Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

غیر قانونی سمز اور بینکنگ فراڈ، 1 کروڑ 82 لاکھ سمز بلاک

پاکستان میں غیر قانونی سمز اور بینکنگ فراڈ کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال میں 1 کروڑ 82 لاکھ غیر قانونی سمز بلاک کی جا چکی ہیں۔

غیر قانونی سمز اور بینکنگ فراڈ، 1 کروڑ 82 لاکھ سمز بلاک

غیر قانونی سمز اور بینکنگ فراڈ کا خطرہ، 1 کروڑ 82 لاکھ سمز بلاک

اسلام آباد: پاکستان میں غیر قانونی سمز، چوری شدہ بائیومیٹرک ڈیٹا اور کرائے پر لیے گئے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے آن لائن اور مالی فراڈ کے واقعات پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں اہم بریفنگ دی گئی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر غیر قانونی طور پر جاری کی گئی سمز کے ذریعے شہریوں کو جعلی کالز اور بینکنگ پیغامات بھیج کر دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض معاملات میں چوری شدہ فنگر پرنٹس اور دوسرے افراد کے نام پر استعمال ہونے والے بینک اکاؤنٹس بھی مالی فراڈ کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تقریباً 1 کروڑ 82 لاکھ غیر قانونی سمز بلاک کی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق غیر قانونی سمز کے خلاف کارروائی کے ساتھ ٹیلی کام کمپنیوں پر جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں بائیومیٹرک ڈیٹا کے تحفظ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور دیگر حساس شناختی معلومات جرائم پیشہ عناصر تک کیسے پہنچ رہی ہیں اور ان معلومات کو استعمال کرکے سمز یا مالی اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کیسے روکی جا سکتی ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تجویز دی کہ مستقبل میں بند اکاؤنٹس یا سمز کے دوبارہ اجرا کے لیے فیشل یا آئرس شناخت جیسے جدید نظام کو استعمال کیا جائے تاکہ کسی دوسرے شخص کی شناخت استعمال کرکے سم یا اکاؤنٹ حاصل کرنے کے امکانات کم کیے جا سکیں۔

حکام نے بتایا کہ آن لائن فراڈ کے لیے صرف غیر قانونی سمز ہی استعمال نہیں ہو رہیں بلکہ بعض جرائم پیشہ افراد دوسرے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس بھی کرائے پر حاصل کرکے رقم کی منتقلی اور فراڈ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس صورتحال نے ٹیلی کمیونیکیشن اور بینکنگ نظام میں شناختی معلومات کے تحفظ اور نگرانی کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں واٹس ایپ ہیکنگ اور آن لائن فراڈ کی روک تھام پر بھی بریفنگ دی گئی۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے حکام نے بتایا کہ واٹس ایپ ہیکنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق شہریوں کو بھی جعلی کالز، مشکوک پیغامات اور نامعلوم افراد کی جانب سے بینکنگ معلومات طلب کرنے کے طریقوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی شخص کو بینک کا پاس ورڈ، OTP، PIN یا بائیومیٹرک معلومات فراہم نہیں کرنی چاہئیں۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے غیر قانونی سمز اور سائبر فراڈ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ جدید بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل سیکیورٹی نظام کے ذریعے شہریوں کے مالی اور شناختی ڈیٹا کو محفوظ بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!