Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

پیٹرول 5 روپے 2 پیسے، ڈیزل 5 روپے 28 پیسے مہنگا

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 2 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ اضافے کے بعد پیٹرول 375 روپے 82 پیسے اور ڈیزل 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتیں 12 سے 14 ستمبر 2026 تک نافذ رہیں گی۔

پیٹرول 5 روپے 2 پیسے، ڈیزل 5 روپے 28 پیسے مہنگا

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

اسلام آباد: حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل مزید مہنگا کر دیا ہے۔ تازہ نظرثانی کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 2 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 370 روپے 80 پیسے سے بڑھ کر 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 398 روپے 4 پیسے سے بڑھ کر 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 12 ستمبر سے 14 ستمبر 2026 تک ہوگا۔

ڈیزل 400 روپے فی لیٹر کی سطح سے اوپر

تازہ اضافے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ڈیزل کی نئی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ٹرانسپورٹ، مال برداری اور دیگر شعبوں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان شعبوں میں ڈیزل بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ تاہم اضافے کے حقیقی معاشی اثرات کا انحصار دیگر مارکیٹ عوامل پر بھی ہوگا۔

پیٹرول کی نئی قیمت

پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 2 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 375 روپے 82 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول 370 روپے 80 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔

اس اضافے سے روزانہ گاڑی یا موٹر سائیکل استعمال کرنے والے صارفین کے ایندھن کے اخراجات میں براہ راست اضافہ ہوگا۔

قیمتوں میں مسلسل پانچویں مرتبہ اضافہ

حالیہ اضافہ رواں عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں اضافے کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں میں پیٹرول مجموعی طور پر 29 روپے 95 پیسے جبکہ ڈیزل 25 روپے 27 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔

اس سے قبل ایک روز پہلے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

قیمتوں میں اضافے کی وجہ

تازہ قیمتوں میں تبدیلی عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں کی گئی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق قیمتوں کا حساب سات روز کی اوسط عالمی مارکیٹ قیمتوں کی بنیاد پر کیا گیا۔

حالیہ عالمی مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

نئی قیمتیں کب تک نافذ رہیں گی؟

پٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 12 ستمبر 2026 سے ہوگا اور یہ نرخ 14 ستمبر تک نافذ رہیں گے۔ موجودہ روزانہ نظرثانی کے طریقہ کار کے تحت اس کے بعد قیمتوں میں دوبارہ تبدیلی ممکن ہے۔

عوام اور کاروبار پر ممکنہ اثرات

پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے ماہانہ سفری اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مال بردار ٹرانسپورٹ، بسوں، زرعی مشینری اور دیگر ڈیزل استعمال کرنے والے شعبوں کے اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے۔

اگر ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ برقرار رہتا ہے تو کاروباری شعبے کے لیے نقل و حمل کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مختلف اشیا اور خدمات کی قیمتوں پر دباؤ پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے، تاہم ہر شعبے میں اثرات کی شدت مختلف ہو سکتی ہے۔

آئندہ کیا ہوگا؟

نئی قیمتیں فی الحال 14 ستمبر تک نافذ ہیں۔ اس کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور دیگر متعلقہ عوامل کو دیکھتے ہوئے مزید نظرثانی کی جا سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتوں پر نظر رکھنا اہم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب قیمتوں میں مختصر وقفوں کے دوران مسلسل تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔

نتیجہ

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 2 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اضافے کے بعد پیٹرول 375 روپے 82 پیسے جبکہ ڈیزل 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔

نئی قیمتیں 12 سے 14 ستمبر 2026 تک نافذ رہیں گی۔ مسلسل اضافوں کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک بار پھر عوام، ٹرانسپورٹ اور کاروباری شعبے کے لیے اہم موضوع بن گئی ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!