Tuesday, September 15, 2026
تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلابی صورتحال سے درجنوں سڑکیں متاثر

خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں، سیلابی پانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مختلف اضلاع میں سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔ صوبائی محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 12 اضلاع میں 59 سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ مجموعی متاثرہ لمبائی 56.31 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلابی صورتحال سے درجنوں سڑکیں متاثر

خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کے بعد سڑکیں متاثر

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں، سیلابی پانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں کا انفراسٹرکچر متاثر ہوا ہے، جس سے بعض مقامات پر آمدورفت میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔

صوبائی محکمہ مواصلات و تعمیرات کے 15 ستمبر 2026 کے ضلعی نقصان کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے 12 اضلاع میں مجموعی طور پر 59 سڑکیں متاثر ہوئی ہیں اور 64 مختلف مقامات پر نقصان رپورٹ کیا گیا ہے۔ متاثرہ سڑکوں کی مجموعی لمبائی 56.31 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔

کن اضلاع میں سڑکوں کو زیادہ نقصان پہنچا؟

سرکاری ڈیٹا کے مطابق نوشہرہ میں 21 سڑکیں اور 22 نقصان کے مقامات رپورٹ ہوئے، جبکہ متاثرہ سڑکوں کی لمبائی 14.08 کلومیٹر ہے۔ ضلع سوات اس تازہ مجموعی رپورٹ میں شامل نہیں، تاہم دیگر اضلاع میں بھی سڑکوں کو نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایبٹ آباد میں 8 سڑکیں متاثر ہوئیں جن کی مجموعی متاثرہ لمبائی 7.71 کلومیٹر ہے۔ مانسہرہ میں 5 سڑکوں کو نقصان پہنچا جبکہ متاثرہ لمبائی 12.33 کلومیٹر رپورٹ ہوئی۔

لوئر کوہستان میں 3 سڑکیں 13 کلومیٹر کی مجموعی متاثرہ لمبائی کے ساتھ رپورٹ ہوئی ہیں۔ سوات، شانگلہ اور دیگر پہاڑی اضلاع میں بھی شدید بارشوں کے دوران سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو خطرات برقرار ہیں۔

21 سڑکیں مکمل بحالی کی منتظر

محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ 59 سڑکوں میں سے 10 کو مکمل طور پر بحال کیا جا چکا ہے، جبکہ 33 سڑکوں پر جزوی بحالی کا کام مکمل ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 21 متاثرہ سڑکیں تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض علاقوں میں سڑکوں کی بحالی کا کام ابھی جاری ہے۔

نوشہرہ میں سب سے زیادہ سڑکیں متاثر

نوشہرہ تازہ ضلعی رپورٹ میں سب سے زیادہ متاثرہ سڑکوں والا ضلع ہے۔ یہاں 21 سڑکوں پر نقصان رپورٹ ہوا اور 22 مقامات کو نقصان پہنچا۔

ضلعی رپورٹ کے مطابق متاثرہ سڑکوں کی مجموعی لمبائی 14.084 کلومیٹر ہے۔ 17 سڑکوں یا متاثرہ حصوں پر جزوی بحالی کا کام ہوا جبکہ 5 مقامات تاحال مکمل بحالی کے منتظر ہیں۔

محکمے کے ڈیٹا میں بعض سڑکوں کو شدید نقصان پہنچنے اور بعض مقامات پر بارش کے پانی یا قریبی نالوں کے سیلابی بہاؤ کو نقصان کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ہر متاثرہ سڑک کے نقصان کی وجہ ایک جیسی نہیں ہے۔

بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ

خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں مسلسل یا شدید بارش کے دوران لینڈ سلائیڈنگ سڑکوں کے لیے ایک اہم خطرہ بن جاتی ہے۔ چٹانیں، مٹی اور ملبہ سڑکوں پر آنے سے بعض راستے عارضی طور پر بند ہوسکتے ہیں۔

PDMA کی 14 ستمبر کی صورتحال رپورٹ میں اپر کوہستان کے زیدکھار کے مقام پر شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پٹن سے زیدکھار جانے والی سڑک بند ہونے کی اطلاع دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سڑک کی بحالی کا کام جاری تھا۔

مزید بارشوں کی پیشگوئی

موجودہ صورتحال میں سڑکوں کے متاثر ہونے کا خطرہ اس لیے بھی برقرار ہے کہ محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مزید بارش اور گرج چمک کی پیشگوئی کی ہے۔

پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 15 ستمبر کو خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور دیگر بالائی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان ہے، جبکہ بالائی خیبرپختونخوا کے بعض مقامات پر شدید بارش بھی ہوسکتی ہے۔

این ڈی ایم اے نے بھی 14 سے 17 ستمبر کے دوران بالائی خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کے امکان کے پیش نظر فلیش فلڈ، ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ خطرے والے علاقوں میں دیر، سوات، بونیر، ملاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، نوشہرہ، صوابی، مردان اور پشاور سمیت متعدد علاقے شامل ہیں۔

سڑکوں کی بحالی کا کام جاری

صوبائی محکمہ مواصلات و تعمیرات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ راستوں کی بحالی مختلف مراحل میں جاری ہے۔ بعض سڑکیں مکمل طور پر بحال ہوچکی ہیں جبکہ متعدد مقامات پر جزوی بحالی کا عمل جاری ہے۔

پہاڑی علاقوں میں بحالی کے کام کے دوران موسم اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔ اسی لیے متاثرہ علاقوں میں ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کو صورتحال کے مطابق اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔

شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

این ڈی ایم اے نے شدید بارشوں کے دوران شہریوں کو ندی نالوں، برساتی نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے اور غیرضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے والوں کو لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر تازہ صورتحال اور انتظامیہ کی ہدایات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

خاص طور پر ایسے راستوں پر جہاں پہلے ہی نقصان یا لینڈ سلائیڈنگ رپورٹ ہوچکی ہو، سفر سے قبل سڑک کی موجودہ صورتحال معلوم کرنا ضروری ہے۔

صوبے کے انفراسٹرکچر پر مجموعی دباؤ

خیبرپختونخوا میں رواں بارشوں کے دوران سڑکوں کے علاوہ گھروں اور دیگر انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ این ڈی ایم اے کے 14 ستمبر تک کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے 14 ستمبر تک خیبرپختونخوا میں 4.13 کلومیٹر سڑکیں اور 5 پل متاثر ہوئے ہیں۔

اس صورتحال میں مسلسل بارشیں اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا امکان صوبے کے مواصلاتی نظام کے لیے اضافی چیلنج بن سکتا ہے۔

آئندہ صورتحال

موسمی پیشگوئی کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران بالائی خیبرپختونخوا میں مزید بارشوں کا امکان موجود ہے۔ اگر بارش کی شدت میں اضافہ ہوا تو نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

متعلقہ اداروں کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ سڑکوں کی بحالی مختلف مقامات پر جاری ہے، تاہم مزید بارشوں کے باعث صورتحال میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس لیے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی حالت کے بارے میں مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی تازہ ہدایات کو ترجیح دینا ضروری ہوگا۔

نتیجہ

خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے مختلف اضلاع میں سڑکوں کو متاثر کیا ہے۔ سرکاری صوبائی اعداد و شمار کے مطابق 59 سڑکیں اور 64 مقامات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 21 سڑکیں تاحال مکمل بحالی کی منتظر ہیں۔ مزید بارشوں کی پیشگوئی کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال کا خطرہ برقرار ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو غیرضروری سفر سے گریز اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!