Sunday, September 13, 2026
تازہ ترین

پاکستان کی معیشت: G20 میں شمولیت کا ہدف، دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنانے کا اعلان

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کا ہدف پاکستان کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنانا اور G20 میں شامل کرنا ہے۔ حکومت معاشی استحکام کے بعد ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار میں اضافے پر توجہ دے رہی ہے۔

پاکستان کی معیشت: G20 میں شمولیت کا ہدف، دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنانے کا اعلان

پاکستان کی معیشت: G20 میں شمولیت کا ہدف، ملک کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنانے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان نے اپنی معیشت کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنانے کے لیے بڑے اہداف مقرر کرلیے ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کا مقصد پاکستان کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنانا اور مستقبل میں گروپ آف 20 یعنی G20 میں شامل کرنا ہے۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کی توجہ اب معاشی استحکام کے بعد ترقی کی رفتار تیز کرنے پر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر نکل چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور معاشی سرگرمیوں میں دوبارہ تیزی آ رہی ہے۔

پاکستان کو 24ویں بڑی معیشت بنانے کا ہدف

اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت پاکستان کی معیشت کو دوبارہ اس سطح پر لے جانے کی کوشش کررہی ہے جہاں ملک عالمی معیشت میں زیادہ نمایاں مقام حاصل کرسکے۔

ان کے مطابق حکومت کے اہم اہداف میں 2017 کے معاشی اشاریوں کو بحال کرنا، پاکستان کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنانا اور G20 کی رکنیت حاصل کرنا شامل ہے۔

یہ ہدف اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت معاشی استحکام کے بعد اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔

G20 میں شمولیت کیوں اہم ہے؟

G20 دنیا کی بڑی معیشتوں پر مشتمل ایک اہم عالمی فورم ہے جہاں عالمی اقتصادی ترقی، تجارت، مالیاتی استحکام، سرمایہ کاری اور دیگر اہم معاشی معاملات پر ممالک کے درمیان تعاون ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے G20 میں شمولیت کا ہدف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت ملک کی معیشت کو بڑے عالمی اقتصادی ممالک کے برابر لانے کی خواہش رکھتی ہے۔

تاہم G20 میں شمولیت کے لیے صرف معاشی حجم میں اضافہ کافی نہیں ہوتا۔ مضبوط اور پائیدار اقتصادی ترقی، عالمی تجارت میں نمایاں کردار، سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی طاقت بھی اہم عوامل ہیں۔

معاشی استحکام کے بعد ترقی پر توجہ

نائب وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے گزشتہ عرصے کے دوران معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں اور اب حکومت کی توجہ معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے پر ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کی عارضی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی ملکی پیداوار یعنی GDP کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا ہے۔

حکومت کے مطابق آئندہ مالی سال میں زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں ترقی کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔

مہنگائی میں کمی اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری

اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح بھی ماضی کے مقابلے میں کم ہوئی ہے اور پالیسی ریٹ میں کمی سے معاشی سرگرمیوں کو سہارا ملا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اب استحکام سے آگے بڑھ کر تیز اقتصادی ترقی کی جانب جانا چاہتی ہے۔

حکومت کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکس نظام میں بہتری کے ذریعے معیشت کی بنیاد مضبوط بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔

برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت

پاکستان کو بڑی عالمی معیشتوں میں شامل ہونے کے لیے اپنی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔

حکومت کے اقتصادی منصوبے میں سرمایہ کاری بڑھانے، صنعتی شعبے کو وسعت دینے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور نجی شعبے کو مزید مواقع فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت نے 4 فیصد اقتصادی ترقی کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ صنعتی شعبے میں بھی بہتری لانے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

IMF پروگرام اور معاشی اصلاحات

پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاشی اصلاحات کے پروگرام پر بھی عمل کررہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق پاکستان کی اصلاحات میں سرکاری مالیات کو مضبوط بنانا، مہنگائی کو قابو میں رکھنا، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور معیشت میں ساختی تبدیلیاں شامل ہیں۔

حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کی شرح میں اضافہ کیا جائے تاکہ ملک پر بیرونی مالی دباؤ کم ہو اور روزگار و آمدنی کے مواقع بڑھ سکیں۔

پاکستان کے لیے بڑا معاشی چیلنج

پاکستان کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنانے اور G20 میں شامل کرنے کا ہدف بلاشبہ ایک بڑا معاشی منصوبہ ہے، تاہم اس کے لیے مسلسل اور کئی برسوں تک بلند معاشی ترقی کی ضرورت ہوگی۔

معاشی ماہرین کے لیے اہم سوال یہ ہوگا کہ پاکستان کس طرح برآمدات میں مستقل اضافہ، غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ، توانائی کے مسائل کا حل، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور صنعتی پیداوار میں اضافہ یقینی بناتا ہے۔

صرف وقتی معاشی استحکام کے بجائے پائیدار ترقی ہی پاکستان کو عالمی معیشت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے سکتی ہے۔

حکومت کا عالمی معاشی مقام بہتر بنانے پر زور

حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ملک کے عالمی اقتصادی اور سفارتی کردار کو بھی وسعت دی جارہی ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان اپنے معاشی اور سفارتی اہداف کے حصول کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو بھی مزید مضبوط کررہا ہے۔

اگر حکومت اپنے مقرر کردہ معاشی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو پاکستان کی عالمی اقتصادی پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے اور مستقبل میں G20 میں شمولیت کے لیے اس کی پوزیشن مضبوط ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

پاکستان کے لیے اب اصل امتحان یہ ہے کہ موجودہ معاشی استحکام کو طویل المدتی اور تیز رفتار اقتصادی ترقی میں تبدیل کیا جائے۔ حکومت کا 24ویں بڑی معیشت اور G20 میں شمولیت کا ہدف اسی بڑے معاشی وژن کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!