اور اس میں حالیہ دنوں کے دوران اہل شہریوں کے لیے مزید سہولتیں شامل کی گئی ہیں۔ موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین کو ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف، 20 سال تک پرانی متعلقہ گاڑیوں کی شمولیت اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے موجودہ رعایتی طریقہ کار برقرار رکھا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسکیم کا مقصد بڑھتی ہوئی پٹرول قیمتوں کے اثرات سے متاثرہ شہریوں کو براہ راست ریلیف فراہم کرنا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!