Tuesday, September 15, 2026
تازہ ترین

اسلام آباد میں وزیراعظم کی خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کا آغاز

اسلام آباد میں وزیراعظم کی خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور آٹھ سو سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے اہل غیر تجارتی صارفین کو پیٹرول پر فی لیٹر ایک سو روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے۔ حکومت کے مطابق اسکیم کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کم آمدنی اور متوسط طبقے پر پڑنے والے مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کی خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کا آغاز

اسلام آباد میں وزیراعظم کی خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کا آغاز ہوگیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔ حکومت نے اس اسکیم کے ذریعے خاص طور پر موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کرنے والے کم آمدنی اور متوسط طبقے کے افراد کو ہدف بنایا ہے۔

حکومت کے مطابق اسلام آباد کے لیے اس اسکیم کا عملی آغاز 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب کیا گیا، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس کا اطلاق 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی شب سے کیا جانا ہے۔

پیٹرول ریلیف اسکیم کا بنیادی مقصد

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے کی صورتحال کے باعث عوام پر بڑھنے والے مالی دباؤ کا نوٹس لیتے ہوئے خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کو فوری سہارا فراہم کرنا اس اقدام کا بنیادی مقصد ہے۔

سرکاری معلومات کے مطابق اسکیم کے تحت اہل موٹر سائیکل، رکشہ اور دیگر دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے فی لیٹر ایک سو روپے کے حساب سے پیٹرول ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ آٹھ سو سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے صارفین بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے ریلیف

اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور دیگر دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ماہانہ بیس لیٹر پیٹرول کی بنیاد پر فی لیٹر ایک سو روپے کا ریلیف مقرر کیا گیا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ریلیف کی مالی قدر پانچ سو روپے فی ہفتہ مقرر کی گئی ہے، جو ایک سو روپے فی لیٹر کے حساب سے پانچ لیٹر پیٹرول کے برابر بنتی ہے۔

یہ سہولت ان صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جو روزمرہ آمدورفت، ملازمت، کاروبار یا دیگر ضروری کاموں کے لیے موٹر سائیکل یا رکشہ استعمال کرتے ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافے کی صورت میں روزانہ سفر کرنے والے افراد کے ماہانہ اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اس لیے حکومت نے ریلیف کو براہ راست ایندھن کے استعمال سے منسلک کیا ہے۔

آٹھ سو سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کے لیے سہولت

خصوصی اسکیم میں آٹھ سو سی سی تک انجن رکھنے والی چھوٹی گاڑیوں کے غیر تجارتی صارفین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق ان گاڑیوں کے لیے ماہانہ تیس لیٹر پیٹرول کی بنیاد پر فی لیٹر ایک سو روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے دس دن کی بنیاد پر ایک ہزار روپے کا ریلیف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ماہانہ بنیاد تیس لیٹر پیٹرول پر ایک سو روپے فی لیٹر ریلیف کے حساب سے طے کی گئی ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت غیر تجارتی صارفین تک محدود ہوگی اور ایک صارف یا مالک کو صرف ایک گاڑی کے لیے ریلیف دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں اسکیم کا آغاز

وزیراعظم کی زیر صدارت 14 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اسکیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کے رہائشیوں کے لیے فیول سبسڈی اسکیم 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب سے فعال کردی جائے گی۔

حکومت نے اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شہریوں کو رجسٹریشن، تصدیق اور دیگر ضروری مراحل میں رہنمائی فراہم کی جائے۔ چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس سمیت متعلقہ انتظامی افسران کو بھی فیلڈ میں موجود رہنے اور عوام کی رہنمائی یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

سرکاری بریفنگ کے مطابق اسلام آباد ریجن میں اسکیم کے آغاز کے روز سہ پہر تک چھ لاکھ سے زیادہ ایس ایم ایس موصول ہوچکے تھے، جبکہ ان میں سے 42 ہزار 933 درخواست گزار کامیابی سے رجسٹر ہوچکے تھے۔

رجسٹریشن کے لیے کون سی معلومات درکار ہیں؟

حکومت نے اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ نسبتاً آسان رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق اہل درخواست گزار کو بنیادی طور پر شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کی نمبر پلیٹ، گاڑی کی رجسٹریشن کا صوبہ اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ فراہم کرنا ہوگی۔

سرکاری بریفنگ میں بتایا گیا کہ رجسٹریشن کے لیے یہ چار بنیادی معلومات درکار ہیں۔ وزارت آئی ٹی کے مطابق متعلقہ ڈیجیٹل نظام کا مقصد کم سے کم جانچ پڑتال کے ساتھ اہل افراد تک ریلیف پہنچانا اور اسکیم کے نفاذ میں شفافیت برقرار رکھنا ہے۔

ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن

حکومت نے اہل شہریوں کے لیے ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق درخواست گزار اپنا شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کی نمبر پلیٹ، صوبے کا ابتدائی حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ مقررہ نظام پر بھیج کر اندراج کراسکتے ہیں۔

وزیراعظم نے اسکیم کے لیے ضروری ایس ایم ایس کو مفت کرنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ رجسٹریشن کے عمل میں موبائل پیغام کی لاگت شہریوں کے لیے رکاوٹ نہ بنے۔

رجسٹریشن کے بعد اہل شہریوں کو پیٹرول اسٹیشن جانے سے پہلے فیول ریلیف ٹوکن حاصل کرنے کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔ وزارت آئی ٹی کے مطابق رجسٹرڈ صارف مقررہ نظام کے ذریعے ٹوکن حاصل کرے گا، جس کے بعد متعلقہ فیول اسٹیشن پر ٹوکن کی جانچ کے بعد رعایتی ایندھن فراہم کیا جائے گا۔

ڈیجیٹل نظام کے ذریعے نگرانی

حکومت نے اسکیم کے انتظام اور ریلیف کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل نظام استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مطابق وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن فیول پاس نظام کے ذریعے اسکیم کے ڈیجیٹل انتظام اور ریلیف کی شفاف فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل طریقہ کار سے مستحق صارفین کی شناخت، ریلیف کی فراہمی اور نظام کی نگرانی بہتر انداز میں ممکن ہوگی۔ اس طریقہ کار کا مقصد یہ بھی ہے کہ حکومتی سبسڈی حقیقی طور پر اہل صارفین تک پہنچے اور غیر ضروری یا غلط استعمال کے امکانات کو کم کیا جاسکے۔

حکومت نے کتنے فنڈز مختص کیے؟

وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے لیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا، جس میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی اسکیم کا جائزہ لیا گیا۔

سرکاری طور پر بتایا گیا کہ اس رقم کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہونے والے کم آمدنی والے طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

وزیر پٹرولیم کے مطابق حکومت فیول ریلیف اسکیم کے لیے ماہانہ 25 ارب روپے فراہم کرے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مالی وسائل پر دباؤ کے باوجود کمزور طبقات کو موجودہ صورتحال میں تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسکیم ملک بھر میں کب شروع ہوگی؟

اسلام آباد میں اسکیم کا آغاز پہلے مرحلے میں کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسکیم نافذ کی جائے گی۔

سرکاری اعلان کے مطابق اسلام آباد میں 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب سے ریلیف کا آغاز کیا گیا، جبکہ پاکستان بھر بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی شب سے اس کا اطلاق کیا جانا ہے۔

اس مرحلہ وار نفاذ کا مقصد ڈیجیٹل نظام، رجسٹریشن اور مقامی انتظامی انتظامات کو عملی طور پر فعال بنانا اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

پیٹرول پمپس پر نگرانی کا نظام

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اہل اور رجسٹرڈ شہریوں کو ریلیف کی فراہمی میں کسی قسم کی غیر ضروری رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسلام آباد میں انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہریوں کو اسکیم کے طریقہ کار کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے۔

رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ سستا پیٹرول فراہم کرنے میں ٹال مٹول یا انکار کرنے والے پمپس کی نگرانی کی جائے گی۔ انتظامیہ کو رجسٹرڈ شہریوں کو بلا تعطل ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

اس نگرانی کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی سبسڈی کاغذی کارروائی یا رجسٹریشن تک محدود نہ رہے بلکہ اہل صارفین کو عملی طور پر پیٹرول کی خریداری کے وقت اس کا فائدہ حاصل ہو۔

عوام کے لیے اسکیم کی اہمیت

پیٹرول کی قیمت میں اضافہ براہ راست صرف گاڑی چلانے والوں کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات روزمرہ نقل و حمل، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور دیگر اخراجات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے کم آمدنی والے افراد کے لیے ایندھن کے اخراجات گھریلو بجٹ کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے مخصوص صارفین کو ہدف بنانے والی اسکیم اختیار کی ہے۔ اس طریقے میں ریلیف کو ان گاڑیوں اور صارفین تک محدود کیا گیا ہے جنہیں حکومت نے کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لیے زیادہ متعلقہ سمجھا ہے۔

آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کو شامل کیے جانے سے ان شہریوں کو بھی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے جو موٹر سائیکل کے بجائے چھوٹی گاڑی استعمال کرتے ہیں لیکن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ان کے ماہانہ اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

اسکیم کی شفافیت اور اہلیت

اسکیم کی کامیابی کا ایک اہم پہلو اہلیت کی درست جانچ اور ریلیف کی شفاف فراہمی ہوگا۔ حکومت نے غیر تجارتی صارفین کو اسکیم میں شامل کرنے اور ایک صارف یا مالک کے لیے صرف ایک گاڑی تک ریلیف محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈیجیٹل فیول پاس نظام کے ذریعے درخواست، تصدیق اور ریلیف کی فراہمی کو منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے حکومت کو یہ جانچنے میں مدد مل سکتی ہے کہ ریلیف مقررہ گاڑی اور اہل صارف کو ہی فراہم کیا جارہا ہے۔

تاہم اسکیم کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ رجسٹریشن، ٹوکن کے اجرا، ڈیجیٹل تصدیق اور پیٹرول پمپس پر ریلیف کی فراہمی کا عمل عوام کے لیے کس قدر آسان اور مؤثر رہتا ہے۔

حکومت کی آگاہی مہم

وزیراعظم نے اسکیم کی کامیابی کے لیے وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری ہدایات کے مطابق پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع استعمال کرکے شہریوں کو رجسٹریشن اور ریلیف حاصل کرنے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے عوامی نمائندوں اور رضاکاروں کو بھی شہریوں کی رہنمائی کے لیے متحرک کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ خاص طور پر وہ افراد جو ڈیجیٹل طریقہ کار سے زیادہ واقف نہیں، وہ بھی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری مراحل مکمل کرسکیں۔

آگے کیا ہوگا؟

اسلام آباد میں عملی آغاز کے بعد حکومت کے لیے اگلا اہم مرحلہ ملک کے دیگر علاقوں میں اسکیم کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا ہے۔ اس کے لیے رجسٹریشن کے نظام، اہل صارفین کی تصدیق، پیٹرول اسٹیشنوں پر ٹوکن کی جانچ اور ریلیف کی بروقت فراہمی کو مربوط رکھنا ضروری ہوگا۔

حکومت پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ اسلام آباد کے بعد ملک بھر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی اسکیم کا نفاذ کیا جائے گا۔ اس دوران عوام کی جانب سے رجسٹریشن کے عمل، ریلیف کی فراہمی اور پیٹرول پمپس پر عملی صورتحال کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات اسکیم کے ابتدائی نتائج کا اہم پیمانہ ہوں گی۔

نتیجہ

وزیراعظم کی خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کا اسلام آباد میں آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی عوامی اخراجات پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ حکومت نے اس صورتحال میں عمومی ریلیف کے بجائے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور آٹھ سو سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے غیر تجارتی صارفین کو ہدف بنایا ہے۔

فی لیٹر ایک سو روپے کے ریلیف، ڈیجیٹل رجسٹریشن، فیول ٹوکن اور نگرانی کے نظام کے ذریعے حکومت نے ایک ایسا طریقہ کار متعارف کرانے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے سبسڈی براہ راست اہل صارفین تک پہنچائی جاسکے۔

اسلام آباد میں آغاز کے بعد ملک کے دیگر علاقوں میں اس اسکیم کا نفاذ اس اقدام کا اگلا مرحلہ ہوگا۔ اب اس کی اصل کامیابی کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ اہل شہری کتنی آسانی سے رجسٹر ہوتے ہیں، انہیں مقررہ ریلیف بروقت ملتا ہے یا نہیں، اور عملی سطح پر پیٹرول پمپس پر اسکیم کس حد تک مؤثر انداز میں نافذ کی جاتی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!