Sunday, September 13, 2026
تازہ ترین

بلوچستان میں انگور کی پیداوار کو موسمی دباؤ، گرمی اور پانی کی قلت کا سامنا

بلوچستان میں انگور کی پیداوار بدلتے موسم، بڑھتے درجہ حرارت، کم بارش اور پانی کی قلت کے باعث دباؤ کا شکار ہے، جس سے کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

بلوچستان میں انگور کی پیداوار کو موسمی دباؤ، گرمی اور پانی کی قلت کا سامنا

بلوچستان میں انگور کی پیداوار کو شدید موسمی دباؤ کا سامنا

کوئٹہ: بلوچستان میں انگور کی پیداوار کو بدلتے ہوئے موسمی حالات، بڑھتے درجہ حرارت، کم بارش اور پانی کی دستیابی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جس سے صوبے کے انگور کے باغات اور کاشتکاروں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بلوچستان پاکستان میں انگور کی پیداوار کا ایک اہم مرکز ہے۔ سرکاری منصوبہ بندی کی ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ، پشین، مستونگ، خاران، ژوب، نوشکی اور پنجگور سمیت مختلف اضلاع میں انگور کی کاشت کی جاتی ہے، جبکہ پشین کو انگور کے کلسٹر کا اہم مرکزی ضلع قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے انگور پیدا کرنے والے علاقوں میں آب و ہوا عمومی طور پر خشک اور نسبتاً سرد ہے۔ ان علاقوں میں بارش کی سالانہ مقدار محدود رہتی ہے جبکہ فصل کی آبپاشی کے لیے زیرِ زمین پانی اور بعض علاقوں میں روایتی کاریز نظام پر انحصار کیا جاتا ہے۔

موسمی حالات میں تبدیلی انگور کی فصل کے لیے ایک اہم خطرہ بن رہی ہے۔ پاکستان محکمہ موسمیات کے زرعی موسمیاتی جائزوں کے مطابق بلوچستان کے بعض علاقوں میں محدود بارش اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث فصلوں پر موسمی دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے پیش نظر آبپاشی کے بہتر انتظام اور پانی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق انگور کی فصل کے لیے درجہ حرارت، نمی اور پانی کی دستیابی انتہائی اہم عوامل ہیں۔ شدید گرمی اور طویل خشک موسم کی صورت میں پودوں کی پانی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، جبکہ محدود آبی وسائل کاشتکاروں کے لیے اضافی اخراجات کا باعث بن سکتے ہیں۔

بلوچستان کے انگور کے باغات میں تیز ہوائیں اور گردوغبار بھی بعض اوقات نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ سرکاری رپورٹ میں مئی اور جون کے دوران تیز ہواؤں اور گردوغبار کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، جو پیداوار پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

موسمی دباؤ کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت بھی صوبے کے زرعی شعبے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حالیہ غذائی تحفظ کے جائزوں میں بلوچستان میں معمول سے کم مون سون بارش، بڑھتے درجہ حرارت اور آبپاشی کی زیادہ ضرورت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

کاشتکاروں کے لیے صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ بلوچستان میں انگور کی فصل نہ صرف مقامی منڈیوں کی ضرورت پوری کرتی ہے بلکہ اس سے وابستہ کسانوں، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر کاروباری طبقات کی آمدنی بھی جڑی ہوئی ہے۔

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے پانی کے مؤثر استعمال، جدید آبپاشی کے طریقوں، باغات میں نمی برقرار رکھنے، مناسب زرعی نگرانی اور موسمی پیش گوئیوں سے بروقت استفادہ کرنا ضروری ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے بھی کسانوں کو بدلتے درجہ حرارت اور نمی کے حالات کے مطابق زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنے اور آبپاشی کے وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا رہا ہے۔

کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر موسمی دباؤ اور پانی کی قلت کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو مستقبل میں انگور کی پیداوار اور معیار متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اس لیے بلوچستان کے انگور کے باغات کے لیے موسمیاتی موافقت، پانی کے تحفظ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بلوچستان حکومت کا سرکاری Crop Reporting Services پلیٹ فارم بھی صوبے میں فصلوں، پیداوار، موسمی حالات اور زرعی رجحانات سے متعلق معلومات اور نگرانی کا نظام فراہم کرتا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!