اسلام آباد: ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کردی۔
حالیہ موسمی صورتحال کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارش اور سیلاب کے خطرے کے حوالے سے الرٹس جاری کیے ہیں۔ NDMA کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں اور مقامی ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ بعض علاقوں میں فلیش فلڈ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
وزیراعظم کی اداروں کو پیشگی اقدامات کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر NDMA کو ہدایت کی ہے کہ شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب سے متاثر ہونے والے شہریوں کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں۔
وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے، شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رکھنے پر زور دیا۔
وزیراعظم کی ہدایات کا مقصد کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے پہلے ضروری انتظامات مکمل کرنا اور متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیوں کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
NDMA کی جانب سے مختلف علاقوں کے لیے الرٹ
NDMA کے تازہ الرٹس کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کے امکانات کے باعث سیلاب اور فلیش فلڈ کے خطرات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
NDMA کی جانب سے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور بلوچستان کے بعض علاقوں کے لیے سیلابی خطرے کے الرٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ سندھ اور دیگر علاقوں کے لیے بھی بارشوں سے متعلق انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔
شمالی علاقوں میں گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ (GLOF)، فلیش فلڈ اور ملبے کے بہاؤ کے خطرات بھی زیر نگرانی ہیں۔ NDMA کے مطابق شمالی پاکستان کے لیے 14 سے 20 ستمبر کے دوران GLOF، فلیش فلڈ اور ڈیبرس فلو کے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بارشوں کے دوران عوام احتیاط کریں
موسمی صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ شدید بارش کے دوران ندی نالوں، دریاؤں، برساتی گزرگاہوں اور زیر آب سڑکوں کے قریب غیر ضروری طور پر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔
نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ اسی طرح پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے والے افراد کو لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
صوبائی اداروں کے ساتھ رابطے پر زور
ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ NDMA پہلے ہی مون سون 2026 کے دوران قومی سطح پر ہنگامی تیاری اور مربوط ردعمل کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کر رہا ہے۔
اس مربوط نظام میں NDMA، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے موسمی اور ہائیڈرولوجیکل صورتحال کی نگرانی کرتے ہیں۔
سڑکوں، پلوں اور شہری انفراسٹرکچر پر توجہ
شدید بارشوں کے دوران شہری علاقوں میں نکاسی آب کے نظام پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، جس سے اربن فلڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ NDMA نے مون سون 2026 کے لیے میٹروپولیٹن علاقوں کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں شدید بارش، شہری سیلاب، نکاسی آب اور ہنگامی ردعمل کے لیے پیشگی تیاری پر زور دیا گیا ہے۔
حکام کے لیے ضروری ہے کہ حساس مقامات، نالوں، پلوں اور اہم رابطہ سڑکوں کی نگرانی جاری رکھیں تاکہ کسی بھی رکاوٹ یا سیلابی صورتحال کی صورت میں فوری کارروائی کی جاسکے۔
ہنگامی صورتحال میں بروقت ردعمل ضروری
حالیہ بارشوں کے دوران مختلف علاقوں میں شہری انفراسٹرکچر، سڑکوں اور آبادیوں کو موسمی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے پیشگی تیاری کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایات کے بعد متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حساس علاقوں میں صورتحال کی مسلسل نگرانی کریں، ضروری امدادی سامان دستیاب رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنائیں۔
حکومت کی جانب سے شہریوں کو بھی مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر توجہ دینے کے بجائے NDMA، محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی مستند ہدایات پر عمل کریں۔
ملک میں جاری مون سون سرگرمیوں کے دوران موسمی صورتحال میں تیزی سے تبدیلی ممکن ہے، اس لیے متعلقہ اداروں اور شہریوں دونوں کے لیے محتاط رہنا اور پیشگی حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!