Saturday, September 12, 2026
تازہ ترین

نیٹ میٹرنگ کا نیا نظام، سولر صارفین کے لیے اہم تبدیلیاں سامنے آگئیں

پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ نظام نافذ ہے، نئے سولر صارفین کے لیے اضافی بجلی کی قیمت اور موجودہ صارفین کے حقوق سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں۔

نیٹ میٹرنگ کا نیا نظام، سولر صارفین کے لیے اہم تبدیلیاں سامنے آگئیں

نیٹ میٹرنگ کے نئے نظام اور سولر صارفین کے لیے بڑی خبر

اسلام آباد: پاکستان میں سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کے نظام میں بڑی تبدیلیاں سامنے آنے کے بعد بجلی پیدا کرنے والے صارفین کے لیے نئے قواعد اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 2026 کے نئے پروزیومر ریگولیشنز کے تحت روایتی نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کرایا ہے۔

نئے نظام میں سولر صارفین کی جانب سے قومی گرڈ کو فراہم کی جانے والی اضافی بجلی اور گرڈ سے خریدی جانے والی بجلی کا حساب الگ الگ کیا جائے گا۔ یعنی صارف کی جانب سے گرڈ کو بھیجے گئے اضافی یونٹس کی قیمت اور صارف کی جانب سے گرڈ سے حاصل کی گئی بجلی کا ٹیرف ایک جیسا نہیں ہوگا۔

نئے ضوابط کے تحت اضافی سولر بجلی کی خریداری نیشنل ایوریج انرجی پرائس کے مطابق کی جائے گی، جبکہ صارف جب گرڈ سے بجلی حاصل کرے گا تو اس پر متعلقہ ریٹ کے مطابق بل عائد ہوگا۔ اس تبدیلی کا مطلب ہے کہ سولر صارفین کے لیے پہلے کی طرح بجلی کے یونٹس کی ون ٹو ون ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ کار ختم ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نئے نظام میں اضافی بجلی کی خریداری کی قیمت تقریباً 11 روپے فی یونٹ کے قریب بنتی ہے، جبکہ گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی اس سے کہیں زیادہ مہنگے ریٹ پر صارف کو مل سکتی ہے۔ اس فرق کے باعث نئے سولر صارفین کے لیے بجلی کی اضافی پیداوار کو گرڈ میں فروخت کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ بجلی خود استعمال کرنا مالی طور پر زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

نئے قواعد میں سولر پروزیومر معاہدے کی مدت بھی پانچ سال مقرر کی گئی ہے، جسے قواعد کے مطابق مزید پانچ سال کے لیے تجدید کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے نیٹ میٹرنگ کے معاہدوں کی مدت سات سال تھی۔

تاہم موجودہ سولر صارفین کے لیے صورتحال میں اہم پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ نیپرا کی بعد کی ترامیم کے مطابق پہلے سے موجود نیٹ میٹرنگ صارفین کے موجودہ انتظامات کو تحفظ دیا گیا ہے، جبکہ سسٹم میں توسیع کرنے والے صارفین کے لیے اضافی بجلی کے فوائد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اسی طرح پاور ڈویژن نے حال ہی میں واضح کیا ہے کہ وہ نیٹ میٹرنگ کی ان زیر التوا درخواستوں کو نمٹانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے جن میں صارفین نے 9 فروری 2026 سے پہلے ڈیمانڈ نوٹس کی ادائیگی سمیت مقررہ مراحل مکمل کر لیے تھے۔ ڈسکوز اور پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کو ایسے کیسز کی تصدیق اور بلنگ سسٹم میں ضروری اپ ڈیٹس کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد اہل صارفین کو غیر ضروری تاخیر سے بچانا اور نیپرا کی ہدایات پر یکساں انداز میں عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

ماہرین کے مطابق نئے نیٹ بلنگ نظام کے بعد سولر صارفین کے لیے بیٹری اسٹوریج، دن کے اوقات میں سولر بجلی کا زیادہ استعمال اور سسٹم کی درست سائزنگ پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ سولر بجلی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بجلی کے قومی نظام پر پڑنے والے مالی اثرات کو متوازن کرنا ضروری ہے۔

یوں پاکستان میں سولر پالیسی کا نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، جس میں نئے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ بنیادی نظام ہوگا، جبکہ پہلے سے موجود اور مخصوص شرائط پوری کرنے والے صارفین کو متعلقہ قواعد کے تحت تحفظ حاصل رہے گا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!