ڈی آئی خان میں پولیس پارٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ، 6 اہلکار زخمی
ڈیرہ اسماعیل خان: خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پارٹی کو دہشت گردوں نے فائرنگ کا نشانہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت 6 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ واقعہ ہتھالہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں پولیس اہلکار ایک کارروائی کے لیے روانہ تھے۔
پولیس کے مطابق ہتھالہ کے قریب پولیس پارٹی کی گاڑی پر مسلح افراد نے اچانک فائرنگ شروع کردی۔ حملے کے دوران پولیس گاڑی بے قابو ہوکر الٹ گئی، جس کے باعث پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ حملہ آور پولیس کی جوابی فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔
پولیس پارٹی کارروائی کے لیے روانہ تھی
دستیاب معلومات کے مطابق پولیس پارٹی ہتھالہ کے علاقے میں ایک کارروائی کے سلسلے میں جا رہی تھی۔ گاڑی میں ڈی ایس پی کلاچی کفایت اللہ اور ایس ایچ او ہتھالہ سمیت دیگر پولیس اہلکار موجود تھے۔
پولیس حکام کے مطابق جب ٹیم امین فارمز کے قریب پہنچی تو مسلح افراد نے پولیس گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کردی۔ اچانک حملے کے نتیجے میں پولیس گاڑی کا توازن برقرار نہ رہ سکا اور وہ الٹ گئی۔
حکام کے مطابق فائرنگ کے بعد پولیس اہلکاروں نے بھی فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جس کے بعد حملہ آور علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ڈی ایس پی سمیت 6 اہلکار زخمی
پولیس حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ڈی ایس پی کلاچی کفایت اللہ، اسسٹنٹ سب انسپکٹر نومان خان اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والوں میں کانسٹیبل غلام قاسم، غلام سعید، ہاشم اور ایک خاتون پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ضروری علاج فراہم کیا گیا۔
پولیس کی جوابی فائرنگ
حملے کے فوراً بعد پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ پولیس کی مزاحمت کے بعد دہشت گرد وہاں سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ حملے میں ملوث افراد تک پہنچا جاسکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
ہتھالہ اور اطراف میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی
واقعے کے بعد ہتھالہ اور گردونواح میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار علاقے میں موجود ہیں اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
حکام کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن کا مقصد حملے میں ملوث عناصر کا سراغ لگانا اور ان کے ممکنہ ٹھکانوں کی نشاندہی کرنا ہے۔
ڈی آئی خان اور جنوبی خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں ماضی میں بھی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو دہشت گرد حملوں کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث ان علاقوں میں سیکیورٹی ادارے مسلسل ہائی الرٹ رہتے ہیں۔
حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی
تازہ اطلاعات کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم یا گروپ نے قبول نہیں کی۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ پولیس پارٹی کی نقل و حرکت کے بارے میں حملہ آوروں کو کس طرح معلومات حاصل ہوئیں اور حملے کی منصوبہ بندی کس انداز میں کی گئی۔
زخمی اہلکاروں کو طبی امداد
حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق زخمی اہلکاروں کو ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی صورتحال کا جائزہ لیا اور علاقے میں جاری سرچ آپریشن کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
پولیس اہلکاروں پر حملے کے بعد سیکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے میں نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری
خیبر پختونخوا میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ جنوبی اضلاع میں پولیس اہلکاروں کو خاص طور پر مختلف نوعیت کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔
ڈی آئی خان بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں سیکیورٹی ادارے دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔
حالیہ واقعے کے بعد پولیس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
واقعے کی مزید تحقیقات جاری
پولیس پارٹی پر فائرنگ کے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ تفتیشی حکام جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ عینی شاہدین اور متعلقہ پولیس اہلکاروں سے بھی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق سرچ آپریشن مکمل ہونے اور تحقیقات میں مزید پیش رفت کے بعد واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
فی الحال پولیس کی ترجیح زخمی اہلکاروں کو طبی سہولیات فراہم کرنا، علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا اور حملہ آوروں کو گرفتار کرنا ہے۔
اہم بات: تازہ دستیاب رپورٹس کے مطابق واقعے میں 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ابتدائی بعض رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد مختلف بتائی گئی تھی۔ بعد کی تفصیلی رپورٹ میں 6 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تفصیل سامنے آئی۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!