Friday, September 11, 2026
تازہ ترین

نئی آٹو پالیسی 2026-31 منظور، الیکٹرک گاڑیوں پر بڑے ٹیکس ریلیف کی تیاری

وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی منظوری دے دی۔ پالیسی میں الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیوں، مقامی پیداوار، برآمدات اور صارفین کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات شامل ہیں۔

نئی آٹو پالیسی 2026-31 منظور، الیکٹرک گاڑیوں پر بڑے ٹیکس ریلیف کی تیاری

اسلام آباد: پاکستان میں آٹو موبائل سیکٹر کے لیے طویل عرصے سے زیرِ غور نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے کو وزیراعظم شہباز شریف نے منظوری دے دی ہے۔ نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں گاڑیوں کی مقامی پیداوار، سرمایہ کاری، برآمدات، جدید ٹیکنالوجی اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

نئی آٹو پالیسی کو پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ گزشتہ کئی ماہ سے حکومت، مقامی آٹو مینوفیکچررز، درآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر مشاورت جاری تھی۔ پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں، ہائبرڈ گاڑیوں، مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور گاڑیوں کی برآمدات کے حوالے سے اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

تازہ رپورٹس کے مطابق پالیسی کے مسودے کو وزیراعظم کی منظوری ملنے کے بعد اسے مزید منظوریوں کے لیے آگے بڑھایا جائے گا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق پالیسی کو عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، اس کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے مراحل مکمل کیے جائیں گے، جبکہ بعد ازاں اسے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا عمل بھی متوقع ہے۔

نئی آٹو پالیسی 2026-31 کیا ہے؟

نئی آٹو پالیسی پانچ سالہ فریم ورک کے طور پر تیار کی گئی ہے جس کا اطلاق 2026 سے 2031 تک متوقع ہے۔ حکومت کا مقصد صرف گاڑیوں کی خرید و فروخت بڑھانا نہیں بلکہ پاکستان کے آٹو موبائل سیکٹر کو زیادہ مسابقتی، جدید اور برآمدات کے قابل بنانا ہے۔

حکومت کے مطابق نئی پالیسی کے ذریعے مقامی آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے، مقامی پیداوار بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور گاڑیوں کی برآمدات کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔

اس پالیسی کا ایک اہم پہلو نئی توانائی کی گاڑیوں یعنی New Energy Vehicles کو فروغ دینا بھی ہے۔ ان گاڑیوں میں بیٹری الیکٹرک گاڑیاں، پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز شامل ہیں۔

حکومت کی جانب سے نئی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کا مقصد مستقبل میں پاکستان کی پٹرولیم درآمدات پر انحصار کم کرنا اور زیادہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کی طرف پیش رفت کرنا بھی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی ٹیکس سہولتیں

نئی آٹو پالیسی کا سب سے نمایاں حصہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مجوزہ ٹیکس سہولتیں ہیں۔

تازہ رپورٹ کے مطابق نئی پالیسی میں بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کو سب سے زیادہ ترجیحی ٹیکس سہولت دینے کی تجویز شامل ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس صرف ایک فیصد رکھنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جبکہ بعض دیگر ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں بڑی رعایتیں دینے کی بات کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ کی تجاویز بھی پالیسی کا حصہ ہیں۔

اگر یہ تجاویز حتمی شکل میں منظور ہوجاتی ہیں تو پاکستان میں الیکٹرک گاڑی خریدنے والے صارفین کے لیے مجموعی لاگت میں نمایاں فرق پڑ سکتا ہے۔

اس اقدام کا مقصد صرف صارفین کو گاڑی سستی فراہم کرنا نہیں بلکہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکل مارکیٹ کو وسعت دینا بھی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان

نئی ٹیکس مراعات کے نتیجے میں الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں ایک عرصے سے عام صارف کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہی ہیں۔ ابتدائی خریداری کی قیمت، درآمدی ڈیوٹیز، ٹیکسز، بیٹری کی لاگت اور چارجنگ انفراسٹرکچر سے متعلق اخراجات نے اس شعبے کی ترقی کو محدود کیا ہے۔

اگر حکومت ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کرتی ہے تو نئی توانائی کی گاڑیوں کی مارکیٹ میں مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں مقامی کمپنیوں کو بھی زیادہ مسابقتی قیمتوں پر گاڑیاں تیار کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔

تاہم صارفین کے لیے اصل فائدہ اس وقت واضح ہوگا جب پالیسی کے تحت ٹیکس ریلیف عملی طور پر نافذ ہوگا اور کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اس کا اثر منتقل کیا جائے گا۔

بکنگ کے بعد قیمت بڑھانے پر کمپنی ذمہ دار ہوگی

نئی آٹو پالیسی میں صارفین کے تحفظ کے حوالے سے بھی اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

تازہ رپورٹ کے مطابق اگر کوئی صارف گاڑی بک کروانے کے بعد کمپنی کی جانب سے مقررہ مدت میں گاڑی کی قیمت بڑھانے کی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے تو نئی پالیسی میں اس معاملے کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بکنگ کے بعد گاڑی کی قیمت بڑھانے کی صورت میں کمپنی کو ذمہ دار قرار دینے اور گاڑی کی ڈیلیوری کی تاریخ واضح کرنا لازمی بنانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

یہ اقدام گاڑی خریدنے والے صارفین کے لیے خاص طور پر اہم ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان میں ماضی میں گاڑیوں کی بکنگ اور ڈیلیوری کے درمیان طویل انتظار کے دوران قیمتوں میں تبدیلی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔

صارف گاڑی بک کروانے کے وقت ایک قیمت دیکھتا ہے لیکن کئی ماہ بعد ڈیلیوری کے وقت قیمت بڑھ جانے سے اس کے لیے اضافی رقم کا انتظام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اگر نئی پالیسی اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کرتی ہے تو صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

گاڑی کی ڈیلیوری کی تاریخ بتانا ہوگی

نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی ڈیلیوری کے نظام کو زیادہ شفاف بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گاڑی بک کرواتے وقت صارف کو ڈیلیوری کی تاریخ یا مدت کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنا لازمی بنانے کی تجویز ہے۔

اس اقدام سے صارفین کو یہ معلوم ہوگا کہ انہیں اپنی بک کی ہوئی گاڑی کے لیے کتنے عرصے تک انتظار کرنا ہوگا۔

یہ تبدیلی خاص طور پر ان صارفین کے لیے اہم ہے جو اپنی پرانی گاڑی فروخت کرکے نئی گاڑی خریدنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا گاڑی کے حصول کے لیے بینک فنانسنگ کا استعمال کرتے ہیں۔

اگر ڈیلیوری میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے تو صارف کو مالی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس لیے واضح ڈیلیوری ٹائم لائن صارفین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔

ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی توجہ

نئی آٹو پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی اہم مقام دیا گیا ہے۔

ابتدائی مسودے کے مطابق مختلف کیٹیگریز کی ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس میں 800 سی سی تک اور 851 سے 1000 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں سمیت بڑی انجن کیٹیگریز کے لیے بھی ڈیوٹی میں کمی کی تجاویز کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض کیٹیگریز میں موجودہ 50 فیصد ڈیوٹی کو پالیسی کی مدت کے دوران کم کرکے 30 فیصد تک لانے کی تجویز رپورٹ ہوئی ہے۔

اگر یہ تجاویز حتمی پالیسی میں برقرار رہتی ہیں تو ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد اور مارکیٹ میں ان کی دستیابی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ہائبرڈ ٹرک اور بسوں کے لیے بھی مراعات

نئی پالیسی صرف نجی استعمال کی گاڑیوں تک محدود نہیں ہے۔

تجویز کردہ فریم ورک میں ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں، ٹرکوں اور بسوں کے لیے بھی ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کے اقدامات شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ہائبرڈ ٹرک پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ہائبرڈ بسوں کے لیے بھی ڈیوٹی میں کمی کا منصوبہ زیر غور ہے۔ ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں کے لیے بھی موجودہ ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

کمرشل ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایسی سہولتیں ملک کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ ٹرک اور بسیں روزانہ بڑی مقدار میں ایندھن استعمال کرتی ہیں۔

اگر زیادہ ایندھن بچانے والی گاڑیوں کا استعمال بڑھتا ہے تو طویل مدت میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بڑی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی کی تجویز

نئی آٹو پالیسی میں ایک جانب الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو سہولت دینے کی تجاویز ہیں تو دوسری جانب بڑی انجن کی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2,001 سے 3,000 سی سی تک کی گاڑیوں پر 10 فیصد ماحولیاتی لیوی جبکہ 3,001 سی سی یا اس سے زیادہ انجن والی گاڑیوں پر 19.5 فیصد لیوی کی تجویز سامنے آئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد بڑی اور نسبتاً زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو آٹو سیکٹر کی ترقی، برآمدات اور تحقیق و ترقی کے لیے استعمال کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس ماحولیاتی لیوی سے پانچ سال میں تقریباً 142.79 ارب روپے حاصل ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

مقامی گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ

پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو درپیش ایک بڑا مسئلہ مقامی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا ہے۔

نئی آٹو پالیسی کا ایک اہم مقصد یہی ہے کہ ملک میں صرف گاڑیاں اسمبل کرنے کے بجائے مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ پرزے تیار کیے جائیں۔

اس سے مقامی وینڈر انڈسٹری کو فروغ مل سکتا ہے اور پاکستان میں آٹو پارٹس تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

مقامی پیداوار میں اضافے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں گاڑیوں کی سپلائی زیادہ مستحکم ہو اور درآمدی پرزوں پر انحصار کم ہو۔

سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے کی کوشش

حکومت نئی آٹو پالیسی کے ذریعے پاکستان میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنا چاہتی ہے۔

اگر پالیسی طویل مدتی بنیادوں پر واضح اور مستحکم رہتی ہے تو سرمایہ کاروں کے لیے نئی فیکٹریاں، اسمبلی پلانٹس اور آٹو پارٹس یونٹس لگانے میں دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔

آٹو موبائل صنعت کا تعلق صرف گاڑی بنانے والی کمپنیوں تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ہزاروں وینڈر، ورکشاپس، پارٹس مینوفیکچررز، ٹائر کمپنیاں، بیٹری ساز ادارے، شیشے، پلاسٹک، الیکٹرانکس اور دیگر صنعتی شعبے منسلک ہوتے ہیں۔

اس لیے آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھنے سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

گاڑیوں کی برآمدات پر خصوصی توجہ

حکومت کی نئی پالیسی کا ایک بنیادی ہدف پاکستان سے گاڑیوں کی برآمدات کو فروغ دینا بھی ہے۔

پاکستانی آٹو سیکٹر ماضی میں بڑی حد تک مقامی مارکیٹ پر انحصار کرتا رہا ہے۔ نئی پالیسی کے ذریعے حکومت چاہتی ہے کہ مقامی صنعت عالمی معیار کی گاڑیاں تیار کرے اور انہیں بیرون ملک مارکیٹوں میں فروخت کیا جائے۔

گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی گاڑیوں کی موجودگی مقامی صنعت کے معیار اور مسابقت میں بھی بہتری لا سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور

نئی آٹو پالیسی کا ایک اہم مقصد جدید ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کرنا بھی ہے۔

دنیا بھر میں آٹو موبائل انڈسٹری تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ الیکٹرک گاڑیاں، ہائبرڈ ٹیکنالوجی، جدید بیٹری سسٹمز، خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی اور گاڑیوں کے جدید حفاظتی نظام عالمی مارکیٹ کا حصہ بن رہے ہیں۔

اگر پاکستان جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو پالیسی کا لازمی حصہ بناتا ہے تو مقامی صنعت کو مستقبل کی عالمی مارکیٹ کے لیے تیار ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

پٹرول پر انحصار کم کرنے کی کوشش

نئی آٹو پالیسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند سطح پر موجود ہیں۔

حال ہی میں پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس سے عام صارف، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری شعبے پر دباؤ بڑھا ہے۔

ایسے ماحول میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو فروغ دینے سے طویل مدت میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اگر زیادہ شہری الیکٹرک گاڑیوں یا ایندھن کی بچت کرنے والی ہائبرڈ گاڑیوں کی طرف منتقل ہوتے ہیں تو ملک کی درآمدی پٹرولیم ضروریات میں بھی کمی لانے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے فنانسنگ بھی اہم ہوگی

صرف گاڑیوں پر ٹیکس کم کرنا الیکٹرک گاڑیوں کو عام شہری تک پہنچانے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

اس شعبے کی ترقی کے لیے بینک فنانسنگ، چارجنگ اسٹیشنز، بیٹری سروسز اور اسپیئر پارٹس کی دستیابی بھی ضروری ہوگی۔

تازہ رپورٹس میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرض کی حد بڑھانے کی سفارش کا بھی ذکر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے قرض کی حد ایک کروڑ روپے تک بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔

اگر بینک مناسب شرح پر فنانسنگ فراہم کرتے ہیں تو صارفین کے لیے الیکٹرک گاڑی خریدنا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر کا چیلنج

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے سب سے بڑا عملی چیلنج چارجنگ انفراسٹرکچر بھی ہے۔

اگر شہریوں کو یہ اعتماد نہ ہو کہ وہ اپنے شہر یا بین الاضلاعی سفر کے دوران گاڑی آسانی سے چارج کرسکیں گے تو وہ نئی ٹیکنالوجی اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرسکتے ہیں۔

اس لیے نئی آٹو پالیسی کے ساتھ چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک بڑھانا بھی ضروری ہوگا۔

موٹرویز، قومی شاہراہوں، بڑے شہروں، تجارتی مراکز اور پٹرول پمپس پر چارجنگ سہولتیں فراہم کرنے سے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

عام صارف کو فوری فائدہ ہوگا یا نہیں؟

نئی آٹو پالیسی کے اعلان کے بعد سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ عام صارف کو گاڑی کتنی سستی ملے گی۔

اس کا حتمی جواب ابھی دینا قبل از وقت ہوگا کیونکہ پالیسی کے تمام ٹیکس، ڈیوٹی، مقامی پیداوار اور قیمتوں سے متعلق اقدامات کے عملی نفاذ کے بعد ہی اصل اثر سامنے آئے گا۔

اگر کمپنیاں ٹیکس ریلیف کا فائدہ صارفین تک منتقل کرتی ہیں تو گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے۔

لیکن اگر پیداواری لاگت، درآمدی پرزوں، کرنسی کی قدر اور دیگر اخراجات زیادہ رہتے ہیں تو ٹیکس میں کمی کا مکمل فائدہ صارف تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

موجودہ گاڑیوں کی صنعت پر کیا اثر ہوگا؟

نئی پالیسی سے مقامی گاڑی بنانے والی کمپنیوں، درآمد کنندگان، پارٹس مینوفیکچررز اور صارفین سب پر اثر پڑے گا۔

مقامی صنعت کے لیے ایک طرف نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ دوسری جانب ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مسابقت موجودہ کمپنیوں کو اپنی مصنوعات اور ٹیکنالوجی بہتر بنانے پر مجبور کرسکتی ہے۔

یہ مقابلہ اگر صحت مند انداز میں آگے بڑھا تو صارفین کو بہتر گاڑیاں، زیادہ انتخاب اور ممکنہ طور پر بہتر قیمتیں مل سکتی ہیں۔

پالیسی ابھی مکمل طور پر نافذ کیوں نہیں ہوئی؟

یہ بات صارفین کے لیے سمجھنا ضروری ہے کہ وزیراعظم کی منظوری کے باوجود پالیسی کے تمام مراحل مکمل نہیں ہوئے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق پالیسی کو آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، اس کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے مراحل ہوں گے۔ بعد ازاں اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا عمل بھی متوقع ہے۔

اس لیے پالیسی میں موجود ہر تجویز کو اس وقت تک حتمی قانون سمجھنا درست نہیں ہوگا جب تک متعلقہ منظوریوں اور قانونی عمل کے بعد اس کا باضابطہ نفاذ نہ ہوجائے۔

حکومت کے لیے بڑے اہداف

نئی آٹو پالیسی کو مجموعی طور پر حکومت کے چند بڑے معاشی اہداف سے جوڑا جاسکتا ہے۔

ان میں مقامی پیداوار میں اضافہ، نئی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع، گاڑیوں کی برآمدات، جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ اور پٹرولیم درآمدات میں ممکنہ کمی شامل ہیں۔

اگر پالیسی مؤثر انداز میں نافذ ہوتی ہے تو پاکستان کی آٹو انڈسٹری مستقبل میں صرف مقامی صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے بجائے علاقائی اور عالمی مارکیٹ میں بھی زیادہ نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔

ماہرین اور صنعت کے لیے اگلا مرحلہ

اب آٹو موبائل صنعت کی نظریں پالیسی کے حتمی نفاذ پر ہوں گی۔

کار ساز کمپنیاں یہ دیکھیں گی کہ حکومت مقامی پیداوار اور ٹیکنالوجی منتقلی کے لیے کیا عملی مراعات فراہم کرتی ہے۔

صارفین کی توجہ ٹیکس اور گاڑیوں کی قیمتوں پر ہوگی۔

درآمد کنندگان ڈیوٹی کے نئے ڈھانچے کو دیکھیں گے۔

جبکہ آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کے لیے مقامی پیداوار کے نئے مواقع اہم ہوں گے۔

اس طرح نئی آٹو پالیسی کا اصل امتحان اس کے اعلان سے زیادہ اس کے عملی نفاذ میں ہوگا۔

نتیجہ

پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 2026-31 کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے منظوری ملنا ملکی آٹو موبائل سیکٹر کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ پالیسی میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو فروغ دینے، ٹیکس مراعات دینے، مقامی پیداوار بڑھانے، سرمایہ کاری لانے، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مجوزہ ٹیکس ریلیف، ہائبرڈ گاڑیوں پر مرحلہ وار ڈیوٹی میں کمی، کمرشل ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے مراعات اور بڑی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی اس پالیسی کے نمایاں پہلو ہیں۔

صارفین کے لیے سب سے اہم تبدیلی بکنگ کے بعد قیمتوں میں اضافے اور ڈیلیوری کے معاملات سے متعلق مجوزہ تحفظ ہوسکتی ہے۔ اگر کمپنیوں کو مقررہ ڈیلیوری ٹائم لائن کی پابندی اور بکنگ کے بعد قیمتوں کے حوالے سے واضح ذمہ داری کا پابند بنایا جاتا ہے تو گاڑی خریدنے والے صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

تاہم نئی آٹو پالیسی کے حقیقی نتائج اس وقت سامنے آئیں گے جب اسے تمام قانونی اور انتظامی مراحل سے گزار کر عملی طور پر نافذ کیا جائے گا۔

پاکستان کے لیے یہ پالیسی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ملک ایک طرف پٹرولیم درآمدات کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کررہا ہے اور دوسری جانب عالمی آٹو موبائل صنعت تیزی سے الیکٹرک اور کم ایندھن استعمال کرنے والی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہورہی ہے۔

اگر حکومت مقامی صنعت، صارفین، سرمایہ کاروں اور ماحول کے مفادات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے پالیسی پر عملدرآمد کرتی ہے تو نئی آٹو پالیسی پاکستان کے آٹو موبائل سیکٹر کے لیے ایک نئے دور کی بنیاد بن سکتی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!