پنجاب میں مون سون بارشوں کے نویں اور آخری اسپیل کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں الرٹ جاری کردیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 12 سے 17 ستمبر کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو پیشگی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب میں بارشوں کے نویں اسپیل کی پیشگوئی
پی ڈی ایم اے کے مطابق 12 سے 17 ستمبر کے دوران مختلف علاقوں میں بارش متوقع ہے۔ ابتدائی پیشگوئی کے مطابق راولپنڈی، جہلم، چکوال، تلہ گنگ اور اٹک میں بارش کا امکان ہے۔
14 سے 17 ستمبر کے دوران لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ، نارووال، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، گجرات، وزیرآباد، حافظ آباد، قصور، اوکاڑہ، ننکانہ صاحب اور سرگودھا سمیت متعدد اضلاع میں بارش متوقع ہے۔
اس کے علاوہ خوشاب، میانوالی، نورپور تھل، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ، بھکر، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان اور ملتان سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ
پی ڈی ایم اے نے بارشوں کے دوران بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے بھی متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں شدید بارش کی صورت میں شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح برساتی نالوں میں اچانک طغیانی یا فلیش فلڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو نکاسی آب کے انتظامات، حساس مقامات کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ
پی ڈی ایم اے نے مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔
پہاڑی علاقوں میں مسلسل یا تیز بارش کے دوران سڑکوں پر مٹی، پتھر اور ملبہ آنے سے آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، اس لیے متعلقہ اداروں کو نگرانی اور ضروری انتظامات برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل محمد سیف انور جپہ نے پنجاب بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کو پیشگی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
متعلقہ محکموں، جن میں صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات، لوکل گورنمنٹ اور لائیو اسٹاک کے ادارے شامل ہیں، کو بھی ممکنہ بارشوں کے پیش نظر تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات
پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ خاص طور پر کچے اور بوسیدہ مکانات میں رہائش سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ مون سون کے دوران ایسے مکانات کے منہدم ہونے سے جانی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
آندھی، گرج چمک اور طوفانی موسم کے دوران شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
آسمانی بجلی کے خطرے کے پیش نظر گرج چمک کے دوران کھلے مقامات پر جانے سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
بچوں اور نشیبی علاقوں کے حوالے سے احتیاط
پی ڈی ایم اے نے والدین سے کہا ہے کہ وہ بارش کے دوران بچوں پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں نشیبی علاقوں میں جمع پانی، بجلی کے کھمبوں اور تاروں کے قریب جانے سے روکیں۔
بارش کے بعد سڑکوں اور گلیوں میں جمع پانی میں بجلی کے کرنٹ کا خطرہ موجود ہوسکتا ہے، اس لیے شہریوں کو ایسے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہنگامی صورتحال میں کیا کیا جائے؟
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 بھی ہنگامی صورتحال میں رابطے کے لیے دستیاب ہے۔
شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ بارشوں کے دوران موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر توجہ دیں اور غیر ضروری طور پر ایسے علاقوں کا رخ نہ کریں جہاں سیلابی پانی، برساتی نالوں یا لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہو۔
پنجاب کے لیے مون سون اسپیل کی اہمیت
موجودہ مون سون اسپیل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پنجاب کے متعدد اضلاع میں بارشوں کے باعث پہلے ہی مختلف نوعیت کے موسمی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ نویں اور آخری اسپیل کے دوران بارش کی شدت اور مقامی صورتحال کے مطابق شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے، برساتی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
اسی وجہ سے پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو پیشگی الرٹ کرنے کا مقصد ممکنہ نقصان کو کم کرنا اور ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔
آئندہ دنوں میں کیا صورتحال رہ سکتی ہے؟
پی ڈی ایم اے کی موجودہ پیشگوئی کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ 17 ستمبر تک مختلف اضلاع کو متاثر کرسکتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص علاقے میں بارش کی شدت اور دورانیہ مقامی موسمی حالات کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔
شہریوں کو چاہیے کہ وہ موسم کی تازہ صورتحال اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری ہونے والے نئے الرٹس پر نظر رکھیں، خصوصاً وہ افراد جو سفر کر رہے ہوں یا نشیبی اور پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر ہوں۔
نتیجہ
پنجاب میں مون سون کے نویں اور آخری اسپیل کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے صوبے بھر میں احتیاطی اقدامات تیز کرنے اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ 17 ستمبر تک مختلف اضلاع میں بارش کی پیشگوئی کے ساتھ بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ، برساتی نالوں میں فلیش فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
حکام کی جانب سے شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ خراب موسم میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کی تاروں اور جمع پانی سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!